ماں کی گود اور دودھ کے اثرات

صحافی  |  رفیق ڈوگر

ماں کی گود اور دودھ کے اثرات سے نجات؟ ناممکن، فیس بک کس کی بنائی اور چلائی ہوئی ہے؟ اور یو ٹیوب اور وہ اخبارات جو توہین آمیز خاکے بنواتے اور شائع کرتے رہے ہیں اور وہ جو ایسے خاکے بناتے رہے ہیں کون ہیں؟ سب وہی تو ہیں جنہوں نے عیسائیت کی گود میں پرورش پائی ہوئی ہے۔ جنہوں نے مغرب کی عیسائی تہذیب کا دودھ پیا ہوا ہے کیسے کر سکتے ہیں وہ اپنی ماں کی گود اور دودھ کے اثرات سے نجات حاصل؟ اور وہ جو اسے آزادی اظہار اور صحافت کا نام دیتے ہیں کون ہیں وہ؟ ان کے دودھ شریک بھائی ہی تو ہیں وہ سب ان کی شہریت اور ملکی پہچان الگ الگ ہو تو بھی وہ سب دودھ شریک بھائی ہیں۔ ان سب نے عیسائیت کی گود میں بدتہذیبی کا دودھ پی پی کر پرورش پائی ہوئی ہے۔ اللہ کے آخری نبی محمد بن عبداللہﷺ کی توہین کی منظم مہم کس نے شروع کی تھی؟ کیتھولک چرچ نے ۔ آج سے صدیوں پہلے اس وقت جب اندلس پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی تھی۔ اس وقت توہین کرنے والے عام عیسائی نہیں ہوتے تھے۔ مستند کیتھولک پادری اور بڑے بشپ وغیرہ ہوتے تھے۔ جو چرچ کی لگائی ڈیوٹی پر ہوتے تھے وہ سب قرطبہ کے بڑے چوک میں آ کر ا پنی ماں کے دودھ اور باپ کے خون کی اصلیت کا مظاہرہ کیا کرتے تھے اور کیتھولک چرچ جہنم میں ان کے در جات کی بلندی کیلئے اپنی مذہبی فیس بک پر ان کے کارناموں کی تشہیر کیا کرتا تھا تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ یہ ایک منظم مہم ہے۔ لارڈ کلائیو برصغیر پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج کے قیام کا بنیادی کردار تھا۔ اس کی سوانح نایاب ہے اس میں لکھا ہے جب پیرس کے ہم جنس پرستوں کے کلب کی اسے اعزازی رکنیت دی گئی تو اس کی فعالیت اور جنسی قوت کا ٹیسٹ لینے والوں میں سب سے نمایاں ایک بشپ تھا۔ عیسائی تہذیب و مذہب کی گود میں پرورش پانے والے ایک طرف صحافتی اور مذہبی آزادی کا پرچار کرتے ہیں اور دوسری طرف القاعدہ والوں کے نظریات اور سرگرمیوں کی تشہیر کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے دینی مدارس کے نصاب سے جہاد کو نکلوانا چاہتے ہیں۔ کیا فیس بک والے اور توہین آمیز خاکے بنانے اور شائع کرنے والے سب سے بڑے دہشت گرد نہیں؟ کی ہے کسی دیسی یا ولایتی عیسائی مذہبی اور سیاسی رہنماءنے اس منظم عیسائی دہشت گردی کی مخالفت ؟ نہیں وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ اپنی ماں کے دودھ اور گود کے اثرات کے قیدی ہیں ہم نے بیس پچیس سال پہلے اندلس میں مسلمانوں کی خود کشی اور اس میں کیتھولک چرچ کے کردار، اثرات اور خود کشی کرنے والوں کی آل کے انجام کے بارے میں ”اندلس کی تلاش“ لکھی تھی خیال تھا کہ شاید کوئی عبرت حاصل کر لے۔ پڑھ کر اس راہ پر چلنے سے اجتناب کرے جس پر چلتے ہوئے سات سو سال اندلس پر حکومت کرنے والے ایسے نابود ہو گئے تھے کہ کیتھولک چرچ نے کوئی ایک بھی مسلمان اس ملک میں زندہ نہیں رہنے دیا تھا’اندلس کی تلاش‘ میں شامل ایک طویل نظم کے کچھ اشعار پڑھ لیں آپ کو خود اندازہ ہو جائے گا کہ اہل مغرب کی مذہبی آزادی کی حدود کیا ہیں غرناطہ کے نوجوان شاعر محمد بن محمد بن داﺅد کو اس نظم میں اپنی حالت بیان کر دینے پر عیسائی حاکم وقت نے ایک چوک میں پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ نظم بہت طویل ہے کچھ اشعار ہی دیئے جا سکتے ہیں:۔
