پی ٹی وی.... بے لاگ تنقید

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

کسی کا عشق میں پاگل اگر ہونا ضروری ہو
دعا لے وہ رقیبوں سے تمنا اس کی پوری ہو
یہ دیکھا ہے کہ جب ایم ڈی کی نیت ٹھیک رہتی ہے
تو ”ٹی وی کارپوریشن“ بھی کم تکلیف سہتی ہے
ادارہ کوئی بھی تب تک خسارے میں نہیں جاتا
کہ جب تک نقص اسکی سربراہی میں نہیں آتا
اگر ہو منتظم اچھا، شکایت سب کی سنتا ہے
جو اچھا کام کرتے ہیں وہ اول ان کو چنتا ہے
یہی خوبی ہے یوسف بیگ مرزا میں ہیں سب کہتے
پرانے اور نئے فن کار سب اس سے ہیں خوش رہتے
کسی بھی محکمے میں حاکم اعلیٰ ہو گر اچھا
تو وہ سچ کی ہے کرتا قدر، گر خود بھی ہو وہ سچا
ہمیں ہر محکمے میں اچھے لوگوں کی ضرورت ہے
نہیں درکار ”جھوٹے“، سچے لوگوں کی ضرورت ہے
سفارش سے جو ہو جاتے ہیں بھرتی، کچھ نہیں کرتے
برے ہوں خود جو وہ اچھوں پہ بھی الزام ہیں دھرتے
کچھ ایسے لوگ ہیں ”نشری اداروں“ میں گھسے بیٹھے
بجائے کام کے جو، سازشوں میں مست ہیں رہتے
ضرورت جب ہو دفتر میں وہ اکثر گھر میں ہوتے ہیں
جو آجائیں بھی دفتر تو وہ کرسی پہ سوتے ہیں
ڈرامہ وہ کریں پروڈیوس تو ناکام ہوتا ہے
کہ جلدی میں لکھے سکرپٹ میں ابہام ہوتا ہے
پسندیدہ وہ ”نااہلوں“ کو آگے لے کے آتے ہیں
کہ جن کے ساتھ وہ شاموں کو مل کر پیتے کھاتے ہیں
مگر فرخ بشیر، امجد بخاری جیسے مخلص ہی
اور ایسے چند جن پر فخر کر سکتا ہے پی ٹی وی
جو اس قومی ادارے کو بجا پہچان دیتے ہیں
کہ جتنا اہل ہو اس کو وہ اتنا مان دیتے ہیں