رہن رکھے ہیں سوال اس نے جواب گروی رکھے ہوئے ہیں

کالم نگار  |  بشری رحمن

سوال یہ نہیں کہ 1971ءکے سارے واقعات من گھڑت ہیں۔ قتل عام کےلئے جنہیں جواز بنانے کی بنگلہ دیش میں رسم چل نکلی ہے۔
سوال یہ بھی نہیں ہے کہ کوئی بھی آزاد ملک کسی دوسرے ملک کے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا۔
سوال یہ بھی نہیں ہے کہ جغرافیہ بدلتے ہی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
سوال انسانی بنیادی حقوق کا ہے یہ حقوق اگر میانمار کے مسلمانوں کے پامال ہوں گے یا بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے ساتھ بربریت کا سلوک ہو گا۔ تو عالمی عدالتوں کو آواز اٹھانی پڑے گی۔
سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ شیخ حسینہ واجد کو یہ ساری باتیں اپنے پہلے ٹینور میں کیوں یاد نہیں آئیں یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے غیر منقسم پاکستان کے حق میں آواز اٹھائی تھی اور یہ اس وقت بھی بقائمی ہوش و حواس موجود تھے۔ جب شیخ حسینہ واجد پہلی بار بنگلہ دیش کی وزیراعظم بنی تھیں۔ اتنا عرصہ گزرنے کے بعد جبکہ ان کی مدت حکومت بھی قریب الاختتام ہے۔ انہیں ان تمام بزرگوں کو پھانسی پہ لٹکانے کا خیال آ گیا۔ جنہوں نے پاکستان کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی تھی۔
تو کیا جن لوگوں نے 1947ءمیں پاکستان بنانے کی مخالفت کی تھی وہ سزا کے مستحق گردانے جائیں؟
جب کسی سرزمین پر انقلاب سر اٹھاتا ہے تو اس کے مخالف اور حامی بھی سر اٹھاتے ہیں۔
آج بنگلہ دیش کے بارے میں جتنی بھی کتابیں غیر ملکی یا ملکی لکھ رہے ہیں، ان سب کا موقف یہی ہے کہ بنگلہ دیش ایک سازش کے تحت علیحدہ کیا گیا اس میں پاک فوج اور اس زمانے کے سیاست دانوں کی کوتاہیوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا.... شاید اس ماحول میں کوئی محمد علی جناح جیسا دور اندیش نہیں تھا۔ کوئی معاملہ فہم بھی نہیں تھا۔ غیروں سے کئی سمجھوتے ہو جاتے ہیں۔ بنگالی تو ہمارے اپنے تھے۔ اپنوں ہی میں کچھ اغیار بھی نکل آتے ہیں۔
یوں تو قبلہ قائداعظم کے وفات پاتے ہی پاکستان کے متعلق محلاتی سازشیں شروع ہو گئی تھیں پھر جب لیاقت علیخان بھی نہ رہے تو سارے انتشار کو سمیٹنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔ اس انتشار میں فوج کے وارد ہونے سے معاملات بے قابو ہونا شروع ہو گئے۔
1947ءکے بعد ہی بعض ہندو مصنفوں نے پاکستان کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تھا اور صاف کہا کہ یہ چند مہینوں کی مشق ہے مگر جب نامساعد حالات کے باوجود پاکستان آگے بڑھتا گیا تو پھر ا نگریز کا بویا ہوا بیج استعمال کیا گیا یعنی ”لڑاﺅ اور تقسیم کرو“
ہم نہیں چاہتے کہ آج اس مقام پر پرانی باتیں دوہرائیں پرانے زخم کریدیں اور بنگلہ دیشی حکومت کی طرح لوگوں کو کٹہروں میں کھڑا کریں۔
پہلے پاکستان بنا اور پھر اس کے اندر سے بنگلہ دیش بن گیا۔ اس حقیقت کو اب جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ وقت بڑی تیزی سے آگے بڑھ گیا ہے بنگلہ دیش دنیا کے نقشے پر ایک علیحدہ اسلامی ریاست کے طور پر نمودار ہو چکا ہے۔
