حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ میں قومی یکجہتی پر سیمینار

کالم نگار  |  محمد مصدق

حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹٹ دوبارہ سے فعال ہو گیا ہے اور اب باقاعدگی کے ساتھ پروگرام ترتیب دے رہا ہے۔ ہفتے کے روز ”میڈیا اور قومی یکجہتی“ کے موضوع پر ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ مہمان خصوصی سہیل وڑائچ اور صدارت سیدہ عابدہ حسین نے کی جو انٹرنیشنل سپیکر ہیں۔ پچھلے دنوں اوسلو میں سٹرٹیجک سٹڈی کے انسٹیٹیوٹ میں لیکچر دے کر آئی ہیں اور اب لندن کے سٹرٹیجک انسٹی ٹیوٹ کی دعوت پر لیکچر دینے جا رہی ہیں۔ مقررین میں سعید آسی‘ ڈاکٹر کنول فیروز سلمان عابد اور آمنہ الفت تھے۔
سعید آسی نے کہا باسٹھ سال گزرنے کے باوجود ہم قومی یکجہتی کو تلاش کر رہے ہیں۔ قائد اعظم نے تو ہمیں پاکستان بنا کر دے دیا لیکن ہم قائد کے پاکستان کی ان کے وژن کے مطابق آبیاری نہ کر سکے۔ یقینا اس میں قصوروار ہماری قیادت اور قائدین ہیں تقسیم پاکستان کے وقت انگریز تو چلے گئے‘ ہمارے اثاثے انڈیا نے روک لئے‘ لیکن انگریزوں کے ”ٹوڈی“ پاکستان آ گئے اور انہوں نے ایوانِ اقتدار کی کرسیوں پر قبضہ کر لیا‘ جس کی وجہ سے حقیقی قیادت سامنے نہ آنے کی وجہ سے قومی یکجہتی کا فقدان رہا اور اب امید کی شمع جلی ہے کہ میڈیا شائد اس خواب کی تعبیر کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ ڈاکٹر کنول فیروز نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ”اقلیتوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ان سے قومی پالیسی پر رائے نہیں لی جاتی (حالانکہ ان کے نمائندے قومی اداروں میں بیٹھے ہیں وہ خود رائے نہ دیں تو اس میں کسی کا کیا قصور؟) فتیل شفائی نے ایک خوبصورت شعر کہا تھا
اک یہی پہچان ہے‘ میری ہر پہچان سے پہلے
پاکستان کا شہری ہوں‘ پاکستان سے پہلے
یہی ہر قسم کے مذہبی‘ نسلی تعصبات ختم کر کے قومی یکجہتی کو فروغ دینا چاہئے۔ سہیل وڑائچ نے بہت اچھی اور معلوماتی تقریر کی اور تفصیل سے بتایا کہ آزاد میڈیا نہ ہونے کی وجہ سے قومی یکجہتی پیدا نہ ہو سکی۔ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں طویل فاصلے اور مختلف ثقافتی رنگ ہیں لیکن وہاں کے آزاد میڈیا نے انہیں قومی یکجہتی کی زنجیر میں پرویا ہوا ہے۔ آزاد میڈیا سچ کی بنیاد پر چلتا ہے۔ پابند میڈیا کی تاریخ تو بہت وسیع ہے لیکن آزاد میڈیا کی تاریخ مختصر ہے۔ درست ہے کہ مکمل سچ نہیں کہہ سکتے لیکن مکمل سچ تک رسائی کا سفر شروع ہو چکا ہے اور شدت پسندی صرف آزاد میڈیا کی موجودگی میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ میڈیا ہی حقیقی قومی یکجہتی پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ بیگم عابد حسین نے بہت اچھی تقریر کرنے کے ساتھ سوالات کے تسلی بخش جوابات بھی دیئے۔ نالائق لوگوں نے آگے آ کر لائق لوگوں کیلئے راستے بند کر دیئے ہیں۔ دس نالائق لوگوں کو ایک لائق انسان تو ساتھ لے کر چل سکتا ہے لیکن اس کا الٹ ممکن نہیں ہے۔ کوالٹی اور گڈ گورننس سے قومی یکجہتی مضبوط کی جا سکتی ہے۔