فور ی اقدامات۔ اہمیت اور ضرورت

محمد اعجاز الحق ممبر قومی اسمبلی
۱۔پچھلی دو دہائیوں سے ہم پر مسلط سنگین اندرونی اور بیرونی حالات نے پاکستان کو تشویش ناک صورتِ حال سے دو چار کر رکھا ہے۔ روز بروز بڑھتا ہوا سنگین معاشی اور اقتصادی بحران، سیاسی بے چینی، تشدد اور اندرونی خلفشار، مہنگائی ، توانائی کا بحران، غربت اور جہالت میں اضافہ، صحت تعلیم اور سماجی بہتری کے تمام امکانات، عدمِ برداشت ، گروہی تعصبات، صوبائی، لسانی اور مذہبی فرقہ ورایت غرض کہ وطنِ عزیز کا اندرونی ڈھانچہ شدید دباﺅ میں ہے۔ بیرونی محاذ پر، ہماری جغرفیائی، نظریاتی، سفارتی ریاستی خود مختاری، قومی وجود اور وحدت حاکمیتِ اعلیٰ اور معاشی آزادی کو مختلف النوع سازشوں کا سامنا ہے۔ ا س نامساعد قومی بحران سے نبٹنے کے لیے جس قومی یک جہتی، اتحاد اور اجتمائی تدبر کی ضرورت ہے وہ بھی مفقود اور ناپید نظر آتا ہے۔ مزید اس پر بیرونی مداخلت اور دراندازی سے ہمارے قومی وجود کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
۲۔پچھلی دہائی کی ابتداء میں ہی امریکی سرکردگی میں افغانستان پر مسلح جارحیت نے نہ صرف اس پورے خطے کو عدمِ استحکام سے دوچار کر دیا بلکہ پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان کے لیے نامساعد اور پچیدہ حالات پیدا کر دئیے ۔ ہمیں اس بے مقصد اور لاحاصل جنگ میں زبردستی جھونک دیا گیا۔ ہم نے اس جنگ میں شدید جانی اور مالی نقصان اُٹھایا لیکن پھر بھی ہم ہر محاذ پر خسارے میں رہے۔
۳۔قطع نظر اس بات کے کہ اُس وقت کے حکمرانوں کا یہ فیصلہ درست تھا یا غلط، حالات میں بہتری کی امید اور موقع اُس وقت ہمارے ہاتھ لگا جب 2008ء میں فوجی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ایک سیاسی جماعت کو مکمل اور کلی اقتدار منتقل ہو گیا۔ بدقسمتی سے گنگا نہائی اس NRO حکومت نے بھی قومی مفاد کو پسِ پشت ڈال دیا اور بیرونی آقاﺅں کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی رہی۔ اور حکمران بیرونی طاقتوں سے کیے گئے بد نیتی پر مبنی تمام  عہد و پیمان کو نبھاتے رہے۔ بد انتظامی، لوٹ کھسوٹ اور نا اہلی کے لحاظ سے یہ ہماری قومی تاریخ کی بدترین مثال ہے۔
۴۔پچھلے کئی سالوں سے مسلسل زخم پر زخم کھاتے اور نقصان پر نقصان اٹھاتے آج ہم پھر اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہم بحیثیت قوم اور خود مختار ملک اپنے گرد و پیش کے حالات کو قومی مفاد میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ ملک میں مکمل جمہوریت بحال ہو چکی ہے۔ ریاستی اقتدار جمہوری انداز میں منتقل ہو چکا ہے۔ قومی اور ریاستی ادارے قائم ہیں۔ عوام نے حقِ رائے دہی استعمال کر کے اپنے منتحب نمائندوں کو حقِ حکمرانی تفویض کر دیا ہے۔
