استعفیٰ یا استثنیٰ اور صحافت کے پچاس سال

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
استعفیٰ یا استثنیٰ اور صحافت کے پچاس سال

وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے استعفیٰ تو نہیں دیا مگر وزیراعظم کو تین ماہ کی چھٹی کی درخواست دے کر اپنی وزارت پر کام کرنے سے معذوری کا اظہار ضروری کر دیا ہے۔ وہ استعفیٰ کے مطالبے سے پہلے ہمت کرلیتے تو بہت اچھا ہوتا۔ ہمارے ہاں استعفیٰ کا مطالبہ ہوتا رہتا ہے۔ بھارت میں ریلوے حادثہ ہوتا ہے تو وہاں وزیر ریلوے استعفیٰ دے دیتے ہیں۔ کیا خواجہ سعد رفیق بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں یہ کلچر زندہ رہا مگر اب ہٹ دھرمی کا رواج زور پکڑگیا ہے۔ اسحاق ڈار کے وعدہ معاف گواہ بننے کا خطرہ موجود ہے۔ وہ جیل سے بچنے کے لئے کوئی بھی فیصلہ کرسکتے ہیں۔ 

احتساب عدالت میں نوازشریف نے صحافیوں سے پوچھا کہ آج کی تازہ خبر کیا ہے اور مجھ سے کچھ پوچھیں۔ صحافیوں نے کہا کہ استثنیٰ کے باوجود آپ عدالت میں کیوں آئے جس پر وہ صرف مسکرا دئیے۔ ایک صحافی کی پتلون کی جیب سے بٹوا باہر آرہا تھا۔ نوازشریف نے کہا کچھ گر رہا ہے۔ اسے سنبھالیں۔ کسی نے نکال لیا تو الزام مجھ پر آئے گا تو عدالت میں ایک قہقہہ گونجا جس پر جج صاحب برہم ہوئے۔ اس قسم کے الزام کچھ لوگوں کے لئے انعام ہوتے ہیں۔
دانشور اور دلیر سیاستدان ڈاکٹر بابر اعوان نے بہت خوبصورت اور معنی خیز تبصرہ کیا۔ نوازشریف کی کیا نظر ہے کہ صحافی کی جیب میں بھی بٹوا دیکھ لیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی اس بات کو نوازشریف کے ماضی کے آئینے میں دیکھنے کی کوشش کرنے کے لئے کہا ہے۔
فیض آباد کے دھرنے میں کئی مظاہرین کے بٹوے چوری ہوگئے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ کام حکمرانوں کی ہدایت پر پولیس والوں کا ہے اس دھرنے میں ”دھر رگڑا“ جیسی بات بھی ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی مظاہرین کے پاس آجاتے بے شک پروٹوکول اور سکیورٹی کے ساتھ آتے۔ ایسی روایت تو پڑے کہ حکمران حریف نہیں ہیں۔ وہ حلیف نہ ہوں مگر حریف بھی نہ بنیں۔
وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ مسلم لیگ ن کے رہنما ریاض پیرزادہ نے ایک دلیرانہ اور سچی بات کی ہے کہ چودھری نثار ہوتے تو دھرنا کنٹرول کرلیتے۔ تو پھر کیوں چودھری نثار کو کوئی اہم ذمہ داری نہیں دی جاتی۔ ریاض پیرزادہ بہادر اور بے باک آدمی ہیں۔ مسلم لیگ ن میں ہیں تو وہ ن لیگ کو ایک فیملی جماعت بننے کی اجازت کیوں دیتے ہیں۔ حکومتی معاملات کے لئے تو لوگوں کے مفادات ہونگے۔ جماعتی معاملات میں تو چودھری صاحب سے مشاورت کریں۔
ڈاکٹر بابر اعوان پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ اس کے ساتھ رانا آفتاب بھی پیپلز پارٹی سے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ دونوں سیاسی شخصیات قابل اعتماد ہیں یہ ایک اچھی خبر ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان ایک دانشور آدمی ہیں۔ وہ دوستوں کے دوست ہیں۔ مگر کسی سیاستدان کے لئے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ دشمنوں کے دشمن ہیں؟ وہ ہوں بھی تو اس کا اعلان نہیں کرتے۔ ڈاکٹر صاحب اہل اور اہم آدمی ہیں۔ وہ وفا اور دوستی کے سارے رازوں سے واقف ہیں۔ وہ دوستوں کے کام آنے والے آدمی ہیں۔ ان کی محفل بہت دوستانہ اور بہت کشادہ ہوتی ہے۔
