وزیراعظم اور چیف جسٹس کے نام کھلا خط

تحریر:ماروی میمن..............
پاکستان کی خواتین کیلئے روزگار اور سکیورٹی اولین ترجیحات ہیں۔ میں پچھلے دو سالوں سے قومی اسمبلی میں خواتین کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کو Highlight کر رہی ہوں تاہم محض تھوڑے سے وقت کیلئے بولنے کے علاوہ مجھے ان ایشوز کو Women Causes اور قومی اسمبلی کی خواتین سے متعلق کمیٹی میں اٹھانے کی اجازت نہیں ملتی اور اس کے علاوہ جو بھی ایشوز اٹھائے جاتے ہیں ہمیں خواتین کیلئے انصاف نہیں مل پاتا۔ جب ہمارے پاس پارلیمنٹ میں اتنی خواتین پارلیمنٹیرینز ہیں جب ہمارے پاس اتنے زیادہ خواتین کے تحفظ کے قوانین ہیں جس میں بیشتر پاکستان مسلم لیگ کے دور میں آئے اور جب ہمارے پاس پارلیمنٹ میں خواتین سے متعلق اتنے فورم ہیں تو پھر ہم مجرموں کو اسی قوت کے ساتھ سزا کیوں نہیں دے پائے تاکہ مزید تشدد کو روکا جا سکے۔ ایسا کیوں ہے کہ ہم اپنے نہایت قابل احترام اعلیٰ فورموں کے ذریعے مجرموں کو مثالی سزائیں نہیں دے پاتے ہیں تاکہ خواتین پر تشدد کے واقعات کو کم کیا جا سکے۔ سزائیں ہی DETERENCEکا بہت بڑا ذریعہ ہوتی ہیں جو تشدد کو کم کرتی ہیں۔ قومی اسمبلی میں خواتین کی تعداد تقریباً 76، سینٹ میں 17 اور صوبائی اسمبلیوں میں 137 ہے۔ آئین میں خواتین کے حقوق کو تحفظ حاصل ہے اور حالیہ چند سالوں میں خواتین کے حقوق کے تحفظ کیلئے کئی قوانین بھی پاس ہوئے جو مندرجہ ذیل ہیں:۔
1- Criminal Law (Amendment) Act 2004.
2- Accession to the Convention on the \\\"Right of the Child and Elimination of All Form of Discremination against Women.
3- Establishment of National Commission on the Status of Women.
4- Women Protection Bill 2006.
5- Gender Reforms Action Plan 2005.
6- The Family Courts (Amendment) Act 2008.
7- Domestic Violence (Prevention and Protection) Act 2009.
8- The Criminal Law (Amendment) Act 2009.
9- Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act.2010.
ان تمام قوانین کے باوجود خواتین پر تشدد کے واقعات رونما ہوئے جو میڈیا تک پہنچ پائے۔ تصور کریں ان واقعات کا بھی جو میڈیا تک نہیں پہنچ سکے۔ مثلاً
22 مئی کو شکارپور میں چار خواتین نوری، ریشماں، زینت اور حلیمہ کو غیرت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ ایس پی او شکارپور عبدالقادر چانڈیو نے تو یہ قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ خواتین قتل بھی ہوئیں۔ گھوٹکی کی حلیمہ جسے کاری قرار دے دیا گیا تھا۔ 2 ماہ سے اسلام آباد پریس کلب کے باہر انصاف کی طلب میں بیٹھی ہوئی ہے۔ 13 سالہ نتاشا کی عزت واہ کینٹ کے پولیس افسران مبینہ طور پر 21 روز تک تھانے میں لوٹتے رہے۔ 15 مئی کو لاہور میں دو بھائیوں نے ایک ملازمہ کی عزت 5 ماہ تک پامال کی۔ 13 اپریل کو دالبندین میں 13 سالہ دو بہنوں پر ”بلوچ غیرتمند“ نامی گینگ نے تیزاب پھینکا۔ 14 اپریل کو ملتان میں خاتون وکیل پر کورٹ کی حدود میں تیزاب پھینکا گیا۔ 27 اپریل کو پنو عاقل میں ایک شخص نے اپنی بہن عزیزاں مہر کو کاروکاری کے الزام میں قتل کیا۔ 29 اپریل کو تین بہنوں پر قلات میں تیزاب پھینکا گیا۔ 30 مارچ کو HRCP کے آفیشل کا بیان آیا کہ ہر ماہ 25 ہندو لڑکیوں کو اغوا کر لیا جاتا ہے۔ 19 مارچ کو میرپور خاص میں شاہدہ گورچانی کو اس کے شوہر نے تشدد کر کے مار ڈالا۔ 16 فروری کو شکارپور میں 20 سے زائد خواتین کو پولیس نے تقریباً 2 ہفتوں تک اغوا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ 6 فروری کو سیالکوٹ میں Daewoo بس سروس کی ہوسٹس کی عزت پامال کی گئی۔ 31 جنوری کو قلعہ گجر سنگھ کی حدود میں ڈاکوﺅں نے ایک گھر میں گھس کر ایک لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم ان چند واقعات میں جو میڈیا میں رپورٹ ہوئے انصاف دلوا سکے ہیں؟ ہم اس طرح کے واقعات کا نوٹس لیتے ہیں۔ مذمت کرتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہم منزل تک نہیں پہنچ پائے جو خواتین کو تشدد کے خلاف انصاف دلوانا اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ کتنے واقعات میں مجرموں کو سزائیں دی جا سکی ہیں اور حکومت کتنوں کو انصاف دلوا سکی ہے؟ پاکستان کے عوام کو خواتین پارلیمان سے جو امیدیں وابستہ ہیں ان کا تعلق باتوں سے نہیں بلکہ نتائج سے ہے ایسے نہایت اہم مسئلے کا جو خواتین کو آگے بڑھنے سے روکتے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعے حل نہایت ضروری ہے کیونکہ یہ قوانین خواتین نے بڑی جدوجہد کے بعد حاصل کئے ہیں۔
خواتین پر تشدد کے واقعات جو رپورٹ ہوئے ان کی تعداد میں پچھلے سال 13% اضافہ ہوا۔ 2008ء میں ان کی تعداد 7733 اور 2009ء میں ان کی تعداد 8548 تھی۔ کیا حکومت جواب دے گی کہ ان میں سے ایسے کتنے واقعات ہیں جن میں سزائیں دی جا چکی ہیں؟ اور اگر نہیں تو کیوں نہیں؟ ہم مہینوں اور سالوں تک بیٹھ کر تقریریں اور مذمتی بیان جاری کر سکتے ہیں لیکن جب تک مجرموں کو سزائیں نہیں دلواتے یہ تمام خواتین سے متعلق فورم عوام کے سامنے اپنی ساکھ Credibility کھو دیں گے۔ جو ان تمام Fency Forums کی موجودگی میں بھی یہ سب کچھ جھیل رہے ہیں۔
میں پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتی ہوں اور اگر ہم ان مسائل کو حل کریں تو مزید مسائل جنم نہ لیں میں حکومت سے پوری قوت کے ساتھ کارروائی کی امید کرتی ہوں۔ جس نے انصاف کے ساتھ Govern کرنے کا حلف لیا ہوا ہے تاکہ ہم مستقبل کی تشدد کی کوششوں کو روکنے کیلئے ایک پیغام دے سکیں۔!