تاہم انتحابی نتائج کے حوالے سے سیاسی جماعتوں کے کچھ تحفظات ہیں۔ جمہوریت کے استحکام کی خاطر ضروری ہے کہ ان تحفظات کا آئینی اور قانونی ازالہ کیا جائے۔ مملکت کی مضبوطی قومی مفاد اور قومی وقار کے تحفظ کی بھاری ذمہ داری اب عوامی نمائندوں کے کندھوں پر ہے۔ اور عوام اپنے راہنماﺅں سے اجتماعی شعور اور قومی بصیرت کی توقع رکھتی ہے۔ ان راہنماﺅں کو اب ہمت، ملی حمیت اور قومی نقطہ نظر سے مسائل کا حل ڈھونڈنا ہو گا۔ اور ملک کی گرداب میں گھری کشتی کو ساحلِ سلامتی تک پہنچانا ہو گا۔ اُ نہیں عوام اور ریاستی اداروں کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اب ملک کسی غلطی یا لغرش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ مستعفی ہونے یا استعفوں کی دھمکیوں سے کچھ حاصل نہ ہو گا۔ پاکستان کے دشمنوں کی زبان میں ملک دشمنوں کا اسلوب اور اندازِ فکر اپناتے ہوئے اپنے ہی قومی اداروں کی تنقید اور تضحیک سے اجتناب کرنا ہوگا۔ اور قومی سلامتی کے اداروں کو مکمل حمایت دینی ہو گی۔
۵۔کیا ہم نہیں جانتے کہ ہمارے ارد گرد دشمن ممالک کی Intelligence ایجنسیاں کیا کر رہی ہیں۔ شدت پسندوں کے کتنے کیمپ کہاں کہاں ہیں۔ کون کون ان کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کر رہا ہے۔ تشدد پسندوں کو کون تربیت دے کر مسلح کاروائیاں کرا رہا ہے۔ سفارتی دفاتر کی آڑ میں تخریبی مراکز کیوں اور کس کے لیے بنائے گئے ہیں۔
۶۔ڈرون حملے ہماری آزادی اور خود مختاری میں مسلح دخل اندازی ہے جو بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔ ان کے ذریعے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جو منفی رجحانات اور منفی نتائج کا باعث بن رہے ہیں ۔ انہیں پارلیمان کی متفقہ قراردادوں کی روشنی میں ہر حال میں بند کرانا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بغیر نہ معاشی بہتری آ سکتی ہے نہ اندرونِ ملک امن و امان میں کوئی بہتری ۔ مقامِ افسوس ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت کا استقبال ہی ڈراون حملے سے کیا گیا۔ ہمیں امریکہ پر واضح کر دینا چاہیے کہ ہمیں اپنے قومی وقار اور Stratagic مفاد پر کوئی سمجھوتا قبول نہیں۔ ہم نے امریکہ کا اتحادی ہو کر بہت نقصان اُٹھائے ہیں۔ ہم اپنے قومی وقار اور کردار سے دست بردار نہیں ہو سکتے۔ افغان طالبان کے ساتھ مجوزہ امریکی بات چیت   میں پاکستان کے مستقبل کے کردار کا تعین اور قومی مفاد کے تحفظ کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے۔
۷۔حکومتِ وقت کو انتہائی احتیاط سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ اپنی عددی اکثریت کے زعم میں مبتلا ہونے کی بجائے تمام ریاستی اداروں سمیت پوری قوم کو مکمل ہم آہنگی اور یک جہتی سے ساتھ لے کر آگے بڑھنا ہو گا۔ محدود سیاسی سوچ سے باہر نکلنا ہو گا۔ اُن عناصر سے ہوشیار رہنا ہو گا جن کا مطمع نظر اپنی ذات ہو۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ قوتِ ایمانی اور قومی حمیت سے کام لینا ہو گا۔ ملک کسی غلطی یا لغز ش کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
