پیسکو چیف کو جلانے کی دھمکی

پیسکو چیف کو جلانے کی دھمکی

تخت پشاور پر رونق افروز وزیراعلیٰ نے دھمکی دی ہے کہ وہ پیسکو کے دفترکو جلا دیں گے، بعض اخبارات کے مطابق انہوں نے پیسکو چیف کو جلانے کا حکم دیا ہے۔
یہ وزیراعلیٰ ماشاللہ تحریک انصاف سے تعلق رکھتے ہیں جس کے پیدائشی سربراہ عمران خان نے دھرنوںکے دوران کہا تھا کہ اگر انہیں کچھ ہو گیا تو نواز شریف کو نہ چھوڑنا۔
دھمکیاں دینا ہمارے سیاستدانوں کا مشغلہ بن گیا ہے، ابھی زرداری کی دھمکیوں کی گونج باقی ہے، انہوںنے کہا تھا کہ اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا، فاٹا سے کراچی تک سب کچھ بند کردوں گا، سینتالیس کے بعد سے کرپٹ جرنیلوں کی فہرستیں نکالوں گا۔
ایک زمانے میں دھمکیوں کا شوق میاں شہباز شریف کو بھی چرایاتھا، کہتے تھے کہ لا ہور کی سڑکوں پر زرداری کو گھسیٹوں گا، سامنے والے درخت پر اسے الٹا لٹکائوں گا۔
لوگوں کو جماعت اسلامی کے رہنمائوںکی یہ دھمکی نہیں بھولی ہو گی کہ زبان گدی سے کھینچ لیں گے۔
اصغر خان نے پی این اے کے ایک جلسے میں دھمکی دی تھی کہ کوہالہ کے پل پر بھٹوکو پھانسی دوں گا۔
اور بھٹو نے بوڑھے صحافی زیڈ اے سلہری کو دھمکی دی تھی کہ انہیں فکس اپ کروں گا اور بھٹو جیسے ہی سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن کر نئے پاکستان کے مدارلمہام بنے تو انہوںنے سلہری کی برطرفی کا حکم جاری کر دیا۔ یہ بہت نرم اورنیک سلوک تھا مگر احمد رضا قصوری کی فائل پر انہوںنے ایف ایس ایف کو حکم دیا کہ اسے فکس اپ کر دیا جائے، احمد رضا کی بجائے اس کے بے گناہ باپ کو فکس اپ کر دیا گیا اور بھٹو اسی حکم کی پاداش میں پھانسی چڑھ گیا۔کہتے ہیں مکافات عمل اسی دنیا میں دیکھنا پڑتا ہے۔
جلائو گھیرائوکی دھمکیوں کی تاریخ بہت پرانی ہے، بھاشانی نے ستر کے انتخابات کی مہم میں جالو جالو آگن جالو کے نعرے لگائے اور پاکستان کی سلامتی اور یک جہتی کو خاکستر کر دیا۔
دیکھنے کی بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پشاور نے پیسکو کو یا اس کے چیف کو جلانے کی دھمکی کیوں دی۔ پیسکو بجلی پیدا نہیں کرتا، پشاور حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ بجلی پیدا کرے اور اگراس نے بجلی کی پیدا وار کا کوئی منصوبہ نہیںبنایا تو قصور پشاور حکومت کا ہوا، پیسکو تو بجلی کی ترسیل کا فریضہ ادا کرتا ہے اور اس کے بل وصول کرنے کا ذمے دار ہے، بجلی اسے نیشنل گرڈ سے ملتی ہے اور صوبے کے عوام اسے بل ادا نہیں کرتے چنانچہ پیسکو کے پاس نئے ٹرانسفارمر نہیں ہوں گے جو ٹرپ نہ کریں اور زنگ آلودہ تاریں بدلنے کے لئے پیسے نہیں ہوں گے جن سے نئی اور مضبوط تاریں ڈالی جا سکیں۔ یہ ہے پیسکو کا قصور جس کی سزا میں ا سے یا اس کے چیف کو جلانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔
بجلی کے خلاف احتجاجی سیاست کا آغاز کرنے کا سہرا میاں شہباز شریف کے سر سجتا ہے جنہوں نے زرداری دور میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کے لئے مینار پاکستان گرائونڈ میں خیمہ نصب کر لیا تھا، ہوا جھلنے کے لئے ان کے ہاتھ میںروائتی پنکھا تھا جبکہ سامنے میز پر منرل واٹر کی بوتلیں سجی ہوئی تھیں، یہ تصویر کسی دل جلے نے آج ہی سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کی ہے۔
یہ دھمکی بھی شہباز شریف کی ایجاد کردہ ہے کہ خونی انقلاب آنے والا ہے۔
