اپوزیشن کے بائیکاٹ نے حکومت کو بجٹ ’’متفقہ‘‘ طور پر منظور کرنے کا موقع فراہم کر دیا

اپوزیشن کے بائیکاٹ نے حکومت کو بجٹ ’’متفقہ‘‘ طور پر منظور کرنے کا موقع فراہم کر دیا

بالآخر وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحق ڈار نیاپوزیشن کے بائیکاٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وفاقی بجٹ 20115-16ء ’’متفقہ‘‘ طور پر منظور کرا لیا اگرچہ اپوزیشن نے بجلی کی لوڈشیڈنگ کو جواز بنا کر قومی اسمبلی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا ہے لیکن جہاں اپوزیشن نے حکومت کے خلاف پوائنٹ سکورننگ کی ہے وہاں حکومت کو بآسانی بجٹ منظور کرانے کا موقع فراہم کر دیا اگر اپوزیشن اجلاس کی کارروائی کا بائیکاٹ نہ کرتی تو اپنی 1515کٹوتی کی تحاریک پر بحث کرتی اور حکومت کو ناکوں چنے چباتی لیکن اپوزیشن نے حکومت کیلئے میدان کھلا چھوڑ دیا۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پارلیمنٹ ہائوس میں اپنے چیمبر میں کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ تک ’’آف دی ریکارڈ ‘‘ محفل سجائی وہ انتہائی خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہے تھے ان کی خوشی کی وجہ جاننے کی کوشش کی گئی لیکن انہوں نے کچھ بتانے سے گریز کیا شاید آج میڈیا کو ’’بریکنگ نیوز ‘‘ دیں گے۔ اپوزیشن کے احتجاج کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس کی کارروائی ڈیڑھ گھنٹہ تک ملتوی رہی ۔ منگل کو سپیکر کے چیمبر میں حکو مت اور اپوزیشن کے درمیان بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے معاملے پر مذاکرات ناکام ہوگئے اپوزیشن نے حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرنے کی صورت میں اجلاس کے بارے میں ریکوزیشن جمع کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سپیکر چیمبر میں قائد حز ب اختلاف سید خورشید شاہ ، صاحبزادہ طارق اللہ، شاہ محمود قریشی ، آفتاب احمد خان شیرپائو،حاجی غلام احمد بلور اور وفاقی وزراء اسحاق ڈار ، پرویز رشید، خواجہ سعد رفیق ، شیخ آفتاب احمد اور سپیکر سردار ایاز صادق مذاکرات میں شریک رہے خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت پر ا عتماد نہیں کیا جا سکتا حکومت ایوان سے اپوزیشن کو باہر نکالنے کی منصوبہ بندی کر رکھی ہے بہر حال حکومت کو بآسانی بجٹ منظور کرانے میں اپوزیشن کا کلیدی کردار ہے منگل کو حکومت اور اپوزیشن نے مل کر پارلیمنٹ کے باہر کراچی میں گرمی سے جاں بحق ہونے والے افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا تو کی لیکن اپوزیشن اجلاس میں واپس آنے پر آمادہ نہیں ہوئی ۔