پاکستان کا رمضان!

 پاکستان کا رمضان!

امریکہ کا سترہ گھنٹے طویل روزہ موسم خوشگوار ہونے کی وجہ سے محسوس نہیں ہوتا ۔ اللہ سبحان تعالیٰ نے اس ملک کو لوڈ شیڈنگ کی لعنت سے بھی محفوظ رکھا ہواہے البتہ ایک روز ہمارے محلے کا پاور سسٹم خراب ہوگیا جس کی وجہ سے ہمیں ساری رات جاگ کر گزارنا پڑی جبکہ اس روز موسم بھی گرم تھا۔ طوفان اور دیگر وجوہات کی بنا پر امریکہ میں بھی بجلی کا مسئلہ پیش آ سکتا ہے بلکہ نیویارک میں سینڈی طوفان کی تباہی سے ہفتوں بجلی کا منقطع ہونا نیویارک کے عوام کے لیئے ایک ڈرائونا خواب معلوم ہوتا ہے ۔خدا پاکستان جیسا نصیب کسی ملک کو نہ دے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ملک کو ہر نعمت سے مالا مال کر رکھا تھا مگر ہائے لٹیرے۔۔۔اس ملک کو کھا گئے۔نہ موت کا خوف نہ رسوائی کی فکر۔کم بختوں نے کفن میں بھی جیبیں سلوا رکھی ہیں۔ کافروں کے ملکوں میں خاص تہواروں کے موقع پرسیل لگا دی جاتی ہے اور پاکستان میں ضمیر گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں شیطان قید کر لیا جاتا ہے اور پاکستانی زخیرہ اندوزوں اور دوکانداروں کو کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیئے لوٹ سیل کا ذریعہ ہے لیکن بدنصیب ہیں وہ مسلمان جو اس سنہری موقع کو گنوا دیتے ہیں۔ جس زمانے میںٹی وی چینل کی افطارنشریات نہیں ہوا کرتی تھیں، نماز عصر کے بعد خاندان کے افراد مل کر افطاری اور دعا کا اہتمام کیا کرتے تھے۔گھر کے بزرگ اہل خانہ کو اکٹھاکر تے اور مغرب تک تلاوت قرآن اور لمبی لمبی دعائیں مانگا کرتے مگر اب کمرشل مولویوں اور نعت خوانوں کی دعائوں کے پیچھے آمین کہنے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔دعا عبادت کا مغز ہے لیکن کاہلی کا یہ عالم ہو گیاہے کہ بندے خود دعا مانگنے سے فارغ ہو چکے ہیں۔شارٹ کٹ ڈھونڈتے ہیں کہ ان کی دعا کوئی مولوی مانگے اور وہ آمین کہہ کر مطمئن ہو جائیں۔ دور حاضر کے بزرگ بھی بچوں کے ساتھ دعا ئوں اور عبادت میں مشغول ہونے کی بجائے سحرو افطار ٹی وی کے ساتھ کرتے ہیں۔مہنگائی کی وجہ سے صدقہ خیرات میں بھی کمی آتی جا رہی ہے۔غریب کا تو وہ ویسے ہی بارہ مہینے روزہ ہوتا ہے لیکن رمضان کا مہینہ غریب کی کمر توڑ دیتا ہے ۔غریب اللہ تعالیٰ اور اس کے پیاروں کے اقوال زریں کی آس پر زندہ ہیں۔ حضرت امام جعفر صادق ؓ نے فرمایا کہ جو شخص موسم گرما میں روزے رکھے گا اور گرمی کی پیاس برداشت کرے گا تو اللہ تعالیٰ ہزار فرشتوں کو اس پر مقرر فرماتا ہے کہ اس کی زیارت کریں اور اسے مبارکباد دیں اور جب وہ روزہ افطار کر لیتا ہے تو خدائے عزہ جل فرماتا ہے کہ تم میں سے کتنی زبردست خوشبو آرہی ہے۔اے میرے فرشتو!تم سب گواہ رہنا کہ میں نے اس کی بخشش کر دی ہے‘‘۔ کراچی میں حبس اور گرمی نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ اموات کی تعداد قابل افسوس ہے۔کچھ موسم کی آزمائش ہے اور باقی کسر ایوانوں کے ٹھنڈے ایئر کنڈیشنروں میں بیٹھنے والوں نے پوری کر دی ہے۔پاکستان پرکیا برا وقت آگیا ہے۔ حکمران چین کے ہم پلہ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں مگر عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ فرماتے ہیں۔ ’’ایک دن ہم رسول اللہؐ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ مصعب بن عمیرؓ بھی وہاں آگئے۔ اس وقت ان کے بدن پر صرف ایک چادر تھی اور اس چادر میں بھی پیوند کے چمڑے لگے ہوئے تھے۔ رسول اللہؐ نے انہیں دیکھا تو رو پڑے کہ ایک زمانہ وہ تھا جب مصعبؓ کس قدر خوشحال اور راحت کی زندگی گزارتے تھے اور آج ان کی یہ حالت ہے۔ پھرحضورؐ نے اصحابؓ سے فرمایا، اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جبکہ تم میں کوئی شخص صبح کو ایک جوڑا پہن کر نکلے گا اور پھر شام کو دوسرا جوڑا پہن کر نکلے گا۔ تمہارے سامنے کھانے کا ایک بڑا پیالہ رکھا جائے گا اور دوسرا اٹھایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر اس طرح پردہ ڈالو گے، جس طرح کعبہ پر پردہ ڈلا جاتا ہے (یعنی جب تم پر خوشحالی کا دور آئے گا) صحابہؓ نے عرض کیا‘ یا رسول اللہؐ! جب ہم خوشحال ہوں گے تو اس وقت ہم عبادت کے لئے آزاد اور فارغ ہوں گے اور ہمیں محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ حضورؐ نے یہ سن کر فرمایا ’ایسا نہیں ہے کہ اس وقت تم بہتر ہو گے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم اس دن کی بہ نسبت آج کے دن زیادہ بہتر ہو‘‘۔