حکومت کا بھرم

میں نے نئی حکومت کو ہنی مون کے لئے سو کے بجائے دو سو دن دیئے تھے۔ میں نے کہیں یہ بھی لکھا کہ ووٹروں نے ن لیگ کو تجربہ کار ٹیم سمجھ کر اکثریت سے نوازا مگرہنی مون اور تجربے کا بھرم بجٹ نے کھوکھلا کر دیا۔ مگر پہلے تو میں قارئین کے جذبوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔ زیارت ریذیڈنسی کے سقوط پر میں نے جو کچھ لکھا، وہ چیخیں مارتے لکھا، قارئین بھی اس پر رو دیئے مگر جب میں نے ان کو ایک راستہ بتایا تو ہر کوئی لبیک کہنے کو تیار ہے، میں نے بعض نام پہلے لکھے تھے جو قائداعظمؒ کی یادگاروں کی حفاظت کے لے فنڈ میں حصہ ڈالنے پر آمادہ ہیں مگر اب اصرار یہ ہو رہا ہے کہ نام نہ لکھیں، ہم قائد کے پرستار ہیں، شہرت کے طلبگار نہیں۔ بس ڈاکٹر مجید نظامی فنڈ تشکیل دیں تو وہ کسی کو پیچھے نہیں پائیں گے، میری جناب ڈاکٹر مجید نظامی صاحب سے درخواست ہے کہ وہ اس منصوبے کی سرپرستی فرمائیں، اس سے پہلے کہ کوئی سیٹھ اس کو اچک لے جیسے کئی برس ملک سے غائب رہنے والے ایک بزنس ٹائکون اب واپس آئے ہیں تو پہلے وہ اقبالؒ کے پرستار بن گئے، اور چیف منسٹر یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ برسہا برس سے ایک ادارہ جوان کے دفاتر کے پہلو میں قائدؒ اور اقبالؒ کے افکار اور نظریا ت کے فروغ کے لئے کوشاں ہیں مگر انہوں نے اپنی منڈلی الگ جمائی، اب اسی بزنس ٹائکون نے قائداعظمؒ کے سر پر دست شفقت رکھنے کا اعلان کیا ہے اور جناب وزیراعظم کو قائد ریذیڈنسی کی دوبارہ تعمیر کی پیش کش کر دی ہے۔ میری ان سے درخواست ہے کہ وہ اقبالؒ اور قائدؒ کے اتنے ہی پرستار ہیں تو ایوان کارکنان پاکستان اور نظریہ پاکستان کے دفتر تشریف لائیں جو ان کے اپنے فائیو اسٹار ہوٹل کے پہلو میں واقع ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی وہاں تشریف رکھتے ہیں۔ ان کے سامنے اپنی پیش کش رکھیں۔ وزیراعظم، وزیراعلیٰ تو اقتدار سنبھالنے کے بعد قائدؒ کے مزار پر حاضری کی سعادت بھی حاصل نہیں کرسکے۔ قائد ریذیڈنسی کی راکھ پر کھڑے ہو کر ایک آنسو تک نہیں بہا سکے۔ بات حکومتی بھرم سے شروع ہوئی تھی۔انتخابی مہم کے دوران ن لیگ نے پی ٹی آئی کو پچھاڑنے کے لئے ایسے ایسے وعدے کئے کہ ان کو پورا کرنااب مشکل ہی نہیں، ناممکن نظر آ رہا ہے، سب سے بڑی امید تو یہ تھی کہ لوڈشیڈنگ کے سلسلے میں کوئی ریلیف ملے۔ تاحال اس بارے چپ لگی ہے۔کوئی منصوبہ سامنے نہیں آیاجس سے اندازہ ہو سکے کہ یہ عذاب کب ٹلے گا۔ بڑا صنعتکار تو مزے میں ہے، وہ اپنے لئے بجلی خود بنا سکتا ہے، اسی لئے ٹیکسٹائل سیکٹر کا رونا دھونا سننے میںنہیںآیا مگر حکومت بجلی کے موضوع پر بیانات سے کام چلارہی ہے، نیلم جہلم پراجیکٹ پر وزیراعظمؒ نے خاموشی توڑی اور پوچھا کہ یہ تیس برس سے کیوں بند ہے، ذرا حساب لگائیے کہ ان تیس برسوں میں نواز شریف صاحب خود کتنی بار حکومت میں رہے اور اس دوران نیلم جہلم کیوں نہ بن سکا۔ بجٹ میں نئے ٹیکس لگا دیئے گئے اور فوری نافذ بھی کر دیئے گئے، عدالت نے بعد میںفیصلہ دیا ، میں نے بجٹ کے اگلے ہی روز ایک معروف بیکری سے دہی کا ڈبہ خریدا اور پوچھا کہ کیا اس کی قیمت بڑھائی ہے، جواب ملا کہ بجٹ منظور ہو گا تو اضافہ کریں گے۔ یہ نکتہ وزیر خزانہ کو کیوں معلوم نہ تھا، انہوں نے عدالت سے بچنے کے لئے 1931ءکے ایکٹ کا سہارا لے لیا۔ یہ سہارا بے معنی، غیر منطقی تھا، آئندہ کے لئے بھی حکومتوں کے لئے مشکل پیدا ہو گئی، ماضی میں بجٹ تقریر کو انتہائی خفیہ رکھا جاتا تھا اور تمام ٹیکس فوری طور پر نافذہو جاتے تھے، اسی لئے نئی حکومت نے بجٹ پیش کرنے میں جلدی کی تاکہ جون کے دو ہفتوں کی کمائی بھی جیب میں ڈال لے۔ مگرعدالت نے کھنڈت ڈال دی، پچھلی حکومت تو عدالت کے سامنے بے بس رہی، نئی حکومت بھی عدالت کا موڈ نہ سمجھ سکی۔شاید وہ حد سے زیادہ اعتماد سے سرشار تھی۔ حکومت نے مہنگائی بڑھا دی ، ٹیکسوں کی بھر مار کر دی لیکن تنخواہ دار طبقہ جس نے بجٹ کی چکی میں پسنا تھا، اس کی ریلیف کے لئے کوئی ایک اقدام نہ کیا گیا اور یہ کہا گیا کہ آئندہ برس سے کریں گے مگر فوری کرنا پڑا، کچن اشیا ہمیشہ سیلز ٹیکس سے مستثنی چلی آ رہی تھیں نئی حکومت نے پیسے اکٹھے کرنے کے لئے یہ استثنی ختم کر دیا، لوگ بلبلا اٹھے، مرغی کا گوشت، بچوںکادودھ ، چائے کی پتی، دال، چاول ہر چیز کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ حکومت کے سامنے کوئی اور راستہ نہیں تھا کہ استثنی ختم کرنے کا اعلان واپس لے۔ ایک بار پسپائی شروع ہو جائے تو پھر قدم جمتے نہیں، تنخواہوںمیں بھی اضافے کا اعلان کرنا پڑا، اس اعلان پر سرکاری ملازم مطمئن نہیں ہیں، اس لئے کہ باقی صوبوں نے پندرہ فی صد اضافہ کیا ہے اور وفاقی حکومت نے دس فی صد، یہ ایک اور محاذ ہے جس سے پسپائی ہوئی کہ ہوئی۔ عوامی تنقید سے بچنے کے لئے وزیر خزانہ نے پیش کش کی کہ وہ سیلز ٹیکس میں اضافہ واپس لینے کو تیار ہیں بشرطیکہ سیکرٹری دفاع انہیں یقین دلائیں کہ وہ دفاعی بجٹ میں معقول حد تک کمی کر دیں گے۔ ایک تو کسی کو یہ سمجھ نہیں آئی کہ دفاعی بجٹ پر ہی کیوں نظر گئی، دوسرے سیکرٹری دفاع کو مخاطب کرنے کی منطق کیا تھی، وہ تو وزیر دفاع کے ماتحت ہیں اور یہ منصب خود وزیراعظم کے پاس ہے، اسحاق ڈار ان سے براہ راست کہہ سکتے تھے کہ حضور! اپنی وزارت کا بجٹ کم کیجئے۔ مگر معاملہ یہاں ختم نہیںہو جاتا، آج کے اخبارات کے مطابق وزیر خزانہ نے صاف کہہ دیاہے کہ سیلزٹیکس میں اضافہ کسی صورت ختم نہیں ہو گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالی وزیر خزانہ کو استقامت عطا فرمائے۔موبائل فون والے پریشان ہیں کہ سو روپے کے کارڈ سے انہیں پینسٹھ روپے ملیں گے، پچھلی حکومت نے ایسا ٹیکس لگایا تھا تو ایک پراپیگنڈہ چل پڑا کہ یہ زرداری ٹیکس ہے۔ اب نیا ٹیکس کس کے کھاتے میں لکھا جائے۔ ایک عام آدمی پر پینتیس فی صد ٹیکس۔ کابینہ ابھی مکمل نہیں ہو پائی کہ اس کی ادھیڑ بن شروع ہو گئی ہے۔بعض وزیروں کے محکمے پٹخنیاں کھا رہے۔ کوئی وزیر کہتا ہے سب چور ہیں۔ ایم کیو ایم فوج کو پکار رہی ہے۔ اس رزق سے موت اچھی اور کشکول توڑنے کا ورد کرنے والے اب آئی ایم ایف کے ترلے کرتے نظر آتے ہیں۔ حکومتیں ایک بھرم پہ چلتی ہیں، ن لیگ کواپنا بھرم کھونے میں جلدی کیا ہے!