”طاہر اُلقادری ----- پھِر بولے ! “

کالم نگار  |  اثر چوہان

دوروز قبل لاہور میں ، پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہُوئے، ادارہ ” منہاج اُلقرآن“ اور” پاکستان عوامی تحریک“-کے بیک وقت سربراہ ، علّامہ طاہر اُلقادری پھر بولے اور بہت سی معلومات افزا گفتگو کی۔ علّامہ صاحب کی -”پُر ہجوم پریس کانفرنس“- کا‘ میڈیا نے کوئی خاص نوٹس نہیں لیا، علّامہ صاحب کی ناقدری پر،مجھے بہت افسوس ہُوا۔ پُرانے- ( بے شک چند روزہ ہی صحیح)- تعلقات کی وجہ سے، میرا یہ فرض بنتا ہے کہ ،مَیںاُن کے -” انقلابی مشِن“-کو، آگے بڑھانے کے لئے، اُن کی پریس کانفرنس کی تطہِیر و تفسِیر کر کے، موصوف سے تصّوراتی انٹرویو بھی کر لوں۔ اِس طرح بالمشافہ گفتگو کرنے میں، میرا اور، علّامہ صاحب کا، وقت ضائع ہونے سے بھی بچ جائے گا۔ تو قارئینِ کرام!- انٹرویو حاضر ہے۔
س : علّامہ صاحب!- آپ نے فرمایا ہے کہ، وزیرِ اعظم نواز شریف کی حکومت ،طالبان کی مدد سے وجود میں آئی ہے؟- یہ راز آپ کو وزیرِ اعظم نواز شریف ،یا اُن کے کسی قریبی ساتھی نے ،بتایاہے- یا طالبان کے کسی لیڈر نے؟
ج: -” دیکھیں! یہ بہت ہی حسّاس معاملہ ہے۔ سِردست، مَیںاِس راز کو آﺅٹ نہیں کر سکتا، لیکن میں نے یہ بات، بڑے وثوق سے کہی ہے۔“
س: کِیا آپ کے پاس، وزیرِ اعظم اور طالبان میں دوستی، یا گٹھ جوڑ کا، کوئی ثبوت بھی ہے یا آپ نے ، ہوا میں تِیر چلا دیا؟
ج: -” مَیںنے تو کبھی، تِیر چلایا ہی نہیں-تِیر -تو پیپلز پارٹی کا انتخابی نشان ہے، لیکن ثبوت میرے پاس ہیں۔“
س: تو پیش کریں، ثبوت ؟
ج: -” جب وقت آئے گا تو مَیں پیش کردوں گا!۔“
س: وقت کب آئے گا؟
ج: - ” وہ مَیں آپ کو کیوں بتاﺅں؟۔“
س: پریس کانفرنس میں، آپ نے کہا ہے کہ-” مَیں جانتا ہُوں کہ موجودہ حکومت کتنے عرصے چلے گی، لیکن مَیں تاریخ بتا کر نئی بحث نہیں چھیڑنا چاہتا؟۔“
ج: -” مَیں نے غلط نہیں کہاتھا کہ۔ مَیں جانتا ہوں کہ موجودہ حکومت کب تک چلے گی، لیکن مَیں تاریخ نہیں بتاﺅں گا!۔“
س: آپ حکومت کے خاتمے کی تاریخ کیسے جانتے ہیں؟
ج: -” آخر کو، مَیں شیخ اُلاسلام ہوں، کوئی مخول نہیں ہُوںمَیں!۔“
س: لیکن مصِر کے جامع الازہر کے سکالروں نے تو، جامعہ کے گرینڈ امام شیخ الطّیب کے پاس آپ کی شیخ اُلاسلامی کو چیلنج کر دیا ہے اور کہا ہے کہ -” طاہر اُلقادری - جامعہ کے ٹائیٹل -” شیخ اُلاسلام “- کو اپنے نام کا حصِہ بنا کر، سیاسی مقاصد حاصل اور لوگوں کو بلیک میل کر رہا ہے!“
ج: -” پھِر کیا ہُوا؟ مصِراور اُس کے ساتھ ہی، جامعہ الازہر کا؟- حالانکہ مَیں نے، اہلِ مصِر اور جامعہ الازہر والوں کو، کوئی بد دُعا ہی نہیں دی!۔“
س: آپ نے کہا ہے کہ-” مَیں جب چاہوں، موجودہ نظام کو اُلٹ سکتا ہُوں۔ “ کہا ہے ناں؟
ج: -” ضرور کہاہے۔ ہر گز کہا ہے۔ مَیں جب چاہوں، موجودہ نظام کو اُلٹ سکتا ہوں۔بلکہ اُلٹ پُلٹ کر سکتا ہوں، لیکن مَیں مسلم لیگ ن کی حکومت کو، کچھ مُہلت دینا چاہتا ہُوں!۔“
س: مُہلت کیوں؟
ج: -” اِس لئے کہ- نظام الٹانا یا اُلٹ پلٹ کرنا، میراپارٹ ٹائم جاب ہے۔ میرا اصل کام ہے دُنیا کے- 90 ملکوں میں قائم ادارہ، منہاج اُلقرآن کے ذریعے، بین اَلمذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیناہے۔ آپ نہیں جانتے کہ غیر اسلامی ملکوں میں میری کتنی عزت ہے؟۔
س: اور اسلامی ملکوں میں، خاص طور پر پاکستان میں؟۔
