ایک بار پھر ........

کالم نگار  |  جاوید صدیق
ایک بار پھر ........

یہ پہلی بار نہیں ہوا۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کی تاریخ میں یہ پہلے بھی کئی دفعہ ہو چکا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں جب سرد جنگ اپنے عروج پر تھی تو پاکستان امریکہ کے حلقہ اثر میں تھا۔ پاکستان امریکہ کے کہنے پر کمیونزم مخالف اتحادوں سیٹو اور سینٹو میں شامل ہوا تھا۔ پاکستان نے جنرل ایوب خان کے دور حکومت میں امریکہ کو پشاور کے قریب بڈھ بیر میں ایک ہوائی اڈہ بنانے کی اجازت دی جو امریکہ نے روس کی حساس تنصیبات کی جاسوسی کے لئے استعمال کرنا شروع کیا۔ اس ہوائی اڈے سے اڑنے والے ایک امریکی جاسوس طیارے یو ٹو کو روس نے مار گرایا تھا۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان اور اس وقت کی سپر پاور سویت یونین کے تعلقات میں بگاڑ پیدا ہوا۔ جسے اب ٹھیک کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
1965ءمیں جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان کے اس وقت کے صدر جنرل ایوب خان نے امریکی صدر کو خط لکھا اور انہیں یاد دلایا کہ پاکستان سیٹو اور سینٹو کا رکن ہے۔ ان علاقوں کے تحت اگر کسی رکن ملک کے خلاف جارحیت ہوتی ہے تو دوسرے رکن ممالک اس کی مدد کریں گے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی ہے ہماری مدد کی جائے۔اس خط کے جواب میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ سیٹو اور سینٹو معاہدوں کے تحت اگر کسی رکن ملک کے خلاف کوئی کمیونسٹ ملک حملہ کرے تو اس کی امداد کی جا سکتی ہے بھارت کمیونسٹ ملک نہیں ہے اس لئے پاکستان کی امداد نہیں کی جا سکتی۔ امریکہ نے نہ صرف پاکستان کو صاف جواب دے دیا تھا بلکہ پاکستان کے لئے اپنی فوجی اور معاشی امداد بھی بند کردی۔ امریکہ کے اس رویہ سے نالاں ہو کر اس وقت کے پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان نے اپنی مشہور کتاب ”فرینڈز ناٹ ماسٹرز“ لکھی تھی۔ پاکستان نے امریکہ کے اس رویہ کے بعد چین کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کا آغاز کیا تھا۔
1978ءمیں سوویت یونین کی سرخ فوج افغانستان میں داخل ہوئی تو امریکہ نے پاکستان کو قریب کر لیا۔ سوویت فوج کو افغانستان سے نکالنے کے لئے جہاد کو پروموٹ کیا گیا۔ اربوں ڈالر مجاہدین کی امداد پر صرف کئے گئے۔ مجاہدین کو اسلحہ دیا گیا۔ دنیا بھر سے خاص طور پر عرب ملکوں سے مجاہدین کو افغانستان کی جنگ آزادی لڑنے کے لئے افغانستان لایا گیا۔ ان عرب مجاہدین میں اسامہ بن لادن‘ ایمن الظواہری شامل تھے۔ 1989ءمیں سوویت فوج شکست سے دوچار ہو کر افغانستان سے نکلی تو امریکہ کا بڑا مقصد پورا ہو گیا۔ 1989ءمیں ہی امریکہ نے پریسلر ترمیم کے تحت پاکستان کی اقتصادی اور فوجی امداد یہ کہہ کر بند کر دی کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار تیار کر رہا ہے۔ اگلے دس برس یعنی 1989ءسے 1999ءتک پاکستان کے لئے امریکی معاشی اور فوجی امداد مکمل طور پر بند رہی۔ پاکستان پر اس دور میں ہر وقت بین الاقوامی معاشی اداروں عالمی بنک‘ آئی ایم ایف کے قرضوں پر ڈیفالٹ ہونے کی تلوار لٹکی رہتی تھی۔ ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر تین چار سو ملین ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتے تھے۔
پھر جب نائن الیون ہوا تو امریکہ کو ایک مرتبہ پھر پاکستان کی ضرورت پڑ گئی۔ جنرل مشرف اس وقت ٹیک اوور کر چکے تھے اور انہوں نے امریکہ کے دبا¶ کے تحت افغانستان میں طالبان کی حکومت گرانے میں نیٹو فورسز کی معاونت کی جو 80ءکی دہائی میں مجاہدین کی شکل میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی آنکھ کا تارا تھے۔ انہیں دہشت گرد قرار دیا گیا اور ان کیخلاف آپریشن میں پاکستان فرنٹ لائن سٹیٹ بن گیا۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے ستر ہزار جانیں ضائع کیں۔ ایک کھرب ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھایا۔ پاکستان نے اپنی سرزمین پر فوجی آپریشن کئے۔ اس کے باوجود امریکہ پاکستان کی کوششوں سے مطمئن نہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئی افغان پالیسی کا اعلان کیا ہے ‘ پاکستان کو دھمکیاں دی گئی ہیں۔ امریکہ اب بھارت کی پیٹھ ٹھونک رہا ہے اور افغانستان بھی بھارت کو بڑا کردار دینے کی بات کر رہا ہے۔ اب شاید امریکہ بھارت کو پاکستان کیخلاف استعمال کرے گا۔ ممکن ہے کہ وہ بھارت کوپاکستان کیخلاف ”سرجیکل سٹرائیکس“ کرنے کے لئے اکسائے اور اس طرح بھارت کا یہ خواب پورا ہو جائے۔
٭٭٭٭٭