پہنچی کہاں کہاں ہوں میں تجھ کو پکارنے....؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

میں نے وہاں کھڑے ہو کر دیکھا.... عمارت بڑی تیزی سے بن رہی تھی۔ خوب بن رہی تھی۔ جب یہ عمارت مکمل ہو گی تو پہاڑوں کی آغوش میں ایک نیا منظر ابھرے گا....
پچھلی حکومت نے یہ منصوبہ منظور کیا تھا۔ میں نے اکثر یہاں بدلتی ر±ت دیکھی ہے۔ مجھے یاد نہیں میں کب سے یہاں آ رہی ہوں۔ شاید بچپن میں کبھی اپنی امی کے ساتھ آئی تھی۔ پھر اپنی بڑی بہن کے ساتھ آئی تھی۔ جب سے اسلام آباد پڑا¶ بنا ہے۔ اکثر آتی ہوں.... یہ اعلیٰ حضرت بری امام قدس سرہ کا مزار ہے۔ جس کی تعمیر نو ہو رہی ہے۔ ولی اللہ کنکریٹ ریت اور اینٹوں سے بے نیاز ہوتے ہیں۔ بندہ اپنی نیاز مندی کا اظہار کرنے کے لئے اپنے جذبوں کو کنکریٹ کی زبان دیتا رہتا ہے۔ ہر صدی میں کوئی آتا ہے۔ عقیدت کا کوئی نیا پھول چڑھاتا ہے۔
آپ مزار پر کیوں آتی ہیں....؟
ایک عورت نے میرے قریب آ کر پوچھا۔
زندہ اور لافانی لوگوں کو دیکھنے کے لئے....
اللہ کے محبوب بندے کبھی مرتے نہیں۔ ان پر سے شب و روز، سال صدیاں گزرتی رہیں۔ وہ تابندہ رہتے ہیں۔ اللہ کی خوشنودی میں زندگی گزارنے والے، اللہ کے بندوں کو راستہ اور روشنی دکھانے والے۔ اللہ کے بندوں کے کام آنے والے اور اللہ کے احکامات بجا لانے والے ہمیشگی کی زندگی پاتے ہیں۔ ان کے نشانات تاابد رہتے ہیں۔
یہاں ہر وقت ایک میلہ لگا رہتا ہے۔ عورتیں مرد اور بچے.... لوگ مرادیں بھی مانگتے ہیں۔ نذر نیاز بھی چڑھاتے ہیں۔ آنسو بھی بہاتے ہیں۔ یہ سب دنیادار ہیں۔ انہیں اپنے والدین اور گھر کے بزرگوں کا حال پوچھنے کی فرصت نہیں ہے۔ یہ گھڑی دو گھڑی کسی بیمار کی عیادت نہیں کر سکتے۔ جنہیں اپنے اکثر فرائض فراموش ہوئے رہتے ہیں۔ ان کے پاس یہاں آنے کا وقت ہے۔
یہ میلے اکثر مزارات پر دیکھے۔ باہر ایک بارونق بازار ہے۔ جس میں پھول اور چادروں کے علاوہ ہر شے ملتی ہے۔ دور دیگوں والے بیٹھے ہیں۔ دانہ و دام لئے.... روز دیگیں پکائی جاتی ہیں اور تقسیم کی جاتی ہیں۔ غور کریں۔ ان مزاروں پر کتنے غریب غربا۔ یتیم ویسیر اور مسافر آ کر کھانا کھاتے ہیں....
ان کے سائے میں آ کے سو جاتے ہیں۔ عافیت پاتے ہیں۔ یہ بھی ان بزرگوں کا فیض ہے....
ان کے وسیلے سے سینکڑوں لوگوں کا روزگار لگا ہے۔ ایک جہان آباد ہے یہاں....
اور اب ان کے مزار کی توسیع اور نو تعمیر ہو رہی ہے۔ یہ اللہ کے نورانی بندے ہیں۔ ہر صدی انہیں سلام کرتی ہوئی آتی ہے.... ہر صدی انہیں نوازنا چاہتی ہے۔ ہر صدی کے لوگ انہیں خراج پیش کرتے ہیں۔ ان کے توسط سے مرادیں مانگتے ہیں....
