تلفظ کے ذکر سے ”فرہنگ تلفظ“ تک

کالم نگار  |  نصرت جاوید
تلفظ کے ذکر سے ”فرہنگ تلفظ“ تک

ذات کا رپورٹر ہوں۔ عمر اس ملک کی سیاست کے اُتار چڑھاﺅ کے بارے میں رپورٹنگ کی نذر کردی۔ اُتار چڑھاﺅ شاید غلط ہے۔ دائرے میں سفر ہے، پنجابی محاورے کی گدھی ہے جو گھوم گھام کر آنے والی تھاں پر واپس آجاتی ہے۔ سکرپٹ وہی ہے اس کے نئے ورژن تیار ہوتے رہتے ہیں۔ مشہور فلموں کا Remake۔ دلیپ کمار کی دیوداس کے بعد شاہ رخ خان کی دیوداس-کہانی وہی۔ اداکار نئے۔

ان دنوں نوازشریف صاحب ”نظریاتی“ ہونے کے دعویدار ہیں۔ ملک غلام محمد مگر موجود نہیں۔ جسٹس منیر والا ”نظریہ ضرورت“ بھی کھل کر سامنے نہیں آ رہا۔ جرم ”اقامہ“ ہے۔ اب الزامات ظاہر شدہ اثاثوں سے تقابل نہ رکھنے والی طرز زندگی کے ہیں۔ احتساب عدالت میں پیشیاں ہیں۔ حکومت مگر نواز شریف ہی کے نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی کی ہے جن پر آئینی اعتبار سے اس ملک کے ”چیف ایگزیکٹو“ ہونے کی تہمت بھی ہے۔ Beckettکا ڈرامہ ہے۔ Godotکا انتظار ہے لیکن پنجابی گیت والا ماہی ”خورے کتھے رہ گیا۔“ وہ آبھی گیا تومنیر نیازی نے کہا تھا کہ ”مل بھی گیا تو پھر کیا ہوگا“ کیونکہ ”لاکھوں ملتے دیکھتے ہیں“۔ صوفی تبسم صاحب نے بھی چمن کو سو بار مہکتے دیکھا تھا۔ اتنی ہی بار بہار بھی آئی تھی۔ ”دل کی مگر وہی تنہائی“۔
سیاسی موضوعات پرلکھنے سے گریز کی تڑپ شدید ہے۔ لکھنے کے ہنر سے محرومی کی وجہ سے دوسرے موضوعات پر لکھنے کا حوصلہ نہیں پاتا۔ زمانہ ہمارا ویسے بھی Ratingsکا ہے۔ کالم اخبار میں چھپنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ پر چڑھ جاتا ہے۔ فیس بک پر اسے Likes درکار ہیں۔ Twitter پر Retweets کی ضرورت ہے۔ ”مقبولیت“ کے نئے پیمانے۔ ان پیمانوں پر غور کریں تو دریافت یہ بھی ہوتا ہے کہ قارئین کی اکثریت کو سیاست دانوں کی مذمت درکار ہے۔ چسکے بھری کہانیاں جو سیاست دانوں کو ہوس زر میں مبتلا ہوئے کچھ بھی کرنے کو تیار ثابت کریں اور ان کہانیوں کو بیان کرنے والے کی ”جرا¿ت“ کو سراہیں۔ اپنی ”جرا¿ت“ کی حد میں کئی برس قبل مگر دریافت کرچکا ہوں۔ ”ربّ نیڑے کہ گھسن“ والا سوال ہر وقت ذہن میں گونجتا رہتا ہے۔ قلم کو بہت سارے علاقوں کی طرف جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ نیویں نیویں رہتے ہوئے رزق کمانے کے ڈھنگ تلاش کرتا رہتا ہوں۔
سیاست سے گریز کی حالت میں گزشتہ ہفتے ”ڈان“ اخبار میں چھپے ایک مضمون پر نگاہ پڑی تو دریافت ہوا کہ ”فرہنگِ تلفظ“ شائع ہوگئی ہے۔ اُردو لغت کے حوالے سے ایک بڑے نام ”شان الحق حقی“ نے اسے مرتب کیا تھا۔ اس فرہنگ کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے مضمون نگار نے بہت درد مندی سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تھا کہ کاش ہمارے ٹی وی اینکرز اس سے رجوع کرنے کی عادت اپنائیں تاکہ Mass Mediaکے ذریعے زبان کی جو بے دریغ ایسی تیسی ہورہی ہے،اس سے نجات کا راستہ بنے۔
