میرے دل کی دوا کرے کوئی !

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

شہباز شریف کو علامہ اقبال میڈیکل کالج کی شاندار مگر سادہ تقریب میں دیکھ کر اچھا لگا۔ 90۔مال کی تقریبات میں افسرانہ پن والے سیاسی اور سرکاری ماحول میں دم گھٹتا ہے۔ وہاں پہنچتے پہنچتے انہیں دیر بھی ہو جاتی ہے۔ تقریر انہوں یہاں بھی وہی کی جو وہاں کرتے ہیں۔ خواب اور انقلاب کا امتزاج تقریر کرتے ہوئے ان کے مزاج کا حصہ بن جاتا ہے۔ کچھ کرنے بلکہ کر گزرنے کی لگن ان کے پاس ہے۔ اب ایک دور افتادہ تھکن بھی ان کے قریب آنے کی کوشش کرتی ہے۔ آدمی بے قرار ہو تو تھکن کے آثار آسانی سے نظر نہیں آتے۔ اظہار کی روانی بلکہ فراوانی میں بے قابو ہوتے جذبات، خیالات اور حالات سے دور بھی ہوں تو قریب لگتے ہیں۔شہباز شریف نے اردو میں اچھی تقریر کی۔ تقریب کی ساری کارروائی انگریزی میں تھی۔ ڈاکٹر معظم تارڑ نے انگریزی میں کمپیئرنگ ٹھیک رکھی مگر شہباز شریف کو بلاتے ہوئے اسے اچانک خیال آیا کہ ہال میں بہت لوگ ایسے ہیں جو انگریزی نہیں جانتے ہیں۔ انگریزی کو انجوائے کرنے والے تو بہت ہی کم ہوتے ہیں، انگریزی میں لطیفے کا بھی لطف نہیں آتا۔ مجھے خیال آیا کہ شہباز حاضرین کے روبرو آکر بات کرنا چاہتے ہیں۔ اس سے پہلے سارے مقرر ناظرین کے دوبدو لگ رہے تھے۔ ڈاکٹر سلیم اختر، ڈاکٹر زبیر اکرم، ڈاکٹر عتیق مرزا تقریر کر رہے تھے اور انہیں پتہ چل رہا تھا کہ لوگوں کی توجہ کہیں اور ہے۔ ڈاکٹر سعید الٰہی، ڈاکٹر فواد حسن فواد اور ڈاکٹر محمد حسن سٹیج پر تھے۔ بیوروکریٹ تو بولتے ہی نہیں، ڈاکٹر سعید الٰہی کو بلایا ہی نہیں گیاحالانکہ وہ اقبالین ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم کی گفتگو کے دوران کئی بار تالیاں بجیں۔ وہ کالج اور ہسپتال کے لوگوں کے دلوں کے قریب ہیں۔ یہاں ڈاکٹر جاوید اکرم نے بہت کام کیا ہے۔ انہوں نے جناح ہسپتال میں ایم ایس ڈاکٹر محمد حسن کے ساتھ مل کر بہت محنت کی ہے۔ اقبالؒ اور جناحؒ کی نست ان بہت اچھے اداروں میں اپنا جہان ڈھونڈتی پھرتی ہے۔ ڈاکٹر محمد حسن درویش آدمی ہیں، وہ خاموشی سے کام کرتے ہیں۔ ڈاکٹروں نرسوں اور مریضوں کو اپنا ہم سفر سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اکرم جذبے اور جدوجہد میں اپنی مثال آپ ہیں۔ وژن اور مشن کی یکجائی سے ماحول کو ایک نئی یکتائی دینے کی کوشش کی ہے۔ اپنے ساتھیوں کو ساتھ لے کے چلنے کی عادت نے ان کے اردگرد ایک کارواں سا بنا دیا ہے۔ وہ اپنے میدان میں اور اپنے راستے پر میرکارواں ہیں۔ اس تقریب کیلئے ڈاکٹر سلیم اختر نے ساری ذمہ داری قبول کی ہوئی تھی۔ تقریب کے آغاز میں ڈاکٹر تجمل مضطرب تھے اور ڈاکٹر معظم تارڑ مطمئن تھے۔ ڈاکٹر ناصر زیدی نے پچھلے برس کانووکیشن جیسی جامد اور بے کیف تقریب کو ڈاکٹر جاوید اکرم کی رہنمائی میں مزیدار پروگرام بنا دیا۔ ڈاکٹر جاوید اکرم نے سب سے کام لینے کی کوشش کر رکھی ہے۔ طلبہ و طالبات بھی اپنے کام میں خودمختار ہوتے ہیں۔ میڈیکل کی بہت ہی قابل طالبہ قدسیہ شمیم نے کئی ذمہ داریوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس نے شہباز شریف کو سٹوڈنٹس کی طرف سے کچھ مطالبات پیش کئے۔ شہباز شریف نے کالج لائبریری کے لئے 50 لاکھ روپے کا اعلان کیا۔ اس کی بہت خوشی ڈاکٹر جاوید اکرم کو تھی۔ ہمارے ہاں لائبریریاں نہیں ہیں۔ چند ایک ہیں تو وہاں اجڑا ہوا ماحول مزید دکھی کر دیتا ہے۔ قدسیہ شمیم نے بتایا کہ ان دنوں کالج میں کتاب میلہ بھی لگایا گیا ہے، یہ ایک اچھی روایت ہے!