دور کھلا آسمان تھا۔ نیچے سر اٹھائے پہاڑ.... اور ان کے درمیان نئے گنبد اور نئے مینار سر اٹھا رہے تھے۔ کار کمال کن .... کار کمال کن....
کہ عزیز جہاں شوی!
میرے دل کو وہاں بڑی ٹھنڈک محسوس ہو رہی تھی کہ یکایک میری نظر تازہ اخبار کی شہ سرخیوں پر پڑ گئی جو غالباً کوئی پڑھتے پڑھتے وہاں چھوڑ گیا تھا....
سارا اخبار چیختے چلاتے ہوئے بیانات سے بھرا پڑا تھا.... میں ....میں.... کی آوازیں نکل رہی تھیں۔
صاحب اقتدار کہہ رہے تھے ہمیںگرانے کی کوشش کی گئی تو کچھ بھی باقی نہ رہنے دیں گے....
اک ذرا سا اختیار کیا دیا اللہ نے وہ تو ساری دنیا کو تہس نہس کرنے پر آمادہ نظر آنے لگے۔ صدر زرداری صاحب گورنر ہا¶س میں ہی تقریر کر رہے تھے۔ فیصل آباد میں تقریر کر رہے تھے....
ویسی ہی تقریر جو ہر سربراہ کرتا ہے۔ ویسا ہی زعم جو ہر بادشاہ کو ہوتا ہے۔ ویسا ہی خوف جو ہوسِ اقتدار کے ماروں کو ہوتا ہے۔ ویسی ہی دھمکیاں جو کمزوری کی علامت ہوتی ہیں۔ ویسے ہی حواری جو ہر کرسی کے گرد مکھیوں کی طرح بھنبھناتے رہتے ہیں۔ ویسا ہی موسم جو جمہوریت کا گلا گھونٹنے کے لئے سازگار ہوتا ہے۔
کبھی کسی سربراہ نے یہ نہیں کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے کرم سے اس کرسی پر بٹھایا گیا ہوں۔ جب وہ چاہے گا وہ مجھے اس کرسی سے اٹھا دے گا اور میں اٹھ جا¶ں گا۔ جمہوری بادشاہ ہمیشہ کہتا ہے۔ میں عوام کی طاقت سے آیا ہوں۔ مگر اس کے پیچھے ہمیشہ خواص ہوتے ہیں۔ خواص کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ آپ جب چاہیں انہیں کرسی کے پیچھے لگا دیں۔ وہ چپک جائیں گے....
تاوقتیکہ کوئی دوسرا نہ آجائے....
میں نے دنیا کے بیشتر ملک دیکھے ہیں سیاح کی حیثیت سے پرانے بادشاہوں کے محل اور مقبرے بھی دیکھے ہیں۔ وہ محلات اور مقبرے عبرت کا نشان لگتے ہیں۔ وہاں میلہ نہیں لگتا۔ بس ٹکٹ لگتی ہے۔ جسے خرید کر دنیا بھر کے سیاح ان کی آخرت دیکھنے جاتے ہیں۔ محلوں نے مزارات کبھی جنم نہیں دئیے۔ محلات نے عبرت اور ویرانیاں جنم دی ہیں۔
نزدیک تریک مثال فراعینِ مصر کی ہے۔ ہمیشہ دنیا میں رہنے کے لئے، ہمیشہ حکمرانی کرنے کے لئے....
ہمیشہ دولت سے کھیلنے کے لئے کیا کیا جتن نہیں کئے انہوں نے.... مگر اللہ کی ذات کو بھول گئے آج ان کا نام دنیا میں عبرت کے طور پر لیا جاتا ہے۔ اپنی ممیاں تو حنوط کر لیں مگر روح کو قیامت تک بھٹکنے کی سزا دے دی۔
پرانے بادشاہوں کے مقبرے ہمارے ملک میں بھی ہیں۔ آپ جہانگیر کے مقبرے پر جا کر دیکھ لیں....
یا نور جہاں کا مقبرہ دیکھ لیں.... جو برملا کہتا ہے
بر مزارما غریباں نے چراغے نے گلے
نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلے!
یہ دنیا اعمال کا ایک نگر ہے....
