’’کرپان ‘‘ بردار سکھوں نے پارلیمنٹ ہائوس کی سکیورٹی کو چیلنج کر دیا

 ’’کرپان ‘‘ بردار سکھوں نے پارلیمنٹ ہائوس کی سکیورٹی  کو چیلنج کر دیا

جمعہ کو سینیٹ کا 104واں سیشن نیشنل جوڈیشل  کمیٹی اور فیڈرل کورٹ (ریپیل )بل 2014ء  منظور کرکے غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گیا دو ہفتے تک جاری رہنے والے سیشن میں اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے حکومت  تحفظ پاکستان بل منظور نہیں کرا سکی تاہم حکومت اور اپوزیشن کے درمیان  بدھ کو  دونوں مسودوں پر فیصلہ کن مذاکرات ہوں گے   البتہ اپوزیشن نے کم وبیش ہر روز   واک آئوٹ ‘‘ کرنے کا ریکارڈ قائم کیا جمعہ کو پارلیمنٹ کی تاریخ میں اہم واقعہ پیش آیا    سکھ مظاہرین جو اپنے مطالبات منوانے کیلئے  پارلیمنٹ ہائوس  کے مین گیٹ کو توڑ  داخل  گئے لیکن مظاہرین اپنے مذہبی ہتھیار ’’ کرپانوں ‘‘ سے مسلح تھے سیکیورٹی کے لئے سوالیہ  نشان  پیدا کر دیا ۔   وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ،چیئرمین سینیٹ سید نیئر بخاری اور قائم مقام سپیکر قومی اسمبلی مرتضیٰ جاید عباسی  نے سکھ برادری کی طرف سے پارلیمنٹ ہائوس کا گیٹ توڑ کر اندر داخل ہونے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیا ہے  وزیر داخلہ نے تو کچھ پولیس افسران کو معطل کر دیا ہے آئی جی اسلام آباد آفتاب چیمہ سیکیورٹی کے ذمہ دار افسران پر برس پڑے اور کہا کہ اگر سکھوں کے ساتھ دہشت گرد اندر آ جاتے تو ہم کس کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہتے ۔