ہنزہ جھیل پر وزیراعظم کی پکنک!

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

فوزیہ وہاب سے معذرت کے ساتھ حضرت عمرؓ کا ایک قول پیش کر رہا ہوں۔ ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو میں ذمے دار ہوں“ آج ہنزہ جھیل کے کنارے پاکستان کے مسلمان شہری نہایت کسمپرسی کی موت مر رہے ہیں تو پھر جناب آصف زرداری اور مخدوم گیلانی کے علاوہ اس کا کون ذمہ دار ہے۔ ان میں اتنا احساس نہیں کہ وہ استعفیٰ ہی دے دیں ان کے ضمیر خمیر میں کوئی تڑپ نہیں ورنہ وہ بلکتے تڑپتے لوگوں کو تسلی ہی دیتے۔ مخدوم گیلانی نے صرف ایک اچھا کام کیا مگر اسے بھی برا کام بنا دیا۔ انہوں نے کیمروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے ایک معصوم مظلوم اور محروم بچے کو اٹھا کے پیار کی اداکاری کی۔ ان کے دل میں یہ خیال تھا کہ کہیں میرے امیرانہ بلکہ وزیرانہ کپڑے نہ گندے ہو جائیں۔ اپنے بچے کو اس طرح پیار کرتے کسی کو دیکھ کر ماں خوش ضرور ہوتی ہے مگر اس لمحے میں بھی کوئی خوشی محروم ماں کے چہرے پر نہ تھی۔ مخدوم گیلانی کی بجائے کوئی بھی ہوتا تو ایک سو روپے کا نوٹ بچے کو دیتا۔ لالچ اور خوف سے بھرے ہوئے کنجوس وزیراعظم نے ایک پیسہ بھی جیب سے نہ نکالا۔ ان کی جیب میں قومی خزانے کی کنجیاں ہیں اور وہ یہ عوامی پیسہ اپنی صوابدیدی اختیار سے صرف اپنے لوگوں کو دیتے ہیں۔ جو پہلے سے امیرکبیر اور کرپٹ ہیں۔ دولت کمانے کا شاید یہ آخری موقع جناب زرداری اور مخدوم گیلانی کو ملا ہے جسے وہ پہلے موقع کی طرح استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت کرنے اور دولت کمانے کا انداز ایک جیسا ہوگیا ہے۔
وزیراعظم مخدوم گیلانی ہنزہ جھیل کے پانیوں کے عذاب کا شکار عورتوں بچوں بوڑھوں اور لوگوں کے پاس تین مہینے کے بعد پہنچے۔ اس دوران انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا ۔ وہ وہاں پکنک منانے گئے تھے مگر آج ان کو افسوس ہوگا کہ وہ نیا قیمتی بیرون ملک سے آیا ہوا سوٹ نہیں پہن سکے۔ اب جو انہوں نے پہنا ہوا تھا وہ بھی غمزدہ غریب لوگوں کا مذاق اڑانے کےلئے کافی تھا کئی وزیر شذیر بھی ان کے ساتھ تھے۔ راجہ پرویز اشرف بھی تھے کہ وہاں لوڈشیڈنگ میں کوئی کمی تو نہیں آئی۔ وہ خوش ہونگے کہ اجڑے پجڑے لوگوں کی برباد ہونے والی بستیوں میں تاریکیوں کا راج تھا اور یہی اب سارے ملک کا روشن رواج بن چکا ہے۔ مہاراجہ صاحب اپنی اس کامیابی پر خوشی سے پھولے نہیں سماتے۔ یہاں بھی مخدوم گیلانی کے آنے پر لوگوں کی مصیبت ایک بدقسمتی بن گئی تھی۔ مخدوم گیلانی کے ہیلی کاپٹر کی سکیورٹی کےلئے یہاں موت کے جبڑوں میں تڑپتے ہوئے لوگوں کےلئے ہیلی کاپٹر سروس معطل کر دی گئی۔ کئی بچے مخدوم گیلانی کا ہیلی کاپٹر دیکھ کر خوش ہوگئے کہ ہمیں مصیبت سے نکالنے والا آگیا۔ وہاں موجود لوگوں کی آنکھیں گردوغبار کی آندھی سے اندھی ہوگئیں۔ مگر اس کے نزدیک جانے کی اجازت ظالم پولیس والے نہیں دے رہے تھے۔ وہ مخدوم گیلانی کا استقبال کرنے والوں پر لاٹھی چارج کر رہے تھے۔ پھر ان کے غیظ و غضب سے ان کو بچانے کےلئے پھر لاٹھی چارج کر رہے تھے۔ میانوالی میں عمران کی نمل یونیورسٹی کے افتتاح کے موقع پر پکنک پوائنٹ بنانے کا صرف اعلان کیا۔ یہاں بھی اعلان تو کیا ہوتا جھوٹ بولنے میں سیاستدانوں کو کیا تکلیف ہوتی ہے؟ پولیس والے صرف حکام کی خدمت کےلئے ملازم ہوتے ہیں اور عوام کو صرف ملزم سمجھتے ہیں آج مرشد پاک اور ”پیر اعظم“ یعنی وزےراعظم مخدوم گیلانی نے لنگر تقسیم کرنا تھا۔ لوگ بھوک سے بلبلا رہے تھے۔ ان کی بھوک چمک چمک کر ختم ہو گئی تھی۔ اب وہ لنگر بھوک کے بغیر کھا رہے تھے۔ پیر اب وزیر بن گئے ہیں۔ جو وزیراعظم ہے وہی پیر اعظم ہے۔ سچا صوفی دلوں کی حکومت کا مالک تھا۔ اب تو وہ سچا پیر بننے کےلئے بھی وزیر بنتا ہے۔ اسمبلی میں کئی گدی نشین موجود ہیں۔ باقی پیر امیر کبیر ہو جاتے ہیں۔ اس کےلئے ممبر اسمبلی ہونا ضروری ہے۔ اب ان کے پاس روحانی حکومت تو رہی نہیں پر حکومت تو ہے۔ حکمت سے خالی حکومت۔ پہلے بھی ان کے دل میں کچھ نہ تھا۔ اب تو صرف دولت رہ گئی ہے۔ دل کی دولت کی ان کو ضرورت نہیں۔ پیران تسمہ پا پیران زیرپا بن چکے ہیں۔ علامہ اقبال کہتے ہیں
ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی
گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن
میراث میں آئی ہے انہیں مسند ارشاد
زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن
جو عقابوں کی فضائیں تھیں۔ وہ کائیں کائیں کرتے کووئں کے قبضے میں ہیں۔ کائیں کائیں سیاسی اصطلاح میں بیان کو کہتے ہیں۔ سیاستدان اور حکمران صرف بیان دیتے ہےں۔ ووٹ اور بیعت میں فرق مٹ گیا ہے حضرت علی نے بیعت لی تھی۔ حضرت یوسف گیلانی ووٹ مانگتے ہیں ہنزہ جھیل کے لُٹے پٹے لوگوں کے پاس بھی کچھ مانگنے گئے تھے۔ ان کو دینے کےلئے کوئی جھوٹا اعلان بھی نہ کر سکے۔ جمشید دستی کے انتخابی جلسے میں جعلی ڈگری کی حمایت کرنے والوں کےلئے کئی اعلان کئے۔ جو کبھی پورے نہیں کئے جائیں گے۔ اب اعلان اور بیان میں فرق مٹ گیا ہے۔ مخدوم گیلانی کی ڈگری اصلی ہے مگر انہیں اب بھی کبھی کبھی شک پڑ جاتا ہے کہ اگر کوئی کہہ دے کہ جعلی ہے تو وہ کیا کرلیں گے بلکہ کیا کہیں گے۔ راجہ پرویز اشرف کی ڈگری کو پڑھنے کی کوشش کرنے والے سے مہاراجہ صاحب نے کہا کہ یہ ڈگری تم لوڈشیڈنگ میں پڑھ کے دیکھو۔ صاف پتہ چلے گا کہ یہ اتنی جعلی نہیں ہے۔
ہنزہ کے متاثرین مظاہرین میں تبدیل ہو گئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ وزیراعظم اور اس کے وزیر شذیر حکمران اور افسران یہاں آئے کیوں تھے۔ کیا وہ ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے آئے تھے۔ انہوں نے وزرا کی گاڑیوں کا گھیرا¶ کیا۔ راجہ پرویز اشرف اپنی گاڑی سے نکل بھاگا۔ لوگ اس کے پیچھے پیچھے بھاگے وہ ان کے قابو نہیں آیا ورنہ لوگ اُسے اٹھا کے ہنزہ جھیل میں پھینک دیتے۔ وہ منظور وٹو اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو تو معاف کرنے کےلئے تیار نہ تھے وہ یہ بھی تحریک چلانے کی تیاریاں کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان کو دوبارہ پاکستان میں صوبے کی حیثیت کے بغیر شامل کرو۔ سارے ممبران اسمبلی اور وزیروں شذیروں کو ہنزہ جھیل میں غوطے دو اور جب وہ ڈوب مرنے کےلئے تیار ہو جائیں تو انہیں بچالو اور پانی میں ڈوبے ہوئے مکان میں قید کر دو۔
ان میں سے 99 فیصد کو گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کا نام بھی نہیں آتا تھا۔ مجھے بھی ان کا نام نہیں آتا۔ اس گمنام بلکہ بے نام وزیراعلیٰ کو صوبے کا حکمران رہنے کا کوئی حق نہیں۔ حکمران رہنے کا حق تو موجودہ سارے حکمرانوں کو بھی نہیں ہے۔ اس حکومت میں لوگوں کےلئے اذیت ہی اذیت ہے اور ذلت ہی ذلت ہے۔ حکمرانوں کو قیمتی سوٹ بدلنے سے فرصت نہیں میڈیا کے سامنے انہیں کھلکھلا کر بولتے دیکھو تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے ملک میں کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔
میں حیران ہوں کہ پکنک منانے کا یہ کیا موقع تھا۔ یہ ایک ظالمانہ سیاسی سرگرمی ہے۔ مخدوم گیلانی سے زیادہ بے بس اور بے حس وزیراعظم کوئی نہیں ہوگا۔ پچھلے اڑھائی برسوں میں مخدوم گیلانی نے لوگوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں کیا۔ وہ اپنی کرسی پکی کرنے کےلئے سب کے ساتھ ملے ہوئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ کوئی ملا ہوا نہیں ہے۔ آج کل پھر عدالت اور حکومت آمنے سامنے ہیں۔ مگر مخدوم گیلانی نے چیف جسٹس کو فون کر کے کہہ دیا ہے کہ عدالت کے فیصلوں کا احترام کریں گے مگر سرکاری اہتمام ان کے احترام کے بالکل برعکس ہے۔