تم سے بجٹ کے تقاضے تو نبھائے جاتے....؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

بجٹ کی آمد آمد ہے.... موسم کی گرمی بڑھ رہی ہے.... اور غریب عوام شدید گرمی اور بجلی کی قلت کے باوجود امیدوں کے چراغ ڈال کے ہتھیلی پہ رکھے بیٹھے ہیں۔ پری بجٹ سیشن ہر سطح پر ہو رہے ہیں۔
لیکن کیا فائدہ.... ؟ ہمارے ہاں حکومتیں بجٹ بنانے سے پہلے اپنے ارکان سے مشورہ نہیں کرتیں۔ ماہرین سے کیوں پوچھیں کہ مدعا کیا ہے.... ہمارا مقصد بجٹ پر بحث کا آعاز کرنا نہیں ہے۔ واللہ اگر آپ حکم کریں تو ہم بجٹ کی تقریر سنے بغیر آنے والے بجٹ پر ایک گھنٹہ تقریر کر سکتے ہیں۔ کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بجٹ کی شروعات کہاں سے ہوں گی اور کیسے ہوں گی.... وہی مسائل کا رونا جو انہیں ورثا میں ملے ہیں.... لیکن جو وسائل ورثے میں پائے ہیں ان کو پہلو میں چھپا رکھا ہے.... مشرف کے ورثے میں انہیں کچھ ارکان زندہ باد بھی ملے تھے۔ انہیں انہوں نے وزارتیں بھی سونپ رکھی ہیں گزشتہ سال انہوں نے ورثے میں پائی ہوئی ایک خاتون سے بجٹ تقریر پڑھوائی تھی اکثر بجٹ تقریر پڑھنے والے خواتین وحضرات انگریزی میڈیم ہیں، نہ ان سے بجٹ کا بوجھ اٹھایا جاتا ہے نہ مشکل الفاظ کے ہجے اٹھائے جاتے ہیں۔ اس لئے سال گزشتہ بحٹ اٹھا بھی نہ تھا کہ بیٹھ گیا.... مگر سارا سال بھگتنا تو عوام کو پڑ گیا.... عوام....؟ ارے یہ عوام کون ہیں۔ ہم نے تو انہیں تقریروں میں اور انتخابات کے دوران دیکھا ہے عام حالات میں تو بجٹ کے حصہ دار خواص بھی ہوتے ہیں۔
سنا ہے ہمارے ملک میں ماہرین معاشیات و اقتصادیات ایک سے بڑھ کر ایک ہیں.... مگر حکومت وقت کو مشرف کی باقیات کی عادت پڑ گئی ہے۔ یا وہ اپنا ورثہ سنبھالنے اور سنبھالے رکھنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اسی ئے انہوں نے بصد عزت و عافیت جناب شیخ عبدالحفیظ کو بلایا ہے۔ شیخ صاحب، مشرف حکومت پروردہ اور تجربہ کار وزیر رہے ہیں۔ بہت سی تربیت کمال و جمال انہوں نے حضرت شوکت عزیز کے پہلو میں بیٹھ کر حاصل کی.... پورے پاکستان کے اندر.... اور اتنی بڑی دنیا کے باہر.... یا باہر کی دنیا کے اندر۔ جناب شیخ حفیظ اس کڑے وقت میں دستیاب ہو سکے۔ یہ بھی سنا گیا کہ.... انہوں نے کہا تھا....
شیخ جی باہر نہ نکلے اور اتنا کہہ دیا
آپ بی اے پاس ہیں تو بندہ مشرف پاس ہے
تاہم امید تو لگا رکھنی چاہئے.... کہ اعدادوشمار کا گورکھ دھندہ شاید عوام کی ڈوبتی ہوئی سانسوں کو بچا لے.... یہ ملک پاکستان وسائل سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں آٹا بھی ہے، بجلی بھی ہے، انواع و اقسام کی نعمتیں ہیں پھر بھی صرف مسائل کا تذکرہ کیوں ہوتا ہے....
خیر چھوڑئیے.... تھوڑے دن کی بات ہے۔ آپ پارلیمنٹ کے اندر یہ نظارہ دیکھ لیں گے کہ ہر فقرے پر ڈیسک بج رہے ہوں گے اور واہ واہ کے ڈونگرے برس رہے ہوں گے....
