قاہرہ میں تیسری جوائنٹ منسٹر میٹنگ

کالم نگار  |  محمد مصدق

پاکستان اور مصر کے تعلقات میں آہستہ آہستہ گرم جوشی پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ سرکاری سطح پر تعلقات محدود سطح پر تھے۔ یہی سبب ہے کہ 2005ء تک پاکستان اور مصر کی باہمی تجارت 148 ملین ڈالر تک محدود تھی جو 2010ءمیں بڑھ کر 230 ملین ڈالر تک پہنچ گئی لیکن ورلڈ بنک کی رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر پاکستان اور مصر میں آپس میں بیٹھ کر مختلف شعبوں کی نشاندہی کر لیں تو اس تجارتی حجم میں آئندہ دو تین سالوں میں اتنا اضافہ ہو سکتا ہے کہ ملین سے بلین تک ٹریڈنگ پہنچ جائے گی۔
تیسری جوائنٹ منسٹر میٹنگ قاہرہ میں مصر کے دفتر خارجہ میں ہوئی جہاں پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سرکاری کے ساتھ ایک غیر سرکاری وفد بھی لے کر آئے تھے جس کی قیادت فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے سابق صدر اور بزنس لیڈر افتخار علی ملک کر رہے تھے۔
قاہرہ سے افتخار علی ملک نے نوائے وقت کو بتایا کہ دونوں ممالک کی تیسری جوائنٹ منسٹر میٹنگ بہت کامیاب رہی ہے اور پہلی مرتبہ وزرائے خارجہ نے فیصلہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافے کے لئے اور معاشی تعلقات مضبوط کرنے کے لئے جوائنٹ بزنس کونسل بنائی جائے جو پندرہ افراد پر مبنی ہو گی۔ ابتدائی طور پر اس کونسل کی ذمہ داری ہو گی کہ 12 مختلف شعبوں میں جیسے ٹیلی کمیونی کیشنز، ٹیکسٹائل، زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، توانائی، آٹومیبل اور انجینئرنگ، چاول، کنسٹرکشن اور بنکنگ و فنانس کے شعبوں پر کام ہوگا لیکن جوائنٹ بزنس کونسل کو اجازت ہے کہ باہمی رضامندی سے کوئی بھی نیا شعبہ وہ شامل کر سکتی ہے۔
افتخار علی ملک نے بتایا کہ تیسری جوائنٹ منسٹر میٹنگ کو کامیاب بنانے میں پاکستانی سفیر متعین مصر سیما نقوی اور اس کے ماتحت عملہ کا بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے ہوم ورک بہت محنت سے کیا تھا اور جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام کے لئے تمام ضروری اعدادوشمار اکٹھے کئے ہوئے تھے، مصر کی بزنس کمیونٹی کے ساتھ ایک غلط فہمی دور کرنے میں بھی کامیابی ملی۔ گزشتہ اسلامک چیمبر آف کامرس کی میٹنگ میں مصر نے پاکستان سے اسلامی چیمبر آف کامرس کا ہیڈ آفس تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا لیکن تفصیلی گفتگو کے بعد انہوں نے بتایا کہ آئندہ مصر کی طرف سے اس نوعیت کا مطالبہ کسی بھی پلیٹ فارم سے نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ پاکستان کا اسلامی دنیا میں بہت اہم مقام ہے اور اسلامی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا ہیڈ آفس پاکستان میں ہی قائم رہے گا اور ہم ہمیشہ تعاون کرتے رہیں گے۔