”فرہنگِ تلفظ“ کو ”اداریہ فروغ قومی زبان“ نے شائع کیا ہے۔ اس ادارے کا ذکر ہوا تو یاد آیا کہ بھائی افتخار عارف اس کے سربراہ ہیں۔ عرصہ ہوا ان سے دُعا سلام بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوری کو ڈھٹائی سے نظرانداز کرتے ہوئے ان کا فون نمبر تلاش کیا۔ مل گیا تو جھٹ سے رابطہ کیا اور مزید ڈھٹائی سے اس کتاب کو ”تحفہ“ کہتے ہوئے مفت حاصل کرنے کا تقاضہ کردیا۔ اس ہفتے کے آغاز والی پیر کی صبح یہ فرہنگ بھائی نے گھر بھجوادی۔ عجیب اتفاق یہ بھی ہوا کہ جس صبح وہ کتاب میرے ہاں پہنچی اس روز میرے ایک بھائیوں جیسے دوست چکوال سے ریوڑیوں کی سوغات لے کرمجھ سے ملنے آئے۔ انہیں مطالعے کا شوق ہے مگر اس شوق کو شیخی کی صورت ظاہر نہیں کرتے۔ لکھنے سے رزق بھی نہیں کماتے۔ انہیں رخصت کرنے کے لئے گھر سے باہر آیا تو ان کی گاڑی کی عقبی نشست پر یہ فرہنگ رکھی نظر آئی۔ یہ بات عیاں تھی کہ انہوں نے اپنی اسلام آباد موجودگی کے دوران اسے ڈھونڈ کر خریدا تھا۔ دل میں اس کتاب کو افتخار عارف سے ”بھتہ“ کی صورت وصول کرنے پر بہت شرمسار ہوا۔
لکھنا اور بولنا میرا پیشہ ہے۔ اس پیشے کے حوالے یہ ”فرہنگ“ میرا خام مال ہونا چاہیے تھا اور اسے خریدنا اپنے رزق کی خاطر ضروری بھی۔ مفت بری مگر ہم لوگوں کی فطرت میں شامل ہے۔ دھواں دھار الفاظ میں اگرچہ ہم مذمت اپنے اثرواختیار سے ”ناجائز“ فائدہ اٹھانے والوں کی ہمہ وقت کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال ”فرہنگِ تلفظ“ میرے سرہانے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ابھی تک میں نے اسے صرف ”ارمغان“ کے تلفظ کو جاننے کے لئے استعمال کیا ہے۔اقبال کی آخری کتاب شاید ”ارمغانِ حجاز“ تھی۔ میں نے اسے نہیں پڑھا۔ اس عنوان کا ذکر بہت سنا ہے۔ ”ارمغان“ کے الف کے نیچے زیر ہے یا زبر اس کے بارے میں کنفیوژڈ رہا۔ کسی کالم میں اس کا ذکر تھا۔ ذہن صاف کرنے کے لئے فرہنگ اٹھائی تو علم ہوا کہ ”ارمغان“ کے الف پر زبر ہے۔ بہت شرمندگی مگر یہ جان کر ہوئی کہ اس میں استعمال ہوئی ”میم“ پر پیش ہے اور میں ہمیشہ اسے زبرلگاکر پڑھتا رہا ہوں۔ حسین اتفاق یہ بھی ہوا کہ ”ارمغان“ کے لفظی معنی تحفہ بتائے گئے تھے۔ ”فرہنگِ تلفظ“ لہٰذا میرے لئے ”ارمغانِ افتخار عارف“ ہوچکی ہے۔