”ہم جو اس ملک کی اولاد ہیں
آج اس حال میں ہیں جیسے بھیڑ بکریاں ماری ماری پھرتی ہیں
ہر روز کی تعذیب اور اذیت ہمارے مقدر میں لکھ دی گئی ہے
اس وقت تک جب موت آ کر ہمیں ہمارے مقدر کے شکنجہ سے چھڑا دے
ہمیں مجبور کیا جاتا ہے کہ ہم
ان کے ساتھ مل کر ان کی ناپاک مسیحی رسموں کے مطابق عبادت کریں
منقش بتوں کے سامنے سجدہ کریں
یہ اس خدائے واحد کی ہنسی اُڑانا ہے جو نظر نہیں آتا
کسی کی مجال نہیں کہ اس معاملے میں عرض و معروض کرے
یا ایک لفظ بھی زبان پر لائے
کون بتلا سکتا ہے کہ ہم کس عذاب میں مبتلا ہیں
ہمیں جھوٹ موٹ عیسائی بننا پڑتا ہے
تاکہ ان کی بے رحمی اور سختیوں سے بچ سکیں
وہ ہماری اس طرح حجامت بناتے ہیں جیسے کوئی بھیڑ بکری کی اون کاٹتا ہے
وہ ہمیں پکڑ کر خوفناک قید خانوں میں بند کر دیتے ہیں
ہر گھنٹہ بعد نئی تعذیب دیتے ہیں
مجبور کرتے ہیں کہ ہم اپنا دین چھوڑ کر عیسائی ہو جائیں
مصیبت کا مارا روتا ہے دیواروں سے سر ٹکراتا ہے
مگر کچھ نہیں بنتا
تیرہ و تاریک دہشت ناک قیدخانوں میں آدمی کو سڑا ڈالتے ہیں
پھر اسے لکڑیوں کے بازار میں لے جاتے ہیں جہاں صلیب گڑی ہوتی ہے
یہ روز قیامت کا میدان ہے جہاں سزائیں ہی ملتی ہیں
جس کسی کو چھوڑتے ہیں اسے زرد لباس پہننے پر مجبور کرتے ہیں
اور ساتھیوں کو آگ میں ڈال کر اپنے منقش بتوں کی بھینٹ چڑھا دیتے ہیں
ہم جمعہ اور سنیچر کے دن روزہ رکھتے ہیں
پھر بھی ہمیں امن نصیب نہیں ہوتا
ہمارے اجداد کی تمام رسوم ہمارے لئے ممنوع ہیں
ہم اپنی مرضی کا لباس پہن سکتے ہیں نہ نہا سکتے ہیں
جومصائب ہم پر پڑے ہیں ان کی تفصیل، بیان کرنے کےلئے ہماری تمام عمریں بھی کم ہیں“
یہ ہے وہ گود جس میں پرورش پانے والے ایسی منظم مہم چلا رہے ہیں اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ گوانتا ناموبے کے قید خانے میں اہل ایمان کو زرد لباس کیوں پہنایا جاتا ہے اور مولانا جعفر تھانیسری کو بھی اسی رنگ کا لباس کیوں پہنایا گیا تھا۔ کیا کسی کو شک ہے کہ اہل مغرب مسلمانوں کے خلاف منظم دہشت گردی کی جو عالمی جنگ لڑ رہے ہیں وہ ان کی مذہبی جنگ نہیں؟ لیکن سوال یہ ہے کہ ہم جو مسلمان کہلاتے ہیں اپنے ہی خلاف اس جنگ میں ان کا ساتھ کیوں اور کیسے کیسے دے رہے ہیں؟ اپنی قوت اور وسائل کو تباہ کر کے ؟ ایسی ویب سائٹس کو استعمال کر کے انہیں اپنا مال دے کر؟ بھونکنا اور کاٹنا ہر کتے کی فطرت میں ہے۔ کتیا کے دودھ اور کتے کے خون سے بنی فطرت کی مجبوری۔ تو کیا کسی انسان نے کسی کتے کو ایسے ہی جواب دیا ہے؟ نہیں کوئی بھی انسان اتنا نہیں گر سکتا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیﷺ کو بتایا تھا کہ ”واقعی تجھ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹھا کیا جاتا رہا ہے“ (41:21)
مشرکوں کا رویہ تو ہمیشہ ہی اللہ کے سچے رسولوں کے ساتھ ایسا ہی رہا ہے۔!