پیغام ِمعراج ۔۔۔!

  پیغام ِمعراج ۔۔۔!

سیرۃالنبی ؐ سے ایک پیراگراف حاضر خدمت ہے ’’منزل قاب قوسین کا مسافر،جب براق پر سوار ہو کر حرم مکہ سے روانہ ہوا تو جبریل ؑ نے رکاب تھامی ہوئی تھی اور میکائیل ؑنے باگ پکڑی ہوئی۔دوران سفر پہلا پڑائو ایسی سر زمین پہ تھا جہاں کھجوروں کے باغات تھے ۔یہاں پہ جبرئیل ؑ کی گزارش پہ نبی کریم ﷺ نے نماز ادا کی ۔آپؐ کو بتایا گیا کہ یہ آپ ؐ کی ہجرت گاہ طیبہ کی سر زمین ہے ۔بیت المقدس میں جبرئیل امین نے رک کر آپ ؐ کو مدین میں شجر موسیٰ ؑ،طوری سینا اور بیت اللحم عیسی ؑ کے پاس نفل نماز ادا کرنے کی گزارش کی ۔اس عظیم الشان سفر میں آپ ؐ نے کچھ حقائق کا مشاہدہ فرمایا۔آپ ؐ نے دیکھا کہ ایک قوم جو کھیتی باڑی کرتی ہے ،وہ لوگ جو فصل آج بوتے ہیں ،دوسرے دن وہ فصل تیار ہو جاتی ہے ،وہ اسے کاٹ لیتے ہیں،پھر وہ فصل جوں کی توں لہلہانے لگتی ہے ۔حضور جبرئیل ؑ سے استفسار فرماتے ہیں ’یہ کیا ہے ؟تو وہ عرض کرتے ہیں یہ اللہ کے مجاہد ہیںجن کی نیکیوں کو سات سو گناکر دیا جاتا ہے اور جو وہ خرچ کرتے ہیں اس کی جگہ ان کو اسی وقت دے دیا جاتا ہے ۔پھر حضور سرور کائنات ﷺ کا گزر ایسی قوم کے پاس سے ہوتا ہے جن کے سروں کو کوٹا جا رہا ہے ،وہ فورََا پہلے کی طرح درست ہو جاتے ہیں۔یہ سلسلہ لگاتار جاری رہتا ہے۔حضور ؐ کے پوچھنے پر جبرئیل ؑ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نماز کی ادائیگی نہیں کرتے ۔پھر ایسی قوم دکھائی گئی جن کے آگے پیچھے چیتھڑے ہیںاور وہ اس طرح چر رہے ہیں جس طرح اونٹ اور بکریاں چرتے ہیںاور ضریع اور زقوم کھا رہے ہیں ۔جبرئیل ؑ نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے،پھرراستہ میں ایک لکڑی کے پاس سے گزرے جو چیز یا کپڑا اس کے نزدیک ہوتا ہے اس کو پھاڑ دیتی ہے ۔آپ ؐ کو بتایا گیا کہ یہ آپ ؐ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو راہوں میں بیٹھنے والے اور راستہ کاٹنے والے ہیں۔پھر ایک آدمی دکھایا گیا جو خون کی نہر میں تیر رہاتھااور اس کے منہ میں پتھر ڈالے جا رہے تھے ،بتایا گیا یہ سود خور ہے۔پھر آپ ؐ کو ایسا آدمی نظر آیا جس نے بڑی بھاری گٹھری باندھی ہوئی ہے اور مزید اس میں اضافہ کرنا چاہتا ہے،جبرئیل امین ؑ نے بتایا یہ آپ ؐ کی امت کا وہ شخص ہے جس کے پاس لوگوں کی امانتیں ہوںگی،وہ ان کو ادا نہیں کرے گااور مزید امانتیں رکھنے کا خواہشمند ہو گا۔پھر ایک منظر آپ ؐ نے دیکھا کہ ایک قوم کی زبانیں اور ہونٹ کاٹے جا رہے ہیں ،وہ کٹنے کے بعد درست ہو جاتے ہیں،یہ سلسلہ جاری رہتا تھا۔حضور ؐ کے پوچھنے پر جبرئیل ؑ نے عرض کیا ،یہ آپ کی امت کے فتنہ باز خطیب ہیںجو وہ دوسروں کو کہتے ہیں خود اس پر عمل نہیں کرتے ۔