یہاں بھی باتوں باتوں میں شہباز شریف سیلاب زدگان کی طرف نکل گئے۔ انہوں نے مظفر گڑھ کیلئے پہلے موبائل ہسپتال کی خوشخبری بھی سنائی۔ ان کے اکاﺅنٹ میں ایک ارب سے زیادہ کے عطیات جمع ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں پہلے سے ڈاکٹر جاوید اپنی ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ کالج میں ابھی تک سیلاب زدگان کیلئے دفتر موجود ہے۔ دیہاتوں میں میڈیکل سہولتوں کے نہ ہونے کا خود شہباز شریف نے ذکر کیا۔ وہاں تو لوگوں کیلئے زندہ رہنے کی بنیادی ضرورتیں پوری نہیں ہوتیں۔ میں نے سیکرٹری ہیلتھ فواد حسن فواد کی سیلاب زدگان کیلئے دلچسپیوں کا ذکر اپنے کالموں میں کیا ہے مگر شہباز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ اجمل نیازی فواد حسن فواد کا ذکر نہ کرے مگر میں تو کروں گا۔ شہباز شریف میرے میانوالی کے سیلاب زدہ لوگوں کے پاس کئی بار گئے۔ مجھے معروف صحافی محمود الحسن نیازی نے بتایا کہ میانوالی میں ڈی سی او، ڈی پی او اور سرکردہ لوگوں نے شہباز شریف کی ہدایت کے مطابق امداد مستحق افراد تک پہنچائی۔ میں نے دکھ بھرے لمحوں اور دکھ بھری کیفیتوں کو اپنے لفظوں کی روتی ہوئی آنکھوں میں رکھ دیا۔ فواد حسن فواد کو میں نے ایک خودکش دھماکے کے بعد میو ہسپتال میں مستعدی سے کام کرتے ہوئے دیکھا۔ میں دور کھڑا تھا۔ وہ خود مجھے آکے ملے۔ مجھے رابطہ رکھنے کیلئے کہا اور جب میں نے فون کیا کہ صحت کے معاملات و مسائل پر ان سے بات کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے مجھ سے بات کرنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی۔ یہ رابطہ کوئی ضروری بھی نہیں تھا اور نہ ہے، بہرحال محکمہ صحت میں ان کا ذکر اچھے لفظوں میں کیا جاتا ہے جبکہ افسران بالا افسران تہہ و بالا ہوتے ہیں اور میں نے ہی بیوروکریسی کو براکریسی کہا تھا۔ بیوروکریسی کے قول و فعل سے اس کی تائید کی خبریں ملتی رہتی ہیں۔ کبھی تردید کی کوئی خبر نہیں آئی۔ میانوالی کیلئے اپنے پہلے دور حکومت میں کچھ وعدے میرے ساتھ شہباز شریف نے کئے تھے، وہ انہیں بھول گئے ہونگے، مجھے بھی بھول گئے ہیں کہ میرے لوگوں نے بھی دکھوں کو یاد رکھنا بھلا رکھا ہے۔
شہباز شریف نے جنرل ہسپتال میں کروڑوں روپے سے نئی عمارات کے باوجود گندگی اور غلاظت کے انبار کا ذکر کیا۔ انہیں سیکرٹری ہیلتھ نے نہیں بتایا کہ میو ہسپتال میں بھی گندگی اور بدبو کا رقص جاری رہتا ہے مگر افسران تو صرف رقص و سرود میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وہاں دونوں ایم ایس موجود تھے۔ ڈاکٹر صلاح الدین نے جاوید ہاشمی کے لئے خدمت اور مہارت کا جو مظاہرہ کیا ہم اس کیلئے شکرگزار ہیں۔ وہ جنرل ہسپتال میں صفائی کا خیال رکھیں اور صفایا کرنے والوں کی طرف خیال نہ کریں۔ بہت اچھی اردو بولتے ہوئے شہباز شریف نے بہت اچھی انگریزی بولی تو لوگ حیران ہوئے کہ انہیں کئی زبانیں آتی ہیں۔ شہباز شریف تقریر کرنے میں سب سیاست دانوں سے آگے نکل گئے ہیں، لوگ ابھی مایوس نہیں، مگر تقدیر کب بدلے گی؟ لوگوں کا جو حال ہے وہ بدحال ہیں اور بے حال ہیں۔ شہباز شریف بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں مگر تقدیر صرف تقریر سے نہیں بدلا کرتی۔ لوگوں نے آج بھی نعرے لگائے۔ ایک مخلص اور پریشان ورکر شفقت پاندا بڑے جذبے سے نعرے لگوا رہا تھا۔ شہباز شریف کی تقریر کی جولانی میں یہ نعرے اچھے لگ رہے تھے۔ انہوں نے وہی اشعار آج بھی پڑھے جو تقریبات میں کئی بار پہلے بھی پڑھ چکے ہیں۔ برادرم شعیب عزیز نے بہت کوشش کی مگر اشعار یاد ہو جاتے ہیں، یاد کئے نہیں جاتے! ہر بار یہ اشعار نئے لگتے ہیں
وطن کی مٹی مجھے ایڑیاں رگڑنے دو
مجھے یقین ہے چشمہ یہیں سے پھوٹے گا
شاید ابھی ایڑیاں رگڑنے کی اجازت شہباز شریف کو نہیں ملی۔ چشمہ تو کوئی پھوٹا نہیں، سیلاب آگیا ہے جو سیلابِ بلا بن گیا ہے۔ ایک حکمران سیلاب زدگان کے پاس سب سے زیادہ گیا ہے اور وہ شہباز شریف ہے۔ وہ دل زدگان کے پاس کب آئے گا؟