رانا آفتاب صاحب بھی خاندانی آدمی ہیں۔ وہ اپنے لوگوں میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی اپنے شہر فیصل آباد کو نہیں چھوڑا۔ ایک بار یہاں سب سے بڑی خاتون لیڈر بے نظیر بھٹو بھی فیصل آباد میں رانا صاحب کے گھر آئی تھیں۔ ان کی عظیم ماں سے مل کر بہت خوش ہوئی تھیں۔
برادرم عمران خان کو مبارک ہو کہ اب بہت اہل اور اہل دل لوگ تحریک انصاف میں شامل ہو رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں کی طاقت اور دوستی سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ تو کھلا سچ ہے کہ عمران خان روایتی سیاستدان نہیں ہیں تو پھر اس طرح کے لوگ ان کے دست و بازو بن سکتے ہیں۔ میں نے برادرم ڈاکٹر بابر اعوان سے زیادہ اچھی گفتگو کرتے سیاسی شعبے میں کسی کو نہیں دیکھا۔ ان کے ساتھ دوستی اعزاز کی طرح ہے۔ رانا صاحب دیہاتی، دانش اور با وقار سادگی کے آدمی ہےں۔ بہادر اور کھلے ڈھلے آدمی ہیں۔
چوہدری نثار کے لئے میری رائے بہت اونچی ہے مگر ن لیگ نے اس بیش بہا شخص سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا۔ محترم ریاض پیرزادہ نے ایک نسبتاً چھوٹے معاملے کے آئینے میں چودھری نثار کی اہلیتوں کو بیان کیا۔ میرے خیال میں چودھری نثار بہت بڑے آدمی ہیں۔ اس دور میں اتنا بے لوث آدمی کم کم نظر آتا ہے۔ میں اسلام آباد جاﺅں تو سیاستدانوں سے کم کم ملاقات ہوتی ہے۔ مگر میں چودھری نثار سے ضرور ملتا ہوں۔ اس میں نوائے وقت اخبار کا ذکر بھی ضرور ہے۔ ایک تو یہ کہ چودھری نثار نوائے وقت ضرور پڑھتے ہیں۔ نوائے وقت اسلام آباد میں برادرم نواز رضا کے ساتھ چودھری صاحب سے رابطہ آسانی سے ہو جاتا ہے۔
اپنے سینئر قابل قدر اور صحافت کے لیڈروں میں ایک جناب ضیا شاہد کو صحافت کی 50 سالہ خدمات کے لئے خراج تحسین پیش کرتا ہوں وہ ایک سیلف میڈ آدمی ہیں اور ایک بڑے ایڈیٹر ہونے کے باوجود اب تک ایک ورکنگ جرنلسٹ ہیں وہ ایک اہم اور قابل قدر ادیب بھی ہیں۔ ان کی اہلیتوں کو اس کا بھی فائدہ رہا ہے کہ وہ عربی ادب میں ایم اے کئے ہوئے ہیں۔ ساری عمر صحافت کے شعبے کے ساتھ ان کی وابستگی وارفتگی بنی ہوئی ہے۔ اس وقت وہ ایک بڑے صحافی ہیں۔ صحافت میں بڑی بڑی معرکہ آرائی انہوں نے کی ہے۔ انہوں نے چند بڑی کتابیں بھی لکھی ہوئی ہیں ان کا ایک بے مثال فرزند مرحوم عدنان شاہد گورنمنٹ کالج لاہور میں میرا شاگرد تھا۔ میں اس کی صلاحیتوں کا سب سے بڑا گواہ ہوں۔ وہ مخلص اور کمٹڈ نوجوان تھا۔ اس کے غم کوضیا شاہد نے بہت محسوس کیا۔ عدنان شاہد کے بھائی امتنان شاہد اپنے والد کے بیٹے بھی ہیں اور ان کے ساتھی بھی ہیں وہ ساری صحافیانہ مصروفیتوں میں اپنے والد کے شریک کار ہیں۔ صحافیانہ سیاست میں ایک لیڈر کی طرح ضیا شاہد ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔ وہ مجید نظامی کو اپنا لیڈر مانتے ہیں۔ نظامی صاحب ان کو پسند کرتے تھے۔
٭٭٭٭٭