پھر ایسے لوگ نظر آئے جن کے ناخن تانبے کے ہیںاور وہ اپنے چہروں اور سینوں کو ان سے نوچ رہے ہیں ،جبرئیل ؑ نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کی غیبت کرتے اور تہمتیں لگاتے ہیں ‘‘۔یہ وہ عظیم سفر مبارک ہے جس کے بارے میں قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے ’’پاک ہے وہ ذات جو اپنے محبوب بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف لے گئی جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں۔بے شک پرور دگار سنتا اور دیکھتا ہے‘‘(بنی اسرائیل)حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے ،رسول اللہ نے فرمایا’’جس رات مجھے معراج ہوا ِمیں حضرت موسیٰ ؑ کی قبر کے پاس سے گزرا تو وہ اپنی قبر انور میں نماز پڑھ رہے تھے ‘‘۔(مسلم)آپ ؐ فرماتے ہیں کہ جب میں براق پر جا رہا تھا تو راستے میں اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق دیکھی جو با آوازبلند کہہ رہی تھی ’ اسلام علیک یا حاشر‘تو جبرئیل ؑ نے عرض کیا ،انہیں جواب عطا فرمائیے تو میں نے انہیں جواب دیا ۔حضرت جبرئیل ؑ نے کہا یہ ابراہیم ؑ،عیسیؑ اور موسیٰؑ ہیں۔(ابن کثیر)اللہ تعالیٰ کے حبیب محمد مصطفیٰ ﷺ کا مقام عالی انسان کے تصور سے بالا تر ہے ۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’اللہ اور اس کے فرشتے نبی ؐ پر درود بھیجتے ہیں ،اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو۔(احزاب)نبی اکرم ﷺ پر درود سلام بھیجنا حکم خداوندی ہے۔ہر مومن پر لازم ہے۔ہر نمازمیں شامل ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی پر صلوٰۃ بھیجنے سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنے حبیب ؐ پر بے حد مہربان ہے۔آپؐ کی تعریف فرماتا ہے۔آپؐ پر اپنی رحمتوں کی بارش فرماتا ہے ۔فرشتوں کی طرف سے آپؐ پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ ؐ کے حق میں پروردگار سے دعا کرتے ہیں کہ خدا آپ ؐ کے دین کو سر بلند فرمائے۔آپؐ کو مقام محمود پر پہنچائے۔اہل ایمان کی جانب سے نبی  آخر الزماںؐ پر سلامتی اور سلام بھیجنے سے مراد احسانات کی شکر گزاری ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو یاد دلاتا ہے کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ کی قدر پہچانو اور آپ کے احسان عظیم کا حق ادا کرو۔تم جہالت کی تاریکیوں میں بھٹک رہے تھے اس ہستی نے تمہیں علم کی روشنی دی۔تم اخلاق کی پستیوں میں گرے ہوئے تھے اس شخص نے تمہیں اٹھایا اور زمانے میں افضل بنایا۔تمہاری خاطر اس پاک ہستی نے بہت مظالم برداشت کئے ، اس لئے اب تمہاری احسان شناسی کا لازمی تقاضا ہے کہ تم اپنی تمام محبوب چیزوں اور رشتوں سے بڑھ کر اپنے نبیؐ سے محبت رکھو!پس !پیغام شب معراج کا حاصل یہی ہے کہ امت محمد ﷺ اپنے پروردگار اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت اور اطاعت کو خود پر لازم کر لے۔