پاکستان بھارت کیلئے مشکل ہے وزیراعظم جو بھی ہو؟

پاکستان بھارت کیلئے مشکل ہے وزیراعظم جو بھی ہو؟

حیرت ہے ابھی تک نواز شریف سوچ رہے ہیں کہ انہیں بھارت کے نئے وزیراعظم قاتل اعظم مودی کی حلف برداری میں جانا چاہئے کہ نہیں۔ مودی نے عجیب سیاسی چال چلی ہے۔ وہ ابھی وزیراعظم نہیں بنا اور پاکستان دشمنی کے لئے بنیاد بنانا شروع کر دی ہے۔ اگر نواز شریف اس تقریب میں چلے گئے تو وہ پاکستان نہیں جا سکیں گے۔ پاکستان پہلے ہی ان کے لئے مسائلستان ہے۔
مگر وہ ابھی پاکستان کے وزیراعظم نہیں بنے تھے کہ بھارت جانے کی جلدی انہیں پڑ گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دعوت کے بغیر بھارت چلا جائوں گا۔ وہ تو اللہ نے مہربانی کی کہ بھارت نے پاکستان کے لئے ایسی ایسی باتیں کر دیں جو دشمنوں کے لئے بھی نہیں کی جاتیں۔ یہ باتیں نواز شریف نے سنی ہوں گی۔ اس کے باوجود ایسا بیان؟ اور اس کے باوجود وہ پاکستان کے وزیراعظم بن گئے؟ ان کے وزیراعظم بننے کی مبارکباد ہم سب نے بھی دی تھی۔ بھارت کے ہندو عوام اور سیاستدان پاکستان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ورنہ مدمقابل تو سمجھتے ہیں۔ مدمقابل بھی دشمن ہوتا ہے۔ پاکستان کو نیچا دکھائے بغیر بھارت کبھی اس خطے کا لیڈر نہیں بن سکتا۔ یہ بات وہ امریکہ کو بھی کئی بار بتا چکا ہے۔ امریکہ بھی اس بات کو سمجھتا ہے۔ امریکہ جانتا ہے کہ پاکستان کی فوج دنیا کی ایک بہترین فوج ہے۔ پاکستان جیسے تیسے ایک ایٹمی ملک ہے۔ پھر بھی پاکستان سے پنگا لینے کی عالمی کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان میں لوگ ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ہم نہیں تو تم بھی نہیں۔
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے
پاکستان نے کئی بار امریکہ کو ڈوبنے سے بچایا ہے۔ جب پاکستان نے آئی ایس آئی اور مجاہدین سے مل کر روس کو افغانستان سے نکالا تو امریکہ کا ایک فوجی بھی یہاں موجود نہیں تھا۔ اب وہ اپنے سارے فوجی افغانستان سے نکالنے کی خواہش میں مرا جا رہا ہے۔ پاکستان کے علاوہ یہاں بھی اس کی دستگیری کوئی نہیں کرے گا۔
بھارت نے پہلے بھی امریکہ کے لئے کچھ نہیں کیا اور اب بھی کچھ نہیں کرے گا۔ ابھی تین جرنیلوں کی جو اہم ترین میٹنگ ہوئی اس میں پاکستان کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف شریک تھے۔ بھارت کا کوئی جرنیل شریک نہیں تھا۔ اس پر زیادہ بات کرنے کی بجائے آئی ایس آئی کے سابق چیف جنرل حمید گل کا ایک جملہ ملاحظہ کریں۔ ’’ہم نے روس کو امریکہ کی حمایت سے افغانستان سے نکالا۔ اب امریکہ کو امریکہ کی حمایت سے رخصت کریں گے۔‘‘
یہ جملہ امریکی بھی پڑھیں اور بھارتی بھی۔ میرے خیال میں نواز شریف بھی پڑھیں اور مودی بھی، اور پھر نواز شریف کبھی بھی مودی کی حلف برداری میں نہ جائیں۔
کہتے ہیں کہ وہ گئے تو گجرات کے مقتول بھارتی مسلمان کیا کہیں گے۔ ان کے مظلوم لواحقین کیا کہیں گے۔ کشمیری کیا کہیں گے۔ کئی پاکستانی تو حیرانی میں مر جائیں گے۔ کچھ پریشانی میں مر جائیں گے۔ پاکستان کے سب لوگ بھارتی سرحد پر دھرنا دے دیں۔ عمران خان اپنے معاملات کے لئے تو دھرنا دیتے ہیں۔ اس معاملے میں دھرنا کیوں نہیں دیتے۔ وہ اب نواز شریف کی طرح سیاستدان بن گئے ہیں۔ وہ تو چاہیں گے کہ نواز شریف اس طرح بھارت جائے تاکہ عمران کے لئے فضا سازگار ہو۔ اب فضا عمران کے لئے بھی خوشگوار نہیں رہے گی کہ وہ وزیراعظم ہوتا تو سینہ تان کر بھارت چلا جاتا۔ پاکستان کے سب سیاستدان امریکہ کے بعد بھارت کے لئے ایک جیسے ہیں۔ ایک دوسرے سے بڑھ کر ہیں۔ عمران تو اب بھی بھارت آتا جاتا رہتا ہے۔ کوئی پوچھے کہ آپ کس کام سے بھارت گئے تھے؟ کوئی کہے گا کہ یہ جواب اس سے لیں جس سے ملنے وہ بھارت گئے تھے؟ صدر زرداری بھی اس ’’رستے‘‘ پر کسی سے پیچھے نہیں تھے۔
