آسٹریلوی ٹیم نے سپنرز کی وجہ سے شکست کھائی

محمد صدیق .....
ورلڈکپ کے دوسرے کوارٹرفائنل میں بھارت نے آسٹریلیا کو 5 وکٹوں سے ہرا کر پاکستان کیخلاف سیمی فائنل کیلئے جگہ بنا لی۔ ورلڈکپ کرکٹ کا بخار ویسے ہی اپنے عروج پر ہے اور پاکستان بھارت کے درمیان کرکٹ کا سیمی فائنل خدا پناہ؟ اور ابھی اس میچ میں 6 دن کا وقفہ ہے۔ ان 6 دنوں میں کیا ہو گا، تمام کاروبار ٹھپ، جگہ جگہ اس میچ کے متعلق اچھے برے تبصرے اور سب سے بڑا تبصرہ یہی ہو گا کہ یہ میچ کون جیتے گا! ورلڈکپ ابھی جاری ہے مگر لگتا ہے 30 مارچ کو موہالی بھارت میں ورلڈکپ کا فائنل ہو رہا ہے۔ بھارت کیخلاف آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا۔ آسٹریلین کپتان کی یہی ایک بری عادت اسے ورلڈکپ سے باہر کر گئی جو ٹاس جیت کر پاکستان کیخلاف بھی کھیلے اور ہار گئے۔ آج بھارت کیخلاف بھی پہلے کھیل کر ہار گئے حالانکہ کل کے تبصرے میں، میں نے یہی لکھا تھا کہ آسٹریلیا بھارت سے مضبوط ٹیم ہے مگر یہ میچ دوسرے وقت بیٹنگ والی ٹیم جیتے گی۔ آسٹریلین کپتان سنچری تو بنا گئے اور 260 سکور بھی اچھا کر گئے مگر سپنر زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے ہار گئے۔ اس ورلڈکپ کے شروع میں وکٹ سردی کی وجہ سے گرین تھی اور فاسٹ باولر کامیاب ہوتے رہے مگر اب زیادہ گرمی کی وجہ سے وکٹ سوکھی ہیں اور سپنر کامیاب ہو رہے ہیں خیر یہی لکھوں گا کہ آسٹریلیا مضبوط ٹیم تھی مگر ہار گئی۔ آج تیسرا کوارٹرفائنل نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلا جا رہا ہے اور اس میچ کا نتیجہ بھی ٹیموں کی حالیہ کارکردگی اور طاقت پر لگایا جا سکتا ہے۔ میرے نزدیک کوارٹرفائنل کی 8 ٹیموں میں دو ٹیمیں ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ ہی ہیں۔ ویسٹ انڈیز پاکستان سے ہار گئی، آج جنوبی افریقہ کی جیت ہو سکتی ہے۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم جنوبی افریقہ کے مقابلے میں کافی کمزور نظر آتی ہے اور شکست سے دوچار ہو گی۔