کچھ ’شک‘ کے فائدوں پر!

کالم نگار  |  خالد احمد

جناب شاہ زین بگٹی 35 ساتھیوں سمیت گرفتار کر لئے گئے تو ’امن کی آشا‘ نے وہ بغلیں بجائیں کہ ہم الجھن میں پڑ کے رہ گئے، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟ مگر رات گئے ایف سی کے سربراہ کی جانب سے یہ خوش گوار تاثر سامنے آنے پر ہم نے اس ’موضوع‘ پر سکھ کا پہلا سانس لیا! انہوں نے فرمایا، ’یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سارے عمل کے دوران کسی نے بھی کسی بھی نوع کی مزاحمت نہیں کی!‘ جبکہ سکھ کا دوسرا سانس اسی بات کے دوسرے حصّے پر لیا جب انہوں نے یہ بھی فرما دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کارکنوں نے بھی یہ ساری کارروائی انتہائی خوش گوار ماحول میں مکمل کرلی!
’امن کی آشا‘ کے ترجمان پہلے تو اس گرفتاری کے ’ہلّے گلّے‘ میں اپنا ’غل غپاڑہ‘ شامل کرتے رہے مگر میجر جنرل عبیدالرحمن کے بولتے ہی چپ سادھ کر بیٹھ رہے اور ’TICKER‘ چلنا شروع ہوگئے، ’بارہ گھنٹے گزرنے کے بعد بھی مقدمہ درج نہیں کیا گیا!‘ حتیٰ کہ ایک اور ’TICKER‘ رونما ہوگیا، ’صبح دن چڑھے دو ایف آئی آرز درج کروائی جائیں گی!‘ یہ پٹی چلنے کی دیر تھی کہ ’امن کی آشا‘ کے چنڈال پر سمیٹ کر بیٹھ رہے: لو، کام ہوگیا! کل کی کل دیکھنے کا آسان نسخہ ’امن کی آشا‘ کے ساتھ اڑ کر ہم تک پہنچا ہے! لیکن ’ریڈیو‘ کچھ اور کہانی سناتا رہ گیا! شاید اس لئے کہ ’ریڈیو پاکستان‘ مرکز کا موضوع ہے لہٰذا جناب رحمان ملک کے ایما پر ایمان لا کر لب کشا ہوتا ہے! نوائے وقت کے کوئٹہ بیورو کے مطابق جنال طلال بگٹی اور جناب بہرام بگٹی نے فرمایا ہے کہ یہ ساری کارروائی جناب رحمان ملک کے ایما پر ہوئی ہے! جناب رحمان ملک بھی ’وزارت عظمیٰ‘ تک پہنچنے کے ’سیاسی ارادے‘ سے لیس ہیں اور جناب پرویز الٰہی اور مولانا فضل الرحمن کے درمیان ’تصویر‘ بنے تصویریں کھینچوا کر ان پر ’تین بڑے‘ کی پھبتی کا لیبل بھی چسپاں کروا لینے میں کوئی ’ہرج‘ بھی محسوس نہیں کر پاتے! ’عار‘ تو بہت دور کی بات ہے!
’امن کی آشا‘ پر کان دھرنے والوں کی کھلتی ہوئی آنکھوں تک ’خبر‘ پہنچے کہ بھارتیہ سماج وادی پارٹی کے راہ نما اعظم خان اس بات پر ’پریشان‘ ہیں کہ ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی کہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے بھی؟ یا، نہیں؟ کیونکہ آج بھی یہ ’معاملہ‘ ’زیربحث‘ لایا جاسکتا ہے!‘اس پر کانگریس نے، ’یہ بیان بدقسمتی ہے!‘ کہہ کر چپ سادھ لی اور بی جے پی نے، ’اعظم خان پر غداری کا مقدمہ چلایا جائے!‘ کا مطالبہ داغ دیا! بھارت میں اتنا بڑا ’ہنگامہ‘ کھڑا ہوگیا مگر ’امن کی آشا‘ پراس کی پرچھائیں تک نہ پڑی! حالانکہ ’ہنگامہ!، ’امن کی آشا‘ کی ’جان‘ ہے بشرطیکہ وہ پاکستان میں کھڑا ہو اور ان کے حصّے میں کچھ تو آسکے!
