پکڑ دھکڑ کا انجام کیا ہوگا؟

کالم نگار  |  جاوید صدیق
پکڑ دھکڑ کا انجام کیا ہوگا؟

ذوالفقار علی بھٹو نے دسمبر1971 میں جب بچے کھچے پاکستان میں بطور صدر اور سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اقتدار سنبھالا تو قوم سے اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت بہت خراب حالت میں ہے پیسے والے لوگوں نے بہت سا پیسہ پاکستان سے باہر منتقل کر دیا ہے بھٹو نے ان لوگوں سے جنہوں نے پیسہ باہر بھجوایا تھا اپیل کی کہ وہ باہر سے اپنا پیسہ واپس لائیں کیونکہ پاکستان کو اس پیسے کی ضرورت ہے معلوم نہیں کہ بھٹو کی اس اپیل کے نتیجے میں پاکستان سے باہر بھیجا گیا پیسہ واپس آیا یا نہیں‘ لیکن 1971 ء کے بعد سے ہم مسلسل یہ خبریں پڑھ اور سن رہے ہیں کہ پاکستان سے پیسہ باہر جا رہا ہے کئی حکومتوں نے پیسہ باہر سے واپس لانے پر ترغیبات اوررعائتوں کا بھی اعلان کیا لیکن باہر بھیجا گیا پیسہ واپس نہیں آیا‘ الٹا باہرپیسہ بھیجنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا رہا۔
پاکستان میں ایک سابق امریکی سفیر ڈاکٹر تھامس سائمینز جونیئر نے 1996 میں لائنیز کلب کی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستانیوں کا کم سے کم ایک سو ارب ڈالر بیرون ملک بینکوں میں پڑا ہوا ہے ان دنوں میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائز ایک ارب ڈالر سے زیادہ کبھی نہیں ہوئے تھے پاکستان کے لئے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے چند سو ملین ڈالر کی رقم کا بندوبست کرنا مشکل ہو جاتا تھا امریکی سفیر نے لائنیز کلب اسلام آباد کی تقریب میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر پاکستانی اپنے ایک سو ارب روپے سے ایک چوتھائی رقم واپس پاکستان لے آئیں تو پاکستان کا معاشی بحران ختم ہو سکتا ہے نوے کی دہائی میں پاکستانیوں کی بیرون ملک بینکوں میں موجود رقم کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ ایک سو ارب کے لگ بھگ ہے اب کہا جا رہا ہے کہ یہ 200 ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے باخبر حلقوں کا دعویٰ ہے کہ پاکستانیوں کا جو پیسہ اس وقت باہرجمع ہے اس میں زیادہ تر پیسہ ناجائز یعنی کالا دھن ہے۔ اس میں سیاست دانوں‘ بیوروکریٹس اور تاجروں کا پیسہ بھی شامل ہے۔ وہ سیاست دان جو اقتدار میں آتے رہے ہیں انہوں نے مختلف سرکاری سودوں میں کمشنوں اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں میں جو پیسہ بنایا وہ انہوں نے بیرون ملک منتقل کردیا۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز بیوروکریٹس نے اختیارات کے ناجائز استعمال سے خوب پیسہ بنایا اور احتساب کے خدشے کے پیش نظر اسے باہر منتقل کردیا بعض فوجی آفیسر بھی مارشل لاء ادوار میں پیچھے نہیں رہے انہوں نے خوب پیسے بنائے اور باہر منتقل کر دیئے۔ پاکستان سے باہر جانے والے پیسے سے یورپ اور امریکہ میں جائیدادیں خریدیں۔ اب تو پاکستانی شہری دوبئی میں اربوں ڈالر کی جائیدادیں خرید چکے ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق صرف چھ ماہ سے پاکستانیوں نے نصف ارب ڈالر کی جائیداد دوبئی میں خریدی یہ خریداری بلاتعطل جاری ہے۔
کراچی میں حالات کو بہتر بنانے پاکستان کے اس معاشی اور تجارتی مرکز میں امن قائم کرنے کے لیے رینجرز نیشنل نے ایکشن پلان کے تحت جو آپریشن شروع کیا ہے اس میں ملکی وسائل کو لوٹنے سنگین جرائم کے ذریعے ریاستی دولت پر ہاتھ صاف کرنے اور شہریوں سے بھتہ وصول کرکے اربوں ڈالر بیرون ملک بھیجے جانے کے انکشافات ہوئے ہیں۔
سرکاری زمینوں پر قبضے کرکے انہیں فروخت کرنے‘ سرکاری ملازمتوں کی فروخت‘ سرکاری ٹھیکوں سے کروڑوں اور اربوں روپے بٹور کر پیسہ باہر منتقل کرنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے رینجرز نے جن سرکاری افسران اور دوسرے افراد کو گرفتار کیا ہے وہ بدعنوانی اور لوٹ مار کے ہوش رباء انکشافات کر رہے ہیں سے سے اہم بات یہ ہے کہ اس لوٹ مار کے پیچھے وہ سیاسی لیڈر بتائے جاتے ہیں جن کی ہوس کی کوئی حد نہیں ہے۔ رینجرز کی طرف سے گرفتاریوں پر بعض سیاسی لیڈر دھمکیوں پر اتر آئے ہیں پاکستان کے عوام بجلی کے بغیر سسک سسک کر جان دے رہے ہیں ہسپتالوں میں علاج کی سہولتیں میسر نہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت دیکھ کر رونا آتا ہے۔ لیکن دوسری طرف ملک کے وسائل بے دردی سے لوٹ کر بیرون ملکوں میں جمع کرائے جا رہے ہیں قیمتی جائیدادیں خریدی جا رہی ہیں ماضی میں بدعنوان سیاست دانوں اور بیورو کریٹس کا احتساب کئی مرتبہ شروع ہوا۔ جنرل ایوب خان کے دور میں کرپٹ سیاست دانوں اور سول افسروں کا احتساب شروع ہوا لیکن کرپشن رک نہ سکی۔ یحییٰ خان نے آتے ہی بیوروکریٹس کا احتساب شروع کیا۔ بھٹو مرحوم نے بھی چند سول افسروں کا احتساب کیا۔ جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء کے بعد صرف پی پی پی کے لیڈروں اور اس کے بعد افسروں پر ہاتھ ڈالا۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومتیں ایک دوسرے کا احتساب کرتی رہیں لیکن یہ احتساب سیاسی انتقام میں تبدیل ہو گیا۔ اب اگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں سے قوم کی جان چھڑائی جائے تو یہ قوم پر بڑا احسان ہو گا۔ لیکن محتسب بھی کرپٹ عناصر کے دباؤ یا لالچ میں آتے رہے۔ کہ خدشہ یہی ہے کہ جو پکڑ دھکڑ ان دنوں شروع ہے لیکن اس کا انجام بھی ماضی میں ہونے والے ’’احتساب‘‘ کا بھی نہ ہو۔