تلفظ کا ذکر چلا ہے تو یا د آیا کہ میں اپنے سکول کی طرف سے ہر ہفتے ریڈیو پاکستان لاہور کے ”سکول براڈ کاسٹ“ پروگرام کے کوئز پروگرام میں حصہ لینے جاتا تھا۔ ہر جمعہ یہ پروگرام ریکارڈ ہوتا۔ معلوماتِ عامہ کا امتحان لینے والے اس پروگرام میں کامیاب ٹھہرا طالب علم دوسرے جمعے کے روز بھی اس کوئز میں حصہ لینے کا حقدار تھا۔ میں نے چھٹی جماعت کا طالب علم ہوتے ہوئے اس کوئز میں حصہ لینا شروع کیا تھا اور میٹرک کا امتحان دینے تک ہر جمعے اس پروگرام میں شامل ہونے کا حقدار رہا۔ اس اطلاع سے آپ کو کم از کم یہ تو مان لینا چاہئے کہ یہ عاجز معلوماتِ عامہ کے حوالے سے ”ہونہار بروا“ تھا۔ لہٰذا تالیاں۔ خیر ریڈیو پاکستان جانا شروع ہوا تو ”سکول براڈ کاسٹ“ ہی کے تحت تیار ہوئے چند فیچرز میں صدا کاری کے لئے استعمال ہونا بھی شروع ہوگیا۔ مجھے اس کام میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پروڈیوسر ہماری مگر بہت ہی شفیق تھیں۔ مجھے ریہرسل کی اذیت سے گزارے بغیر ہی مائیک کے سامنے کھڑا کردیتیں۔ ایک روز ایسا ہی ایک فیچر ریکارڈ ہو رہا تھا تو میری آواز ریڈیو کے ایک ڈرامہ پروڈیوسر نے سن لی۔ وہ امتیاز علی تاج کے مشہور کھیل”قرطبہ کا قاضی“ ریکارڈ کرنا چاہ رہے تھے۔ اس کھیل کے ایک صدا کار لطیفی صاحب بھی تھے۔ وہ ریڈیو پاکستان کا بڑا نام تھے۔ شاید مشہور شاعر میراجی کے سگے بھائی بھی۔ ان کے بیٹے ٹی وی کے مشہور پروڈیوسر بھی ہوئے۔ نام ان کا غالباً راشد لطیفی تھا۔ لطیفی صاحب اس ڈرامے میں قاضی تھے جن کا لاڈلا بیٹا کسی جرم کی وجہ سے ان ہی کی عدالت میں پیش ہوتا ہے اور امتیاز علی تاج کے قاضی ہمارے ”ارسلان کے ابو“ نہ تھے۔ان کے بیٹے کا کردار ڈرامے کی دُنیا کے ایک بہت ہی بڑے نام نعیم طاہر نے ادا کرنا تھا۔ امتیاز علی تاج کے اس کھیل میں قاضی کو اپنے بیٹے کا بچپن بھی یاد آتا ہے۔ بچپن کی یاد دلانے کو ایک نوعمر لڑکے کی آواز درکار تھی۔ مجھے وہ آواز لگانے پر مجبور کردیا گیا۔ ریہرسل مگر ضروری تھی اس کے دوران ایک لفظ آیا ”بھیڑ“۔ اس ”بھیڑ“ کا مطلب ”ہجوم“ ہے، دُنبے کی مادہ نہیں میں نے اسے ادا کرتے ہوئے لاہور کی گلیوں میں بڑے ہوئے ہر بچے کی طرح ”ھ“ کو غائب کر دیا۔ لطیفی صاحب چراغ پا ہوگئے۔ شدید سرگرمیوں کا ایک دن تھا۔ مجھے ریڈیو پاکستان لاہور کی ایئرکنڈیشنڈ کے ذریعے سرد کی گئی عمارت سے نکال کر لان میں لے آئے۔ وہاں چلچلاتی دھوپ میں ایک درخت تلے کھڑے ہوکر تقریباََ ایک گھنٹے تک ”جھنڈا“ اور ”ڈنڈا“ کے درمیان فرق کو سمجھتے ہوئے ”بھیڑ“ کو ”ھ“ کی آواز کے ساتھ نکالنے کی توفیق ہوئی تو جان بخشی ہوئی۔
لطیفی صاحب ایسے لوگ اب دُنیا میں نہیں رہے۔ اینکرز بھی سٹارز اور عقلِ کل ہوا کرتے ہیں۔ ”ارمغان“ کی ”میم“ کو پیش کے بغیر اور بھیڑ کو ”ھ“ کے بغیر ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
٭٭٭٭٭