ہمارے ہاں ایک اچھی روایت اور بھی ہے کہ زندگی کے مختلف شعبوں کے لوگ بجٹ سے پہلے اپنے مسائل سے آگاہ کر دیتے ہیں۔ مجھے ایسے سینکڑوں خط ملے ہیں مگر آج میں نے ان سے صرف تین خطوں کا انتخاب کیا ہے۔
پہلا خط ورکنگ وومن ویلفیئر ٹرسٹ کی جانب سے آیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کی تعداد کل آبادی کے 51 فی صد سے تجاوز کر رہی ہے۔ بدلتے ہوئے حالات اور معاشی دباﺅ کے تحت ان میں سے کثیر تعداد معاشی ذمہ داریوں میں مصروف ہے۔ 65 فی صد ملازمت پیشہ خواتین پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کر رہی ہیں۔ ورکنگ وومن ویلفیئر ٹرسٹ نے ٹرانسپورٹ کے بارے میں سروے کرایا۔ حقائق سامنے آئے.... 90 فی صد ورکنگ خواتین جو صبخ و شام بسوں سے آتی جاتی ہیں۔ وہ عورتوں کے لئے علیحدہ بسیں چلانے کی خواہش مند ہیں۔ 80 فی صد خواتین پبلک ٹرانسپورٹ میں خواتین کی سیٹیں بڑھوانے کے حق میں ہیں۔ 94 فی صد عورتوں نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے تکلیف دہ مسائل ورکنگ وومن کی ذہنی، جسمانی صحت پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ کرائے بھی بڑھ رہے ہیں جو بڑا مسئلہ ہے۔ اس لئے جفاکش خواتین چاہتی ہیںکہ....
1.... ورکنگ وومن کے لئے محفوظ ٹرانسپورٹ کو یقینی بنایا جائے۔
2.... مخصوص اوقات میں خواتین کے لئے علیحدہ بسیں چلائی جائیں۔
3.... اداروں کو پابند کیا جائے وہ اپنی ورکر خواتین کو ادارے کی جانب سے ٹرانسپورٹ مہیا کریں۔
4.... کرایوں میں خواتین کے لئے کمی کی جائے۔
5.... خواتین کے حصے میں مردوں کی مداخلت بند کی جائے۔
6.... پبلک ٹرانسپورٹ کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔
ہمارے خیال میں خواتین کے یہ تمام مطالبات جائز ہیں۔ جمہوری حکومتیں ہر صوبے اور مرکز میں نوٹس لیں۔
دوسرا دردناک خط جناب رانا محمد بشیر کی طرف سے آیا ہے۔ خط بہت طویل ہے۔ س لئے سارا نقل نہیں کر سکتی مگر ان کا مسئلہ بھی گھمبیر ہے۔ اس لئے اہل درد کی توجہ دلانا ضروری ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ ضعیف العمر شہری ہیں۔ اور ای ڈی بی آئی کی طرف سے انہیں مبلغ 2000 روپے پنشن ملتی ہے۔ اس مہنگائی میں یہ رقم کم ہے۔ جب محکمے کی توجہ اس طرف دلوائی گئی تو انہوں نے اپنی مشکلات کا رونا رو کر لکھ دیا کہ پنشن میں اضافہ 2028ءتک ممکن ہے....ع
کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
محترم بزرگ لکھتے ہیں کہ.... محترمہ! اگر آپ مہینے کی پہلی تاریخوں میں نیشنل بنک کی کسی بھی شاخ میں جا کر ای ڈی بی آئی کے پنشنرز کی حالت زار کا مشاہدہ فرمانے کی زحمت گوارا فرمائیں بے بس اور لاچار خواتین و حضرات کی خستہ خالی دیکھ کر آپ کا حساس دل بھی خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو جائے گا۔ خدا کے لئے ہماری فریاد حکومت کے کاتوں تک پہنچا دیں۔
تیسرا خط پشاور سے جناب عبداللہ کا ہے۔ ان کے پندرہ سالہ بیٹے نوید اللہ کی آنکھوں کا نور ختم ہو گیا ہے ڈاکٹروں نے امید دلائی ہے کہ ایک لاکھ پچاس ہزار روپے میں سری لنکا سے اس کے لئے بینائی مل جائے گی۔ وہ لکھتے ہیں بیت المال، زکٰوة کے دفاتر کے چکر کاٹ کاٹ کر تھک چکا ہوں۔ بے نظیر انکم سپورٹ میں کئی ایم این اے کے تعاون سے درخواستیں بھیجیں.... سب بے سود.... پتہ نہیں وہ کون لوگ ہیں جن کی امداد کی جاتی ہے....
ہمارے ہاں اصولاً بیت المال بنایا ہی اسی لئے گیا تھا کہ ایسے مفلوک الحال اور لاچار لوگوں کی مدد کی جائے مگر افسوس کہ حق دار لوگ ان دروازوں پر بمشکل پہنچ سکتے ہیں۔ خدا کرے کہ کسی درد مند دل تک آپ کی آواز پہنچ جائے.... !
غریبوں کی سنو وہ تمہاری سنے گا....!