نظریہ پاکستان.... کیا جانے انجان!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

حرام کھا کے جو گردن میں گھس گیا سریا
”نظریہ پاک“ نظر میں کہاں سمائے گا
جو ”بنیا“ پشت پہ ہو کر سوار بیٹھے گا
تو یہ نظریہ بھی اُن کی سمجھ میں آئے گا
جو اپنے ماضی کے حالات بھُول جاتے ہیں
ذرا سی ”پی کے“ وہ اوقات بھول جاتے ہیں
اُداس شاموں میں مدہوش گرتے پھرتے ہیں
سیاہ راتوں کے صدمات بھُول جاتے ہیں
بلا سے اُن کی، کہ کیا اُن کے ساتھ کل ہو گا
بدلتے وقت کا کیا فیصلہ اٹل ہو گا
وہ نسلِ فردا جو ترسے گی آب و دانہ کو
تو باغ اُسکی اُمیدوں کا صرف تھل ہو گا
جو لوگ عقل کی باتوں پہ کان دھرتے نہیں
وہ شرم سے بھی کہیں جا کے ڈوب مرتے نہیں
نہیں جھجکتے بزرگوں پہ طنز کرتے ہوئے
کہ گندے ذہن ہیں اُن کے کبھی نکھرتے نہیں
لفافے لے کے یہ جن کے قصیدے پڑھتے ہیں
وہ اِن کی پشت پہ جس روز لات ماریں گے
تو ان کو دیکھنا اپنی جبیں رگڑتے ہوئے
اِنہی بزرگوں کو روتے ہوئے پکاریں گے
نظریہ جن کا ہے پاک اور اس پہ قائم ہیں
جو داعی کلمہ حق کے کھرے ہیں، دائم ہیں
وہ نسلِ نو کو بھی آگاہ کرتے رہتے ہیں
کہ ہوشیار ہو دشمن کے بَد عزائم ہیں