وزارت خارجہ کیلئے نئے چہرے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

سینئر صحافی کالم نگار محترم جاوید صدیق کے کالم کا عنوان ہے ”نئے لوگوں کو موقع دو“ انہوں نے وزارت خارجہ کو خاص طور پر موضوع بحث بنایا ہے۔ یہ بھی لکھا ہے کہ ”امریکی وزیر خارجہ جان کیری اس لئے پاکستان نہیں آ رہے کہ وہاں کوئی وزیر خارجہ ہی نہیں ہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ امریکی نواز شریف کو وزیراعظم تو سمجھتے ہیں وزیر خارجہ نہیں سمجھتے۔ کتنی بدقسمتی ہے کہ دو تہائی اکثریت سے وزیراعظم بننے والے کے پاس ایک بھی آدمی نہیں کہ اسے وزیر خارجہ بنا سکیں۔ جاوید صدیق کے کالم میں دلچسپ اور اہم باتیں اور بھی ہیں ان کے لئے بھی بات ہو گی۔ مگر پہلے مولانا اجمل قادری کی اس درخواست کا ذکر کروں گا جو انہوں نے ایک خط کے ذریعے نواز شریف تک پہنچائی ہے۔ انہوں نے مریم نواز کی سفارش کی ہے کہ انہیں اپنی سرگودھا والی نشست سے ایم این اے کامیاب کروایا جائے۔ کامیاب ”کروانے“ کے مشورے پر غور کیا جائے۔ اس کے بعد مریم نواز کو حنا ربانی کھر کی طرح وزیر خارجہ بنایا جائے۔ اپنے ہم نام اجمل قادری صاحب سے گزارش ہے کہ اسمبلی سے مریم نواز کے وزیر خارجہ بننے میں کچھ تحفظات ہیں۔ یہ تحفظات مولانا فضل الرحمن جیسے نہیں ہیں۔ حمزہ شہباز دوسری مرتبہ ایم این اے بنے ہیں مگر وزیر شذیر نہیں بنے یا نہیں بنائے گئے تو مجھے خوشی ہے کہ ابھی ان کے سیکھنے کے دن ہیں۔ مجھے تو یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ انہیں مسلم لیگ ن کا سینئر رہنما کہا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے کئی سینئر رہنما ان کے آگے پیچھے رہتے ہیں۔ مریم نواز بھی ابھی سینئر رہنما نہیں ہیں وہ پڑھی لکھی اور سلجھی ہوئی ہیں۔ پی ٹی وی کی مقبول کمپیئر جگن کو انٹرویو دیتے ہوئے مریم نواز نے اردو زبان کی بہت حمایت کی جبکہ وہ خود انگریزی میں ایم اے ہیں کلثوم نواز نے اردو میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ ہم نے چاہا تھا کہ کلثوم نواز سیاست نہ چھوڑیں۔ وہ سیاست میں آئیں کہ ان کے خاوند اور خاندان والے جیل میں تھے۔ وہ انہیں جلا وطن کرا کے چلی گئیں۔ اب ہم وطنی اور جلا وطنی کی حقیقت کو یکجا کر کے دکھائیں۔ انہوں نے یہ تو کیا کہ اپنی بیٹی مریم نواز کو میدان سیاست میں اتار دیا۔ مگر ابھی سے ان کے وزیر خارجہ بننے کی سوچ یا خواہش مناسب نہیں۔ اجمل قادری کی یہ بات تو مجھے بالکل اچھی نہیں لگی کہ حنا ربانی کھر کی طرح وزارت خارجہ کا قلمدان ان کو سونپ دیا جائے۔ اجمل صاحب کو معلوم نہیں ہو گا کہ حنا ربانی کھر کس طرح وزیر خارجہ بنائی گئیں۔ وہ جنرل مشرف اور صدر زرداری کی وزیر شذیر رہی ہیں۔ جنرل مشرف کی کئی ساتھی خواتین نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ ماروی میمن سمیرا ملک زبیدہ جلال سے مریم نواز کی ملاقات ہوئی ہو گی۔