پاکستان نے اسے کھلے دل سے تسلیم کر لیا ہے اور اس کے ساتھ دوستانہ، سفیرانہ، مصالحانہ تمام تعلقات قائم ہیں۔ ایک طبقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ ہمیں بنگلہ دیش کے ساتھ تجارت کرنی چاہئے وہ ہمارے بھائی ہیں اور ان کے ساتھ سماجی سطح پر بھی برادرانہ تعلقات بھی قائم ہونے چاہئیں مگر یہ جو اچانک بنگلہ دیش کی وزیراعظم نے 1971ءکے واقعات پر مبنی ایک فرضی فرد جرم عائد کر کے اسلام پسند بزرگوں کا قتل عام شروع کیا ہے........ یہ سوائے انتقامی کارروائی اور اسلام دشمنی کے اور کچھ بھی نہیں ہے۔
پچھلے دنوں بنگلہ دیش کے صدر محمد ظل الرحمن نے بھارتی صدر جناب پرناب مکرجی کو اعزاز جنگ آزادی کا تمغہ پیش کیا۔ اتنی دیر بعد اور ایسے موسم میں۔ یہ تمغہ تو انہیں آنجہانی سورگ باشی اندرا گاندھی کو پیش کرنا چاہئے تھا۔ پرناب مکرجی کا تو ان کوششوں میں دخل ہی نہیں تھا۔
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ”ہیومن رائٹس واچ“ نے صاف لفظوں میں تنبیہہ کی ہے کہ ان معاملات کی وجہ سے بنگلہ دیش خانہ جنگی کے کنارے پہنچ چکا ہے اور حکومت وقت شفافیت اور انصاف کا دامن تار تار کر رہی ہے۔
یورپین یونین نے اپنے 13 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں بنگلہ دیش میں افسوسناک واقعات اور دلخراش سزاﺅں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش حکومت سزائے موت کے فیصلوں پر نظر ثانی کرے۔ جن پر فرد جرم عائد کی گئی ہے۔ ان کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے مناسب وقت دیا جائے۔
حکومت کینیڈا نے بھی بنگلہ دیش میں بڑھتے ہوئے تشدد اور اقلیتوں پر حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ کل پائنا اور انجمن شہریاں لاہور کے زیر اہتمام ان معاملات پر غور خوض کرنے کےلئے لاہور میں ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں انسانی حقوق کی پامالی اور انصاف کی شفافیت کی بنیادوں پر مختلف اہل علم اور اہل قلم نے اظہار خیال کیا۔ اور ایک لائحہ عمل بنا کر حکومت کو پیش کرنے پرصاد کیا....
دنیا بھر میں مسلمان ابتلا کا شکار ہیں.... کیوں؟
کیا اکیسویں صدی مسلمانوں پر بھاری گزرے گی۔ یا مسلمانوں کی بیداری اور خود شناسی کی نشاة ثانیہ شروع ہو گی۔
اگر میانمار میں بدھ کے پیروکاروں کے ہاتھوں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور ظلم و بربریت کی انتہا کر دی جاتی ہے تو اختلاف کی وجہ سمجھ میں آتی ہے....
لیکن جب بنگلہ دیش میں ایک اسلامی حکومت، مسلمان بزرگوں پر تشدد کرتی ہے تو یہ بات عقل جانتی نہیں۔ اسلام میں تو قتل کےلئے بھی دیت اور قصاص کا قانون رائج ہے۔ اسلام میں تو اخلاقیات کا سب سے بڑا پیمانہ ہی عفو ودرگزر ہے۔
عجیب منطق ہے سروری اور سکندری کے مزے بھی آپ لوٹیں۔ آپ کی آنے والی نسلیں تخت شاہی کی سزا وار بھی ٹھہریں بادشاہوں کی تاریخ میں آپ کا نام بھی درج ہو۔ زندگی عیش و نشاط میں بھی آپ گزاریں....
 اور پھر دنیا کو مظلوم بنکر بھی دکھائیں
چمن کا در اس نے بند رکھا ہے تاکہ یہ بھید کھل نہ جائے
کہ بوڑھے مالی کی بیٹیوں نے گلاب گروی رکھے ہوئے ہیں
وہ ہر مخاطب کو بہرے لوگوں کی سادہ آنکھوں سے دیکھتا ہے
رہن رکھے ہیں سوال اس نے جواب گروی رکھے ہوئے ہیں