مگر کتنی عجیب بات ہے کہ جو آدمی سربراہِ مملکت بن جاتا ہے۔ وہ ازخود اپنے آپ کو ایک ماورائی مخلوق سمجھنے لگ جاتا ہے اور اعمال سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ سمجھنے لگ جاتا ہے کہ اس کے ابرو کے اشارے پر ساری کائنات چل رہی ہے۔ جب اس کے اندر ایسا کیڑا سر اٹھاتا ہے....گرفت کی آنچ اس کی طرف بڑھتی ہے۔ جب باری تعالیٰ دنیا میں لامحدود اختیار دے دیتا ہے تو اعمال و کردار کا ترازو بھی اس پر تان دیتا ہے۔ نہ کہ وہ لامحدود خواہشات کا داعی بن جائے....
وہ آئین کی شق نمبر 61/62 کو چاہے تسلیم نہ کرے مگر قدرت اسے ایک حد تک تزکیہ نفس کی تلقین کرتی ہے اسے کچھ باتیں اپنے اوپر حرام کر لینی چاہئیں کیونکہ ایک خلقت اس کو دیکھتی ہے اور اس جیسا بن جانا چاہتی ہے۔
قیادت دو قسم کی ہوتی ہے سیاسی قیادت اور روحانی قیادت!۔
سیاسی قیادت کو ہمیشہ دینوی عزہ و جاہ اور مال و دولت کی طلب ہوتی ہے۔ وہ مناصب اور مراتب تقسیم کر کے لوگوں سے سلامیاں لیتا ہے اور دولت کے انبار لگا کے اپنے آپ کو محفوظ بناتا ہے۔
خواہ یہ دولت خلقت کا خون چوس کے اکٹھا کی ہو۔
روحانی قیادت، عیش و نشاط اور دینوی جاہ و جال سے بے نیاز ہوتی ہے۔ وہ اپنے خالق کی خوشنودی کو ملحوظ رکھتی ہے۔ نفس عمارہ کے فریبوں سے نکل جاتی ہے۔ دنیا کو فنا کا گھاٹ سمجھتی ہے اور خلقت کی بے لوث خدمت کرتی ہے اس لئے اس کا نام دنیا میں رہ جاتا ہے۔
بادشاہئیت بھی دو قسم کی ہوتی ہے۔
دنیوی بادشاہ اور
روحانی بادشاہ....
دنیوی بادشاہ دنیا کی ہر حرص و ہوس کا اسیر ہوتا ہے۔ اپنے اقتدار کو طول دینے کے لئے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرتا ہے۔ ہمیشہ اقتدار میں رہنا چاہتا ہے۔ سلامیاں لینا چاہتا ہے ہر بندے سے اونچا نظر آنا چاہتا ہے۔ اقتدار کی بساط پر براجمان رہنے کے لئے ہر مہرہ استعمال کرتا ہے ہر قسم کی چال چلتا رہتا ہے۔ خلقت سے زیادہ اسے اپنا خیال ہوتا ہے۔ خود پسندی خود زعمی اور خودپرستی میں ڈوبا ہوتا ہے۔ لوگ اسے زیادہ دن یاد نہیں رکھتے۔ زیادہ سے زیادہ تاریخ میں اس کے لئے چند فقرے محفوظ ہو جاتے ہیں۔
مگر روحانی بادشاہ جو دنیا کی تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کے لئے آتے ہیں وہ خلقت کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ ایک مٹی کے ٹیلے پر بیٹھ کر یا ایک گھنے درخت کے سائے میں بیٹھ کر خلقت پر راج کرتے ہیں۔ ان کو زندگی کی رمزیں بتاتے ہیں۔ ان کے قلوب کو زندہ کرتے ہیں اور ان کو آدمیت کی معراج سے روشناس کراتے ہیں۔ یہ روحانی بادشاہ صدیوں اس دنیا پر حکومت کرتے ہیں۔ دلوں پر حکومت کرتے ہیں....
ان کے مزار زندہ ہوتے ہیں اور ان کے نام پر کئی فلاحی کام ہوتے رہتے ہیں....
آپ مزار پر کیوں آتی ہیں....؟
ابھی تک وہ عورت میرا سوچ میں کھویا چہرہ دیکھ رہی تھی....
رب نظر آتا ہے یہاں....؟
کعبے میں، مسجدوں میں، مزاروں میں، دہر میں
پہنچی کہاں کہاں ہوں میں تجھ کو پکارنے؟