اس مشورے کو یہ چیز گذارش بناتی ہے کہ اس آڑ میں اجمل قادری نے کہا ہے وزارت خارجہ کے لئے وزیر مملکت صدیق کانجو کے بیٹے عابد کانجو کو مریم نواز کا نائب بنایاجائے۔ جناب اجمل قادری اپنے زمانے کی بہت بڑی روحانی شخصیت اور اللہ والے احمد علی لہوری کے پوتے (صاحبزادے) ہیں۔ شیرانوالہ گیٹ ان کی زندگی میں بہت مقبول عام ہوا تھا۔ ان کے صاحبزادے مولانا عبیداللہ انور بھی بہت بے نیاز اور اہل دل تھے۔ ایک بار گورنر کالا باغ نے حضرت احمد علی لہوری کو گورنر ہاﺅس میں بلایا تھا۔ وہ نہ گئے کہ جس کو مجھ سے ملنا ہو وہ میرے حجرے میں آئے۔ انہوں نے ساری عمر شیرانوالہ گیٹ کے ایک چھوٹے سے گھر میں گزاری۔ مولانا اجمل قادری ڈیفنس میں منتقل ہو گئے ہیں مگر روحانی نسبت کو نیا رنگ دینے کے لئے اپنے بنگلے کا نام شیرانوالہ ہاﺅس رکھا۔ برادرم جاوید صدیق نے لکھا ہے کہ وزارت خارجہ کے لئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز اور معاون خصوصی طارق فاطمی کی آپس میں نہیں بن رہی۔ یہ صورتحال پریشان کن ہے۔ سرتاج عزیز ایک سینئر اور محب وطن سیاستدان ہیں۔ وہ پہلے وزیر خارجہ رہ چکے ہیں۔ فاطمی صاحب مشہور زیادہ ہو چکے ہیں۔ اپنی اہلیہ کو ایم این اے بنوا چکے ہیں۔ سنا ہے انہیں سنیٹر بنوا کے وزیر خارجہ بنوایا جائے گا۔ یہ بات ان کے حق میں جاتی ہے کہ جان کیری نے انہیں قبول نہیں کیا۔ اس کا مطلب ہے نواز شریف نے امریکہ کی منظوری کے بغیر فاطمی کے لئے فیصلہ کیا ہے۔ یہ بات ہے تو اللہ انہیں ثابت قدم رہنے کی توفیق دے۔
اس سے پہلے اسحاق ڈار نے بھی وزیر خارجہ بننے کی خواہش کی تھی۔ انہوں نے جو بجٹ پیش کیا ہے تو لوگ پوچھتے ہیں کہ انہیں وزیر خزانہ کیوں بنایا گیا ہے۔ وہ وزیر خارجہ کے طور پر بھی امریکہ کو قبول ہوں گے۔ چودھری نثار چاہتے تو وزیر خارجہ بن سکتے تھے مگر وزیر داخلہ ہونا انہیں پسند ہے کہ اس طرح وہ وزیر اعظم کا کچھ کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔
آخر میں ایک ایم پی اے نگہت شیخ کے حوالے سے یہ بات کہ میں نگہت شیخ کو نہیں جانتا۔ سنا ہے وہ پنجاب اسمبلی میں بھی چادر لے کے میک اپ سے بے نیاز ہیں۔ ورنہ اکثر اسمبلی میں بیوٹی پارلر سے سیدھی چلی آتی ہیں۔ مجھے کئی لوگوں اور ممبران اسمبلی نے نگہت شیخ کی تعریف اور حمایت میں فون کئے ہیں۔ میں عورتوں کے میک اپ وغیرہ کے حق میں ہوں۔ سجنا سنورنا اچھا لگنا عورت کا حق ہے۔ اسے اچھا ہونا بھی چاہئے۔ جب یہ واقعہ ہوا تو میں نے بس ہوسٹس کی حمایت کی تھی۔ میں ہمیشہ مظلوموں کا ساتھی رہا ہوں اور ظالموں کے خلاف قلم کے ذریعے میدان میں ہوتا ہوں۔ مگر ایم پی اے بھی تو انسان ہے۔ اسے یہ حقوق دینے چاہئیں اسے یہ حق نہیں کہ وہ عام لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالے۔ اس ملک میں ممبران اسمبلی فرعون بنے پھرتے ہیں۔ انہیں تو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ مگر ایک مڈل کلاس کی نگہت شیخ کا میڈیا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ میری استدعا ہے کہ انصاف کیا جائے۔ اس حوالے شہباز شریف نے فوری طور پر ایکشن لیا ہے جو گڈ گورننس کے زمرے میں آتا ہے۔ ان سے امید ہے کہ وہ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دیں گے۔ اقرا بھی ہماری بیٹی ہے۔ وہ بس کی ہوسٹس ہے تو نگہت شیخ بس کی مسافر تھی۔ بس میں پانی رکھنا تو انتظامیہ کا فرض ہے۔ پانی مانگنے پر جھگڑا ہوا تو اس میں قصور صرف ایک کا کیسے ہوا۔ میری گزارش ہے کہ اس مسئلے کو ختم کیا جائے۔ اب ہر ایم پی اے کو احساس ہو گیا ہو گا تو اقرا نواز کو بھی احساس کرنا چاہئے۔ مریم نواز نے اسے فون کیا۔ اچھی بات ہے۔ نواز شریف اپنے سارے ممبران اور ووٹرز کے لیڈر اور باپ کی حیثیت رکھتے ہیں۔