”چڑیا کی چیئرمینی“

کالم نگار  |  حافظ محمد عمران

سابق نگران وزیراعلی پنجاب نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا قائمقام چیئرمین مقرر کر دیا گیا ہے۔ ذکاءاشرف کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے کام سے روک کر یہ حکم فرمایا تھا جس پر عملدآمد ہو گیا ہے۔ آج اس کیس کی پھر سے سماعت ہونی ہے۔ دیکھیں ذکاءاشرف کے مستقبل کا فیصلہ کیا ہوتا ہے لیکن ان کی جگہ اب نجم سیٹھی فرائض انجام دیں گے۔ میڈیا میں چند روز تک ساجد خان، چشتی مجاہد اور ممتاز حیدر رضوی کے نام گردش میں رہے لیکن اس دوڑ میں ”چڑیا “ والے نجم سیٹھی نے آپس میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور کیا کہ وہ سب کو پیچھے چھوڑ گئے پاکستان میں صدر اور وزیراعظم کے دور پی سی بی چیئرمین کا دفتر عوامی سطح پر سب سے زیادہ نظر میں ہوتا ہے۔ کبھی کرکٹ پاکستان کا مقبول ترین کھیل تھا۔ یہ الگ بات اس کھیل کو چلانے والے ادارے کا چیئرمین زیادہ تر غیر مقبول ہی رہتا ہے۔ نجم سیٹھی سے پہلے ذکاءاشرف کرکٹ بورڈ کے چیئرمین تھے ان کی اہلیت یہ تھی کہ وہ کرکٹ بورڈ کے پیٹرن انچیف آصف علی زرداری کے قریبی دوست تھے اور نجم سیٹی کی تقرری کے معاملے میں حکمران جماعت کو سیاسی مقاصد تو حاصل نہیں ہو سکتے تاہم اس فیصلے سے یہ پیغام ضرور جائے گا کہ مسلم لیگ (ن) روشن خیالوں کو بھی اہمیت دے رہی ہے۔ وقت نیوز کے پروگرام گیم بیٹ، میں کئی ایک لائیو کالرز نے نجم سیٹھی کو نگران حکومت میں آپس کے معاملات کے صلہ دیا گیا ہے۔ پاکستان کی کرکٹ میں انتظامی سطح پر بدانتظامیوں، غلط فیصلوں کی وجہ سے گذشتہ چند برس میں ہمیں بے پناہ نقصان ہوا ہے۔ آئی سی سی کی سطح پر ہماری ساکھ بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کرکٹ کرپشن کے معاملے میں پاکستانی کھلاڑیوں کو سزائیں، ٹیم کے اندر دھڑے بندی، بورڈ میں غیر ضروری تقرریوں کی وجہ سے بورڈ کے خزانے پر اضافی بوجھ سیاسی لوگوں کی مداخلت کی وجہ سے آج یہ حال ہے کہ پچاس اوورز کی کرکٹ میں ہماری ٹیم پورے اوورز نہیں کھیل پاتی، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑی نظر نہیں آ رہے۔ ماورائے آئین اقدامات کئے جاتے ہیں۔ بورڈ کے ملازم ملک کے مقبول ترین کھیل کے تحفظ کے بجائے فرد واحد کی حفاظت کرتے دکھائی دیتے ہیں، اوپر سے نیچے تک پسند نا پسند پر تقرریوں نے نظام کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ آج پاکستان کے میدان تو ویران ہیں تاہم عدالتوں میں کرکٹ ضرور کھیلی جا رہی ہے۔ نجم سیٹھی بھی ایسے چیئرمینوں کی فہرست میں ایک متوقع اضافہ ہیں جنہیں حکومت کی آشیر باد حاصل ہے۔ جن کا کھیل سے دور دور تک عملی تعلق نظر نہیں آتا۔ ہاں وہ بہ ضرور کہتے ہیں کہ وہ ایک صحافی ہیں۔ بات کی طرح کرکٹ کو بھی جزبے کے ساتھ دیکھا اور صحافی ذمہ داریاں ادا کی ہیں۔ وہ اپنی تقرری کااس طرح بھی دفاع کرتے ہیں کہ آئی سی سی کے رکن ممالک بورڈز کے سربراہان میں کوئی بھی ٹیسٹ کرکڑ نہیں ہے۔ لیکن کیا یہ بھی دیکھا گیا کہ ان عام افراد کا کرکٹ کی ایڈمنسڑیشن میں کتنا تجربہ ہے اگر وہاں ایسا ہوتا ہے تو پھر ہمارے ہاں اس چیز کو نظر انداز کیوں کیا جاتا ہے۔ نجم سیٹھی کے مطابق وہ اپنے سکولوں کی ٹیم کے اوپننگ بلے باز رہے ہیں۔ اب وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سپنر ہیں، بورڈ کے افسران کی ٹیم ان کے ساتھ ہے دیکھنا یہ ہے کہ ان کی ”چڑیا“ اس شعبے میں ان کے کتنے کام آتی ہے۔ وہ حقیقی معنوں میں بورڈ کو مکمل طور پر جمہوری بنانے کےلئے کردار ادا کرتے ہیں یا پھر ضیاءالحق کے 90دنوں کی طرح اور ذکاءاشرف کے ہتھیاروں کی طرح خود کو پاکستان کرکٹ سے لازم و ملزوم کر دیتے ہیں۔ نجم سیٹھی کی تقرری ان افراد کےلئے حیران کن ہے جو اس پوزیشن پر کسی تجربہ کار شخص کو دیکھنا چاہ رہے تھے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ جب اسمبلی چلانے کی بات آتی ہے تو تجربہ کار افراد کی بات کی جاتی ہے لیکن جب ملک کے مقبول ترین اور ہمارے قیمتی اثاثے اور فخر کی بات کی جاتی ہے تو پھر وہاں ذاتی مفادات، پسند نا پسند اور مصلحت کے تحت فیصلے کئے جاتے ہیں۔ عوامی حلقوں کے مطابق سیٹھی صاحب کی تقرری خالصتاً سیاسی ہے اور اسکا کوئی نہ کوئی سیاسی مقصد ہے۔ اگر یہ سیاسی فیصلہ ہے تو پھر قائم مقام چیئرمین کو اپنے اقدامات اور فیصلوں سے نتائج دینا پڑیں گے اسے غیر سیاسی اور درست فیصلہ ثابت کرنا ہوگا۔ ہماری دعائیں ان کے ساتھ ہیں کہ وہ پاکستان کی کرکٹ کو کم تجربے کے باوجود وسیع اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مسائل سے نکالیں گے اور مصلحت سے آزاد ہوکر فیصلے کریں گے۔ ماضی کی طرح ان کی ان کی چڑیا رہنمائی کرتی رہی تو بہتری آ سکتی ہیں۔