۸۔قومی حمیت اور قوتِ ایمانی کی ایک مثال دینا چاہتا ہوں۔ خود توصیفی مقصود نہیں۔ ماضی قریب کا واقعہ ہے اپنے توسیعی عزائم کے تکمیل کے لیے روس نے افغانستان میں فوج اتار دی۔ صدر جنرل ضیاءالحق نے اعلان کیا "کمزور مسلمان پڑوسی ملک پر جارحیت قبول نہیں۔ اس کی مدد کرنا اسلامی اخوت کا تقاضا اور دینی فریضہ ہے۔ "  علی الاعلان مجاہدین کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔ امریکی صدر نے کہا 400 ملین ڈالر لے لو۔ صدر ضیاءالحق نے کہا " یہ مونگ پھلی آپ کو مبارک ہو۔ "روسی سفیر نے کہا " باز آ جاﺅ۔ پاکستان کے چار ٹکڑے کر دیے جائیں گے۔ " جواب دیا "پہلے میرے ٹکڑے کرنے ہو ں گے۔ "
Over my dead body, Mr. Ambassador!" "
امریکہ نے مطالبہ کیا، گوادر دے دو۔ F-16 طیارے دیں گے۔ جواب دیا " F-16 اپنے پاس رکھو "
۹۔وقت نے دیکھا کہ اُ ن کی مومنانہ فراست اور عزمِ صمیم نے پورے عالمِ اسلام اور آزاد دنیا کے 124 ممالک کو اُن کی پشت پر لا کھڑا کیا ، غیر تربیت یافتہ مگر جذبہءایمانی سے سرشار افغان مجاہدین نے روسی طاقت کا گھمنڈ خاک میں ملا دیا۔ پاکستان کو F-16 طیارے بھی مل گئے۔ پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے والا روس خود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ نئی اسلامی ریاستیں وجود میں آ گئیں۔ جوہری میدان میں عالمی دباﺅ کو فوجی صدر مسکرا کر ٹال گئے ۔ کئی دہائیوں پر محیط کہوٹہ سے چاغی تک کا فاصلہ ایک ہی جست میں طے کر گئے۔ بھارتی فوجیں سرحد پر چڑھ دوڑیں عالمی طاقتیں فکر مند ہو گئیں۔ جنگ چند قدم دور تھی۔ صدر پر سکون رہے ، کرکٹ دیکھنے چلے گئے دہلی کے بالم ایر پورٹ پر ، راجیو کو کلائی سے پکڑا، سونیا گاندھی سے چند قدم دور لے گئے ۔ انگشتِ شہادت سے ہندوستان کی سرزمین کی طرف اشارہ کیا راجیو کے کان میں کچھ کہا۔ شام کو بھارتی صدر ذیل سنگھ سے ملے ۔ اُن سے کہا " سردار جی ! اپنے وزیرِ اعظم نوں کچھ سمجھاﺅ۔ ساڈے نال جنگ کرنا ایڈا سوکھا کم نئیں  ۔ We expect a youthful push from him to solve Kashmir issue"  بھارتی صدر بولے " ایہہ مُنڈا ایویں ای ۔۔۔۔۔ " دونوں صدور نے کھل کر قہقہہ لگایا اور بغل گیر ہو گئے۔ بھارتی فو جیں واپس جاتی دکھائی دیں۔
۱۰۔راجیو گاندھی کہیں جاتے ہوئے وزیر ِ اعظم بے نظیر کی درخواست پر چند گھنٹے پاکستان میں گزارنے پر رضا مند ہو گیا۔ بے نظیر نے کہا شرفِ میزبانی چند دن بڑھا دیجیے کرم ہو گا ۔ میرے لیے اعزاز ہو گا۔ میری سیاسی ساکھ بڑھے گی ۔ راجیو مان گیا بے نظیر نے اُسے ایوانِ صدر میں ٹھہرانے کی ٹھانی۔ مملکتِ پاکستان کا ایوانِ صدر اور مملکتِ پاکستان کے ٹکڑے کرنے والوں کے لیے جائے قیام و آرام ۔ صدر اسحاق خان نے انکار کر دیا۔
ٍٍ۱۱۔تیزی سے بدلتے اور بگڑتے حالات کا تقاضا ہے کہ سفارتی مستعدی اور initiative کا مظاہرہ کیا جائے ۔ سفارتی سطح پر تبدیلیاں لائی جائیں۔ اندرونی محاذ کو مضبوط کیا جائے توانائی کے بحران، امن و امان اور معیشت کی بحالی کے لیے قلیل المعیاد اور طویل المعیاد دور رس اقدامات اُٹھائے جائیں اور ایک مربوط مستعد اور مستحکم انداز میں حالات کا مقابلہ کیا جائے۔