صدر مشرف نے تو کہہ دیا تھا کہ کشمیر کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادیں پرانی ہو گئی ہیں۔ قرارداد پر جب تک عمل درآمد نہ ہو وہ پرانی نہیں ہوتی۔ یہ بات تو بھارت کا کوئی سیاستدان بھی نہیں کر سکتا۔
بھارت صرف کشمیر کے لئے مار کھا گیا ہے۔ وہ خود ذمہ دار ہے۔ پاکستان کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل ممبر نہیں بن سکتا۔ عالمی طور پر بھارت کشمیر کی وجہ سے متنازع ہے۔ اب فلسطین بھی ایک مسئلے کے طور پر ختم ہوتا جا رہا ہے۔ کشمیر کا بھی یہی حال ہونے والا ہے۔ پاکستان کشمیر کے لئے سب کچھ بھول بھال گیا ہے۔ چین نے ہانگ کانگ کے لئے لڑائی نہ کی تھی مگر اپنا موقف نہ چھوڑا۔ مغرب نے ہانگ کانگ اس کی جھولی میں ڈال دیا۔ چین نے ہانگ کانگ لے لیا مگر اسے ایک خود مختار حیثیت دے دی؟ پاکستان کے کئی سیاستدان ابھی سے کمز میں محلات بنانے کی تیاری میں ہیں؟ چین کا تائیوان کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہے۔ وہ چند منٹ میں اسے فتح کر لے گا۔ مگر تائیوان خود بخود مفتوح ہو کر چین کی پناہ میں جانے کے لئے بے تاب ہو جائے گا۔ کشمیر بھی تائیوان کی طرح ہوتا تو ہمارے حکمران اس کے لئے نجانے کتنا تاوان لے چکے ہوتے اور پھر آخری ’’تعاون‘‘ نہ ہوتا کہ کشمیر بھارت کو دے دیا جاتا۔ وہ اب بھی کشمیر لے چکا ہے۔ کشمیر آئینی طور پر بھارت کا حصہ ہے اور ہم پاکستان میں اپنی سیاست میں آئینی غیر آئینی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
ہم جرنیلوں کو الزام دیتے ہیں۔ اپنے ہی جمہوری آئین کی رو سے تین چار بار سویلین ’’جمہوری‘‘ صدر نے حکومتیں اور اسمبلیاں توڑی ہیں بھارت پاکستانی فوج سے ڈرتا ہے۔ اس کا حریف ہی پاک فوج ہے۔ اب پاک فوج اور دفاعی اداروں کو کمزور کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اس سازش میں بھارت آگے آگے ہے۔ پاکستان کے اندر بھارتی لابیاں پاکستانی ضمانت اور پاکستانی سیاست میں قائم ہیں۔ صحافت اور سیاست کی سرحدیں ایک ہو گئی ہیں۔ بھارت والے سرحد کو لکیر کہتے ہیں اور خود لکیر کے فقیر ہیں۔ ہم ویسے ہی ’’فقیر‘‘ ہو گئے ہیں۔
مودی بھی پہلے وزیراعظم جیسا ہو گا۔ من موہن سنگھ قاتل نہ تھا مگر پاکستان کے لئے وہ اتنا ہی ظالم تھا جتنا مودی ہو گا۔ مودی اب مظلوم بن کے اپنا کام نکالے گا نواز شریف کو سمجھ نہ آئے گی۔ نواز شریف کو ’’صدر‘‘ زرداری کی سیاست سمجھ میں نہ آئی۔ پھر بھی وہ وزیراعظم بن گئے۔ دروغ بر گردن راوی نواز شریف کو ’’صدر‘‘ زرداری نے وزیراعظم بنا دیا کہ باری قائم رہے۔ باری کا مطلب بار بار آنا ہے مگر میں ببانگ دہل کہہ رہا ہوں کہ ’’صدر‘‘ زرداری کبھی مودی کی حلف برداری میں نہ جاتے مگر پیپلز پارٹی کے خورشید شاہ اور رضا ربانی کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف کو جانا چاہئے۔ یہ بات ’’صدر‘‘ زرداری خود نہیں کہے گا۔ کہیں گے، کہلوائیں
میری نواز شریف سے گذارش ہے کہ وہ اپنے آپ پر رحم کریں اور نہ جائیں۔ پاکستان بھارت کے لئے ایک مشکل ہے اور یہ مشکل رہے گی۔ اگر پاکستان کا وزیراعظم نواز شریف ہے تو بھی یہ مشکل رہے گی؟