ہم امن کے امیں ہیں!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

اترو! حسین پرندو! میری زمیں پہ اترو!!
یہ پاک سرزمیں ہے! جنت جو ہے یہیں ہے!!
سیر جہاں میں تم نے دیکھا نہ ہو گا جو کچھ
تم کو دکھائی دے گا اس سرزمین پہ وہ کچھ
ہر سو ملے گی چاہت‘ چاہے جہاں سے گزرو
اترو! حسین پرندو! میری زمیں پہ اترو
یہ پاک سرزمیں ہے‘ جنت جو ہے‘ یہیں ہے
خیبر سے تا کراچی‘ اس سرزمیں کے باسی
ہوں وہ بلوچ سندھی‘ پٹھان یا پنجابی
رکھتے ہیں باہیں کھولے‘ کہتے ہیں آو بیٹھو
اترو حسیں پرندو میری زمیں پہ اترو
یہ پاک سرزمیں ہے‘ جنت جو ہے یہیں ہے
کچھ روز رہ کے دیکھو کہسار وادیوں میں
دنیا کے غم بھلا کر لوگوں کی شادیوں میں
تم گھل کے چہچہاو‘ جو چاہو گنگناو
اترو حسیں پرندو! میری زمیں پہ اترو
یہ پاک سرزمیں ہے‘ جنت جو ہے یہیں ہے
جو بھی جہاں مکیں ہیں وہ امن کے امیں ہیں
یہ گو شہر اماں ہے ہر فرد کو یقیں ہے
ہے عام آب و دانہ سستا اور ٹھہرو
اترو حسیں پرندو! میری زمیں پہ اترو
یہ پاک سرزمیں ہے جنت جو ہے یہیں ہے