شہادت سے خوفزدہ ’’قائدِ اِنقلاب؟‘‘

کالم نگار  |  اثر چوہان
 شہادت سے خوفزدہ ’’قائدِ اِنقلاب؟‘‘

شاعر نے کہا تھا کہ    ؎
’’سُرمۂ مُفت نظر ہُوں ٗ میری قِیمت یہ ہے
کہ رہے چشمِ خریدار پہ احسان مرا ‘‘
اِس شعر کی اہمیت و افادیت ایک بار پھر واضح ہو گئی جب ’’کینیڈین شیخ اُلاِسلام‘‘ علّامہ طاہر اُلقادری نے  گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کی اِک مُسکراہٹ پر اُنہیں اپنا ’’سُرمہ انقلاب ‘‘مُفت نذر کردیا اور کہا کہ ’’چودھری محمد سرور میرے دیرینہ دوست اور بھائی ہیں اور مَیں اِن کو وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کا نمائندہ سمجھ کر نہیں بلکہ اِن سے اپنے گہرے دوستانہ تعلقات کی وجہ سے طیارے سے اُتر کر اور گورنر صاحب کو اپنے ساتھ بُلٹ پرُوف گاڑی میں بٹھا کر اپنے گھر جارہا ہُوں۔اِس لئے کہ اگر میاں شہباز شریف مجھے قتل کرانے کے لئے حملہ کرائیں تو چودھری سرور بھی میرے ساتھ شہید ہو جائیں‘‘۔
گورنر پنجاب نے کہا کہ  ’’مَیں نے طاہر اُلقادری صاحب سے مِلنے کا سوچا۔ پھر مَیں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف سے بات کی اور اُن کے بعد وزیرِ قانون رانا مشہود احمد خان سے۔ رانا صاحب نے وزیرِاعظم سے بات کی اور وزیرِ اعظم نے مُجھے  ’’Go Ahead ‘‘ کہا اور مَیں طاہراُلقادری صاحب کے پاس چلا آیا‘‘۔ جب بات چیت ہو رہی تھی تو چودھری محمد سرور تو خیر اپنی کامیابی پر خوشی کا اظہار کررہے تھے لیکن یہ علّامہ طاہر اُلقادری کو کیا ہُوا تھا  ؟کہ وہ بھی اپنے دیرینہ دوست اور بھائی سے چہک چہک کر گفتگو کیوں کر رہے تھے؟۔کیا اُن کو سانحہ ماڈل ٹائون میں قتل اور زخمی ہونے والے کارکنوں کا غم وقتی طور بھُول گیا تھا؟۔ بہرحال وزیرِاعظم میاں نواز شریف اور وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے اِنتہائی دانشمندی اور فراست سے علاّمہ طاہر اُلقادری کے انقلاب کی تین پہّیوں کی گاڑی کے بہت سے کل پُرزے ناکارہ کر دیئے۔ چودھری محمد سرور کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیرِ داخلہ چودھری نثار علی خان اور پنجاب کے وزیرِ قانون رانا مشہود خان نے بھی علاّمہ طاہراُلقادری کی چالوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کِیا ۔چودھری نثار علی خان نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ  علاّمہ طاہر القادری کو بحفاظت لاہور پہنچانے کی ذمہ داری وفاقی حکومت کی ہے‘‘۔
 پاکستان آنے سے قبل علاّمہ طاہرالقادری اندرون اور بیرون مُلک یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ  ’’مَیں پاک فوج کا چہِیتا ہوں‘‘۔