ج: -” اسلامی ملکوں میں، میرے حاسد یںبہت زیادہ ہیں اورافسوس کہ اہلِ پاکستان بھی مجھے -” قائدِ انقلاب“- نہیں سمجھتے۔“
س: آپ نے کہا ہے کہ-” میرے انقلاب کی راہ میں، میڈیا سب سے بڑی رکاوٹ ہے“۔ اِس کا کیا مطلب ہُوا؟۔
ج: -” مطلب صاف ہے۔ میڈیا، خاص طور پر، الیکٹرانک میڈیا پر، بہت ہی ظالم لوگ قابض ہیں۔ میری باتوں کا خاص طور پر، میرے انقلاب کو، سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ میرا مذاق اُڑاتے ہیں۔ اور شیخ اُلاسلامی کا بھی۔ دیکھ لینا، ایک دِن پچھتائیں گے!۔“
س: اگر آپ کا انقلاب آ گیا تو ،آپ اپنے مخالف میڈیا کے لوگوں کو کیا سزا دیں گے؟۔
ج: -” اگلا سوال ! “
س: آپ نے کہا ہے کہ، آئندہ آپ اپنے لانگ مارچ میں، دوسری سیاسی جماعتوں کو بھی شریک کریں گے؟۔
ج: - ” آپ نے ساحر لدھیانوی کا، وہ فلمی گیت تو سُنا ہی ہو گا٬ جِس میں انہوں نے کہا تھا-” ساتھی ہاتھ بڑھانا- ایک اکیلا تھک جائے گا، مِل کر زور لگانا، ساتھی ہاتھ بڑھانا!۔“
س: آپ نے کہا ہے کہ-” موجودہ فرسودہ نظام کو، زمین بوس کرنے کے لئے ،مَیںایک کروڑ نمازیوں کی جماعت تیار کر رہا ہوں؟۔“ - یہ ایک کروڑ نمازیوں کی جماعت ، کب تک تیار کر لیں گے آپ؟۔
ج: -” فی الحال مَیں، اِس کی تاریخ نہیں دے سکتا۔مجھے اور بھی ضروری کام ہیں۔“
س: اگر ایک کروڑنمازیوں کی جماعت تیار نہ ہُوئی تو؟۔
ج: - ” کیسے تیار نہیں ہو گی؟۔ لیکن ایک مُشکل ضرور پیش آئے گی کہ- ایک کروڑ نمازیوں کی جماعت کے لئے-” جماعت خانہ“- کیسے بنے گا؟۔ مَیں اور میرے نمازی اہلِ خانہ تو خیر، اپنے بم پروف کنٹینر میں رہ لیں گے۔ لیکن باقی لوگوں کے قیام و طعام کا کیا بندوبست ہو گا؟۔ اِس کے لئے مَیں اپنے مشیروں کا اجلاس طلب کروں گا۔“
س:برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد وکلاءکی تنظیم- Association of Pakistan's Lawyers (A.P.L )- کے چیئرمین بیرسٹر امجد ملک نے، برطانیہ میں رفاہی اداروں کی نگرانی کے لئے قائم کئے گئے بورڈ- Charity Commission- کو درخواست دی ہے کہ،” ادارہ منہاج اُلقرآن“- نے خیراتی کاموں کے لئے وصول کی گئی رقم میں سے60- ہزار ڈالر(6 کروڑ 40 لاکھ روپے )- کے خرچ سے،آپ کے لئے بلٹ پروف لینڈ کروزربنوایا اور امانت میں خیانت کی“۔ آپ کیا کہتے ہیں؟۔
ج: - ” دُنیا والے ، دِل والوں کو، اور بہت کچھ کہتے ہیں۔“
س: یہ تو حبیب جالب کا مصرع ہے؟۔
ج: - ” حبیب جالب کا مصرع ہو یا مرزا غالب کا۔ مَیں نے اپنی پوزیشن واضح کرنا تھی، سو کر دی!۔“
س: آپ نے کہا ہے کہ- ” ایک بڑی شخصیت، جو بہت بڑی کرسی پر بیٹھی ہے، اُس نے میرے موقف کی حمایت کردی ہے“۔ کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ بڑی شخصیت کون ہے؟۔
ج: -” اُس بڑی شخصیت کا نام بتانے سے پہلے، مَیں استخارہ کروں گا!۔“
س: آج -24 اگست ہے اور آج آپ کی عمر 62 سال 6 ماہ اور5 دِن ہو گئی ہے۔
ج: -” تو پھر ؟“
س: اب آپ کی زندگی کے صِرف 5 ماہ اور25 دِن رہ گئے ہیں؟۔
ج: -” وہ کیسے؟“
س: آپ نے 1993 ءمیں بیان فرمایا تھا کہ-” سرورِ کائنات کی عُمر کے مطابق-”میری عُمر بھی 63 سال ہو گی!“فرمایا تھا ناں؟۔
ج: -” مَیں نے فرمایا تھا۔ لیکن فی الحال مَیں اپنے سابقہ بیان پر، تبصرہ نہیں کر سکتا!۔“
س: کیا آپ نے، جھوٹ بولا تھا؟۔
ج: -” مَیں اور جھوٹ؟- سوال ہی پیدا نہیں ہوتا!-جائیے مَیں آپ سے نہیں بولتا!۔“