اگر لاہور کے ناکوں پر بھی ہمارے مقامی راہ نماﺅں کے ’قافلوں‘ کی تلاشی لی جائے تو شاید نواب زادہ شاہ زین بگٹی کے ’قافلے‘ کی خیر و برکات ان کی نظر میں جگہ ہی نہ پا سکیں! یوں بھی جسے ’دیکھا‘ نہ جائے اس کے ’خدوخال‘ بھی بیان میں نہیں لائے جاسکتے! کراچی کے ’خونیں قافلوں‘ کی تلاش جاری ہے، اگر کہیں مل گئے تو ’تلاشی‘ کے عمل کا آغاز ہونے سے پہلے وہ پورے کراچی میں آگ لگا دیں گے! لاہور میں ان بارودی ’قافلوں‘ پر محض رکنے کا اشارہ ہی پورا پولیس نظام ’نئی تقرریوں اور تبادلوں‘ کے سیلاب کی زد میں آجاتا ہے! ہم اس وقت پاٹا، فاٹا، زون اے، زون بی اور سیٹلڈ اورنان سیٹلڈ ایریاز میں بٹے قانونی اور انتظامی ڈھانچے میں جی رہے ہیں! ضرورت اس امر کی ہے کہ اب یہ تقسیم ختم کی جائے! یقین کریں ان ’انتظامی‘ حلقوں کے عام باسی ملکی قانون کے انتظار میں ملکی قانون کی راہ تکتے تکتے آنکھیں پتھرا بیٹھے ہیں، یقین جانیں اگر ان تمام علاقوں پر پاکستانی آئین کے مطابق پاکستانی قانون نافذ العمل ہو جائے تو ان علاقوں کے لوگ سجدہ شکر ادا کریں گے! ’امن کی آشا‘ کے پیچھے کھڑے لوگ یہ دیواریں کھڑی رکھنے کے لئے کام کر رہے ہیں! اگر یہ دیواریں جنہیں مقامی رسم اور رواج کا نام دے کر سہارا دیا جا رہا تھا، بڑھ کر چڑھ رہی ہیں اور عن قریب یہ ’آکاس بیلیں‘ پورا پیڑ ’سوکھا کا مریض‘ بنا ڈالیں گی! دیکھ لیں پنجاب میں یار لوگ سکولوں کو تباہ کرنے کی نادانی کی جگہ وہاں اپنے مویشیوں کے باڑے کھول رہے ہیں! کیونکہ وہ ’تعلیم‘ عام ہونے کے نقصانات جانتے ہیں، جس طرح وہ ’انصاف‘ عام ہو جانے کے نقصانات سے آگاہ ہیں! ’کچہریوں‘ میں ’مویشیوں کے باڑے‘ قائم کرنے کے خواہاں ہاتھ ہم یوں بھی نہیں پہچان پاتے کہ ان کے ’عوامی‘ ہونے کا ’شک‘ ہمیں ان کے دستانے اتار لینے کی ہمت کر لینے کی راہ میں حائل ہو جاتا ہے! اور وہ ’شک کا فائدہ‘ حاصل کر کے ہر بار ہمارے ’عوامی حاکم‘ بن بیٹھتے ہیں!
شیخوپورہ سے جناب یونس گل نے شاعر خوش نوا جناب ثناءاللہ ظہیر کا ایک عجیب شعر لکھ بھیجا ہے:
وہ کسی اور دوا سے مرا کرتا ہے علاج
مبتلا ہوں میں کسی اور ہی بیماری میں
سچی بات تو یہ ہے کہ اگر یہ شعر ہماری نگاہ میں نہ آتا تو ہم اپنی بیماری کا درست تعین کبھی نہ کر پاتے! حق تو یہ ہے کہ ہم ’شک‘ کے مریض ہیں اور تمام ’عوام دشمن‘ محض ’شک‘ کی بنا پر ہمارے ہاتھوں ’عوام دوست‘ اور ’عوامی راہ نما‘ کے طور پر ’بری‘ ہوتے اور ہمارے حاکم ٹہرتے رہے کیونکہ ’شک‘ کا فائدہ، ہمیشہ ملزم کے ہاتھ آتا ہے، خواہ وہ ’مجرم‘ قرار پانے ہی والا ہو!