اُنہوں نے اس طرح کے بیانات بھی دیئے تھے کہ ’’دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج اوروزیرِ اعظم نواز شریف ایک’’Page  ‘‘ پر نہیں ہیں اور مَیں نے چونکہ دہشت گردوں کے خلاف فتویٰ دے رکھا ہے اِس لئے پاک فوج میرے انقلاب کی حامی ہے‘‘۔ علاّمہ طاہراُلقادری نے پاکستان آنے سے قبل پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف سے درخواست کی تھی کہ چونکہ مُجھے شریف برادران سے جان کا خطرہ ہے  لہٰذا جب مَیں 23 جون کی صبح اسلام آباد کے ہوائی اڈّے پر اُتروں تو پاک فوج کو ہوائی اڈّے کا کنٹرول سنبھالنے کا حُکم دِیا جائے۔’’طاہراُلقادری صاحب کی یہ درخواست نامنظور کردی گئی۔
لاہور کے ہوائی اڈّے پر طاہر اُلقادری U-A-E کے طیارے میں دھرنا  دے کر بیٹھ گئے تھے۔ اُن کا اِصرار تھا کہ۔ ’’کور کمانڈر خود طیارے میں تشریف لائیں اور پاک فوج اپنی حفاظت میں مُجھے میرے گھر چھوڑنے جائے‘‘۔ لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی ہدایت پر وزیر ِقانون رانا مشہود احمد خان نے طاہر اُلقادری کی اِس درخواست ( یا ضِدّ) سے کور کمانڈر صاحب کوآگاہ ہی نہیں کیا۔ پھر طیّارے کے کپتان نے علّامہ طاہر اُلقادری کو سمجھایا کہ ’’شرافت سے طیارے سے اُتر جائیں ورنہ ہم آپ کے خلاف طیارہ اغواء کرنے کا مقدمہ دائر کردیں گے‘‘۔ پھِر’’قائدِ اِنقلاب‘‘کے پاس اورکوئی چارہ ہی نہیں تھاکہ وہ ’’اپنے دیرینہ دوست اور بھائی‘‘ کا دامن تھام لیں۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو طاہر اُلقادری جی ۔ ’’شوقِ شہادت‘‘ میں پاکستان تشریف لائے ہیں لیکن فوری طور پر ’’شہید‘‘ بھی نہیں ہونا چاہتے۔ چنانچہ اُنہوں نے یہ شرط بھی رکھ دی کہ ’’ اگر مُجھے شہید کرنا چاہتے ہو تو میرے دیرینہ دوست اور بھائی کو بھی شہید کرو!‘‘۔
تین روز قبل برطانیہ میں ڈاکٹر مجید نظامی صاحب کے زیر سایہ  پُوری دُنیا میں سرگرمِ عمل ’’نظریہ پاکستان کونس‘‘ برطانیہ کے چیئر مین ’’بابائے امن گلاسکو‘‘ ملک غلام ربانی اعوان نے مُجھے ٹیلی فون پر بتایا تھا کہ  ’’علاّمہ طاہر اُلقادری کو پاکستان میں فساد پھیلانے سے صِرف ایک ہی شخص روک سکتا ہے اور وہ ہے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور‘‘ مَیں نے بابائے امن سے پوچھا کہ  چودھری محمد سرور کے پاس وہ کون سی’’گِدّڑ سِنگی‘‘ ہے کہ جب وہ علاّمہ القادری کو سُنگھائی جائے گی تو وہ اُس کی خوشبو سے مَست ہو کر اپناانقلاب ملتوی کردیں گے؟  تو بابائے امن نے کہا کہ  ’’35 سال تک برطانیہ میں رہنے اور مسلسل  12 سال تک برطانوی داراُلعوام کے رکن رہنے والے چودھری محمد سرور نہ صِرف خود بلکہ برطانیہ بھر میں اپنے بہت سے دوستوں کے تعاون سے ٗ علاّمہ طاہراُلقادری کے منہاج اُلقرآن کے لئے خیرات زکوٰۃ، صدقات ٗ فطرانہ اور قربانی کی کھالیں جمع کرتے رہے ہیں ٗ اِس لئے علاّمہ صاحب چودھری محمد سرور صاحب کی بات کو ٹالیں گے نہیں‘‘۔ پھر واقعی وہی ہُوا جو مُجھے بابائے امن نے بتایا تھا۔