اور یہ جو سیاست دانوں کی نئی نسل کھمبیوں اور گھاس پھونس کی طرح اگی ہے، اس کی زبان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔ دہشت گردوں کی دھمکیاںتو سنتے ہی تھے کہ بم سے اڑا دیں گے مگر تحریک انصاف کے ورکروں نے بھی کہنا شروع کر دیا کہ حکومت میں آ لینے دو، سڑکوں پر گھسیٹیں گے۔ محاورہ ہے کہ خدا گنجے کو ناخن نہیں دیتا اور دیا ہے تو صرف ایک ناخن، اب اس سے پیسکو میں توڑ پھوڑ کر لیں یا ہم لوگوں کا چہرہ نوچیں مگر وہ کچھ کرنے کے قابل ہی نہیں، صرف بڑھکیںمار سکتے ہیں اور بھولے بھالے عوام کو تشدد پر اکسا سکتے ہیں۔
ایک طرف موسم غضب ڈھا رہا ہے، رہی سہی کسر گدی نشین پشاور نکال دیں گے۔ عوام تو تنگ آمد بجنگ آمد کی عملی تصویر بنے ہوئے ہیں، ملک کے کونے کونے میں بپھرے ہوئے لوگ توڑ پھوڑ میں مصروف ہیں اور کراچی میں سورج کی تمازت، حبس اور پانی کی نایابی نے کربلا کا منظر پیش کر دیا ہے، لاشیں نہ گنی جا سکتی ہیں نہ ہسپتالوں میں رکھی جا سکتی ہیں اور نہ دفنائی جا سکتی ہیں، یہ قیامت کا سماں ہے اور پرویز خٹک اس قیامت کو دوآتشہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
سیاسی قیادت اور خاص طور پر حکومتی اہل کاروں میں پہاڑ جیسا حوصلہ چاہئے۔ انہیں ہر قسم کے لوگوں اور حالات سے واسطہ پیش آتا ہے اور تحمل، بردباری اور سلیقہ شعاری سے ہی حالات کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ ملک کو ماڈل ٹائون یا ڈسکہ نہ سمجھ لو کہ جس کے ہاتھ میں اسلحہ ہے، وہ آئو دیکھے نہ تائو، سامنے ہر ایک کو بھون ڈالے۔ اس طرح جنگل کا قانون چلے گا، انگریز کا دیا ہوا پینل کوڈ نہیں چل سکتا اور ہم نے بھی بدقسمتی سے ایک آئین بنا چھوڑا ہے، اس پر بھی عمل درآمد مشکل ہے۔
مزہ تو تب تھا جب مذکورہ چیف منسٹر یہ اعلان کرتے کہ صوبوں کو خودمختاری ملنے کے بعد سے ان کا خزانہ بھرا ہوا ہے اور وہ بجلی بنانے اور اس کی ترسیل کا کام پچھلے دو برسوںمیں انجام دے چکے ہوتے، صرف وفاقی حکومت کو دوش دینے سے کام نہیں چلے گا۔
اور ذرا پشاور والے ا پنے نامہ اعمال کو دیکھیں کہ کالاباغ ڈیم کو رکوانے کے لئے انہوں نے کیا کیا دھمکیاں نہیں دیں۔ ایک دھمکی تھی کہ یہ ڈیم بنا تو اسے بلا ٹکٹ بحیرہ عرب میں دھکیل دیں گے، دوسری دھمکی تھی کہ ا سے بم سے ا ڑا دیں گے۔ پشاورکی اسمبلی کئی بار اس ڈیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے، ہر سال بارشیں ہوتی ہیں ، ندی نالوں اور دریائوں کا سیلاب تباہی پہنچاتا ہے مگر اس صوبے کو پانی ذخیرہ کرنے سے کوئی دلچسپی نہیں، نئے پاکستان کے نعرے والی جماعت کی سوچ بھی پھٹی پرانی ہے، اس نے بھی پانی ذخیرہ کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا، ہمارے پاس ایک دریائے سندھ ہے جسے ہم استعمال کرنے کے لئے تیار نہیں جبکہ بھارت کو جہلم اور چناب پر کوئی اختیار نہیں مگر وہ ہر سال ان پر نئے ڈیم بناتا ہے اور بجلی بھی پیدا کرتا ہے، وہ دن دور نہیں جب پاکستان کو وہ خشک، بنجر، بے آب و گیا ہ صحرا میں بدل دے گا مگر ہمارے قومی اورصوبائی قائدین ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔
عمراں خان کے بارے میں سبھی ڈرتے تھے کہ وہ آمرانہ سوچ کا مالک ہے اورا س کے قائدین اور ورکر بھی کسی قاعدے قانون کا ماننے کے لئے تیار نہیں،گلوبٹ ان کا ماڈل ہے اور اسی ماڈل کی نقالی کرتے کرتے ایک نصف شب کو ڈی جے بٹ ماڈل ٹائون چوک میں اپنے کھنے سنکوا بیٹھا۔ اس کی عبرت انگیز وڈیو سوشل میڈیا پر دیکھی جا سکتی ہے۔
خدارا! وزیراعلیٰ پرویز خٹک اپنی زبان پر کنٹرول کریں، انہیں تو قائدانہ کردار ادا کرنا ہے، مولا جٹ بن کر نہیں، عمران خان بھی بن کر نہیں، عمر بن عبدالعزیزؓ بن کر دکھائیں اور ایک زمانے کی پیشوائی کریں۔