خوددار پاکستان مہم کا شاندار آغاز

کالم نگار  |  نعیم احمد
خوددار پاکستان مہم کا شاندار آغاز

قیامِ پاکستان خودداری¿ مسلم کا ایک شاندارمظہر ہے۔ جابر انگریز سامراج اور متعصب ہندو اکثریت کی طرف سے مسلمانانِ ہند کی خودداری اور عزت نفس کی پے در پے پامالی نے تحریکِ پاکستان کی بنیادیں تیار کیں۔ اس ناروا سلوک نے مسلمانوں میں اپنے اسلامی تشخص کے تحفظ کے عزم کی آبیاری کی۔ علامہ محمد اقبالؒ نے ان کے عالی مرتبت آباءکے کارہائے نمایاں اور قابلِ فخر تاریخ کے متعلق اُن میں احساسِ تفاخر بیدار کیا جبکہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے انہیں باور کرایا کہ ”آپ ایسی قوم ہیں جس کی تاریخ حیرت انگیز طور پر بلند کردار‘ بلند حوصلہ‘ شجاع اور اولوالعزم ہستیوں سے بھری پڑی ہے۔ اپنی روایات کی رسی مضبوطی سے تھام لیجئے اور اپنی تاریخ میں شان و شوکت کے ایک اور باب کا اضافہ کیجئے۔“ درحقیقت قیامِ پاکستان انہی غیور رہنماﺅں اور ان کے خوددار پیروکاروں کی جدوجہد کا ثمرِ شیریں ہے۔ پاکستانی قوم کی یہ خودداری اغیار کو ایک آنکھ نہیں بھاتی اور وہ اسے زک پہنچانے کے نت نئے طریقے دریافت کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ چند ہفتے قبل امریکہ بہادر کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے وقت پاکستان کے خلاف پھٹ پڑے۔ نہ صرف بے بنیاد الزام تراشی کی بلکہ سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دے ڈالیں۔ کسی خودمختار ملک کے خلاف ایسی زبان سفارتی آداب کے منافی تصور کی جاتی ہے مگر ڈونلڈٹرمپ کو کون سمجھائے‘ وہ ان باتوں سے مبرّاہے۔ نتیجتاً پاک امریکہ تعلقات میں خاصی دراڑیں پڑگئیں۔ پاکستان کے اندر امریکہ مخالف جذبات مزید بھڑک اُٹھے۔ پوری پاکستانی قوم فروعی اختلافات بھلا کر دو نکات پر متحد ہوگئی: اول‘ امریکہ کی دھمکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہونا اور دوم‘ بھارت کو خطے کی بالادست طاقت تسلیم کرنے کی امریکی خواہش کو جوتے کی نوک پر رکھنا۔ خودداری کی یہ لہر نہایت خوش آئند ہے اور عالمی برادری میں خود کو ایک باوقار قوم کے طور پر سربلند کرنے کی طرف اہم قدم ہے۔ امریکی ڈالروں پر پلنے والے غلام ذہنیت کے حامل نام نہاد دانشور اگرچہ پاکستان پر امریکہ کے احسانات کا بڑی شدومد سے پرچار کررہے ہیں مگر اس توہین آمیز خطاب نے پاکستانی قوم کے سوادِاعظم کی اجتماعی نفسیات میں انقلابی تبدیلی پیدا کر دی ہے۔ انہیں یقینِ کامل ہو چکا ہے کہ امریکہ ایک بے وفا اور خودغرض ملک ہے جو اپنا مطلب پورا ہونے پر ہمیشہ آنکھیں پھیر لیتا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی افغان طالبان کے حوالے سے خودغرضی پر مبنی پالیسی کے باعث ہی دہشت گردی کا عفریت بے قابو ہوا جس نے 60ہزار سے زائد پاکستانیوں کو خاک و خون میں نہلادیا۔ پاکستان نے امریکہ کے دباﺅ اور دھونس کی وجہ سے دہشت گردی کے خلاف پرائی جنگ کو اپنے گلے کا ہار پہنایا اور فرنٹ لائن اتحادی کا شرف حاصل کیا۔ آج اسی پاکستان پر دہشت گردوں کی سرپرستی اور اُنہیں پناہ دینے کا الزام عائد کیاجارہا ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے ازلی دشمن بھارت کو افغانستان میں قدم جمانے کا موقع دے کر پاکستان کو عدم استحکام کا شکار بنایا جارہا ہے۔ امریکہ نے جس طرح آنکھیں پھیری ہیں‘ وہ پاکستان کے حکمران طبقات کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ عوام تو پہلے ہی دوست نما دشمن سے بہت نالاں تھے۔ اللہ پاک کا شکر ہے کہ اب پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت نے بھی جرا¿ت ایمانی پر مبنی ردِعمل سے پاکستانی قوم کی حقیقی امنگوں کی ترجمانی کی ہے نیز ایک خوددار ملک اور غیور قوم کی حیثیت سے پاکستان کا تاثر مضبوط کیا ہے۔ مفکر پاکستان نے مسلمانوں کو خودی یا خودشناسی کا جو درس دیا تھا‘ آج کا پاکستان اس کی عملی تعبیر دکھائی دے رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس جذبے اور عزم کو پائیدار بنیادوں پر استوار کیاجائے۔ اس تناظر میں نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے ملک گیر سطح پر ”خوددار پاکستان مہم“ کا آغاز کیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ایک خوددار قوم اور خودمختار ملک ہونے کے حوالے سے عوام کا شعور بیدار کیاجائے اور انہیں خطے میں تیزی سے تبدیل ہوتی صورتحال سے پیدا شدہ چیلنجز سے عہدہ برآءہونے کے لیے تیار کیا جائے۔ چنانچہ اس ضمن میں ایک فکری نشست بعنوان ”خوددار پاکستان.... تقاضے اور امکانات“ منعقد کی گئی جس کی صدارت نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کی۔ اس نشست کے کلیدی مقرر کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (CPNE)کے صدر‘ ممتاز صحافی اور دانشور ضیاءشاہد تھے۔ نشست کے حاضرین کے نام اپنے پیغام میں تحریکِ پاکستان کے مخلص کارکن‘ سابق صدر مملکت اور نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین جناب محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ پاکستانی قوم بھوک پیاس برداشت کرسکتی ہے مگر اپنی خودداری اور حاکمیت اعلیٰ پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ ضیاءشاہد نے اپنے خطاب میں برملا کہاکہ خوددار ملک بننے کی خاطر ہمیں غیر ملکی امداد اور قرضوں سے نجات حاصل کرنا ہوگی اور خود کفالت‘ کفایت شعاری اور سادگی کو اپنے قومی کردار کا حصہ بنانا ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ قدرت نے ہمیں بیش بہا مالی وسائل عطا فرمائے ہیں جن کے منصفانہ استعمال کی بدولت ہم پاکستان کو معاشی لحاظ سے انتہائی مستحکم ریاست بناسکتے ہیں۔ نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہدرشید نے نشست کی نظامت کے فرائض ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم بحیثیت قوم خودداری کا مظاہرہ اور کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے گریز کریں گے تو دنیا ہماری عزت کرے گی اور افغانستان و بھارت کے حوالے سے ہمارے مو¿قف کی تائید کرے گی۔