مَیں نے بچپن میں ایک واقعہ سُنا تھا کہ  ’’گائوں میں فصل کی کٹائی کے بعد بہت سے پیشہ ور  اپنی خدمات کے عوض  ’’ دانے‘‘ لینے کے لئے زمیندار کی حویلی میں جمع تھے۔ سب لوگ زمین پر بیٹھے تھے لیکن گائوں کی مسجد کے مولوی صاحب چار پائی پر  ایک مراثی نے دوسرے مراثی سے پُوچھا ’’کرم دین بھائی! دانے تو ہم بھی لینے آئے ہیں اورمولوی صاحب بھی۔  لیکن ہم سب زمین پر بیٹھے ہیں اور مولوی صاحب چارپائی پر کیوں؟‘‘ دوسرے مراثی نے کہا  ’’بھائی عُمر دین! مولوی صاحب عِزّت والے کمّی ہیں‘‘۔ ماشا اللہ ! علاّمہ طاہر اُلقادری کا کاروبار 90 مُلکوں میں پھیلا ہُوا ہے۔ وہ کہا کرتے ہیں کہ ’’ جب امام خمینی 20 سال کی جلا وطنی کے بعد ایران واپس آکر انقلاب لا سکتے ہیں تو مَیں پاکستان میں انقلاب کیوں نہیں لا سکتا۔‘‘
علاّمہ طاہر اُلقادری اپنے مُحسن و مربی چودھری محمد سرور کو ناراض نہیں کر سکے اور انہوں نے ٗ اپنا انقلاب ملتوی کردِیا اور کہا کہ ’’چودھری صاحب کی دوستی اپنی جگہ اور انقلاب اپنی جگہ مَیں اب بھی شریف برادران کو دہشت گرد سمجھتا ہوں وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف  ’’قاتلِ پنجاب ہیں‘‘ مختلف نیوز چینلوں پر اسلام آباد اور لاہور پہنچنے والے منہاج اُلقرآن‘‘ اور ’’پاکستان عوامی تحریک‘‘ کے کارکنوں کا جوش و خروش دِیدنی تھا۔ انہوں نے پولیس کی رکاوٹیں توڑِیں اور ان کے ڈنڈے بھی کھائے لیکن ’’قائدِ انقلاب ‘‘ طیارے میں دُبک کر بیٹھے رہے جب تک اُنہیں طیّارہ چھوڑنے کے لئے نہیں کہا گیا۔ اگر چودھری محمد سرور ’’قائدِ انقلاب‘‘ کی مدد کو نہ آتے تو کیا ہوتا؟ علاّمہ طاہراُلقادری ’’شیخ اُلاسلام‘‘ کا لقب اختیار کر کے جب انقلاب لانے کے لئے دسمبر2012  ء میں پاکستان تشریف لائے تھے تو شاعرِ سیاست نے اُن کے لئے ایک استقبالیہ نظم لِکھی تھی جسِ کا ایک بند یہ ہے   ؎
اِس کے بَد صُورت ہاتھوں میں فتویٰ فروشی کا ڈنڈا ہے
بلوہ ٗ فِتنہ ٗ فساد ٗ لڑائی ہی اِس کا ایجنڈا ہے
ارضِ پاک میں اِس کو  اچھا لگتا نہیں جمہوری نظام
ملکۂ کینیڈا کی رعِیّت  بن بیٹھا شیخ اُلاسلام
گورنر پنجاب نے علاّمہ طاہراُلقادری کی عِزّت بچا لی لیکن بڑی فراست سے اُن کے ’’سبز انقلاب‘‘ کو بھی ملتوی کرادیا اور علّامہ طاہر اُلقادری نے بھی چودھری محمد سرور کے سر امن و امان کا سہرا باندھ دیا۔ بقول شاعر   ؎
’’کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہاتھ دے اُس ہاتھ لے ‘‘
بہر حال یہ بات تو ظاہر ہو گئی کہ ’’شہادت  شہادت‘‘ کی گردان کرنے والے ’’قائد ِاِنقلاب‘‘  نے ایک بار پھر ثابت کردیا ہے کہ وہ  شہادت سے ٗ کتنے خوفزدہ ہیں؟