پنجاب حکومت کیلئے شیریں مزاری کی تلخ نوائی

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پنجاب حکومت کیلئے شیریں مزاری نے بڑی تلخ بات کی ہے۔ ایک تو وہ خاتون ہیں اور پھر ان کا نام شیریں ہے۔ انہوں نے کہا ہے ضمنی انتخابات میں پنجاب کے اندر سرکاری مشینری استعمال کی گئی ہے۔ یہ بات ہارنے والے امیدواروں کا محاورہ ہے۔ نتائج سے پہلے ایک امیدوار کہہ رہا تھا کہ ہم جیت جائیں گے ورنہ دھاندلی کا الزام لگا دیں گے۔ دھاندلی ہوتی ہے مگر یہ تو ایک انتخابی رواج بن گیا ہے۔ ان ضمنی انتخابات کے لئے میں بالکل مطمئن ہوں کہ باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ دھاندلی نہیں ہوئی۔ اس کے لئے میں الیکشن کمشن کو بھی مبارکباد دوں گا۔ جسٹس تصدق جیلانی نے سب سے بڑے ضمنی الیکشن بہت سلیقے سے کرا کے پاکستان کے لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ جسٹس (ر) فخرو بھائی بھی اس کے لئے غور فرمائیں۔ 11 مئی کے عام انتخابات کے لئے یہ بات کسی حد تک درست بھی ہو گی مگر ہارنے والے اپنی کمزوریوں پر دھیان نہیں دیتے۔ عمران خان نے کئی بار تحریک چلانے کا اعلان کیا بلکہ دھمکی دی مگر کچھ بھی نہیں ہوا۔ اس طرح کے اقدامات کے لئے ٹائمنگز کا بہت خیال رکھا جانا چاہئے۔ کوئی کام جو قبل از وقت ہو یا بعد از وقت ہو تو اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ بروقت بر محل اور برملا مگر ہم گومگو میں رہتے ہیں۔ فائدے نقصان کے اندازے لگاتے رہتے ہیں۔
ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
بہادر اور سچے لوگ فیصلے کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ فیصلہ کر لیتے ہیں تو پھر کر گزرتے ہیں
ہر چہ بادا باد۔ جو ہونا ہے وہ ہو جائے۔
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
عمران خان سے کسی نے پوچھا کہ آپ تحریک کب چلائیں گے۔ اس نے کہا کہ وہ تو ہم پچھلے چودہ پندرہ سال سے چلا رہے ہیں۔ ہماری پارٹی کے نام ہی میں تحریک موجود ہے تحریک انصاف۔ کہا گیا کہ انصاف تو کہیں بھی نہیں ہے خود آپ کی تحریک انصاف میں بھی بے انصافیاں ہوتی رہتی ہیں۔ شیریں مزاری بھی ناراض ہو گئی تھی۔ تب بھی وہ بہت تلخ تھیں۔ اس کے ساتھ تو انصاف ہو گیا مگر بے انصافی تو ہو رہی ہے۔ خورشید محمود قصوری کے ساتھ انصاف ہوا۔ سردار آصف احمد علی کے ساتھ بے انصافی ہو گئی؟ پھر قصوری صاحب کے ساتھ کیا ہوا؟ فوزیہ قصوری کا کیا قصور تھا۔ اس کا یہ جملہ کبھی نہیں بھولے گا جو اس نے روتے ہوئے بھی ٹی وی چینل پر عاصمہ چودھری سے کہا
”اب شاید میں عمران خان کے قابل نہیں رہی“
ڈاکٹر شیریں بتائیں کہ اگر پنجاب میں دھاندلی ہوئی ہے تو راجن پور سے شہباز شریف کی چھوڑی ہوئی نشست پر مسلم لیگ ن کیسے ہار گئی کیا دھاندلی مسلم لیگ ن کے خلاف ہوئی ہے وہاں عام انتخاب میں دریشک صاحب نے آزاد حیثیت سے الیکشن لڑا تھا۔ اب وہ تحریک انصاف کی طرف سے امیدوار تھے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما ذوالفقار کھوسہ کی چھوڑی ہوئی ڈیرہ غازی خان کی سیٹ پر بھی تحریک انصاف جیت گئی۔ یہ شکست کھوسہ کے بیٹوں کے جھگڑے کا شاخسانہ بنی۔ یہ جھگڑے تو تحریک انصاف کے اندر بھی ہیں۔ اندرونی خلفشار انتشار گروپنگ بیزاری اور عمران خان کے روئیے سے نالاں لوگوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد سے جاوید ہاشمی کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر تحریک انصاف کے اسد عمر جیت گئے۔ اسد عمر نے خود یہ بات پشاور کی عمران والی سیٹ پر غلام احمد بلور کے جیتنے پر کہی کہ ہم نے صحیح آدمی کو ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ اگر موروثی سیاست کے انداز تحریک انصاف میں بھی ہوں گے تو کچھ نہ کچھ تو ہو گا۔ یہ تبدیلی کے نعرے کے خلاف تھے۔ خیبر پختونخوا میں چیف منسٹر پرویز خٹک کے داماد اور سپیکر اسمبلی اسد قیصر کے بھائی کو ٹکٹ ملے گا تو پھر کسی اچھے نتیجے کی توقع بے معنی ہے۔ اسد عمر اسلام آباد سے جیت گئے۔ وہاں نواز شریف کی حکومت ہے۔ اس حلقے میں کئی دیہاتی علاقے بھی ہیں جن کا تعلق راولپنڈی سے بھی بنتا ہے۔ راولپنڈی پنجاب میں ہے۔
میں تو یہ بھی کہتا ہوں کہ خیبر پختونخوا میں بھی تحریک انصاف کی حکومت نے کوئی دھاندلی نہیں کی۔ اے این پی کے غلام احمد بلور عمران خان کے مقابلے میں بری طرح ہار گئے تھے۔ اب وہ اچھی طرح نہیں جیتے مگر جیت تو گئے ہیں۔ عمران خان نے اب بلور صاحب کو مبارکباد دی ہے۔ اس کے لئے بھی شیریں مزاری نے بھی بہت تلخی محسوس کی ہو گی۔ بلور صاحب نے بھی ہارنے کے بعد عمران کو مبارکباد دی تھی اور اپنی شکست تسلیم کی تھی۔ مگر اب لگتا ہے کہ انہوں نے اپنی جیت تسلیم نہیں کی ہے کیونکہ وہ بہت تلخ و ترش باتیں کر رہے ہیں۔ میں نے تب بلور صاحب کے لئے تعریفی کالم لکھا تھا جبکہ میں نے ان کے خلاف کئی کالم لکھے جب انہوں نے پاکستان ریلوے کے سارے نظام کو برباد کر دیا اور کرپشن کے ریکارڈ قائم کئے اب وہ جیت گئے ہیں تو خوشی سے پھولے نہیں سما رہے۔ انہوں نے اپنی پہلے والی شکست کو بھی اب دھاندلی کا نتیجہ قرار دے دیا ہے۔ انہوں نے میڈیا کو پنجابی میڈیا کہا اور یہ کہا کہ پنجابی میڈیا نے عمران خان کو اہمیت دی اور جتوایا۔ عمران خان ایک قومی لیڈر کے طور پر سامنے آئے ہیں یا سامنے لائے گئے ہیں۔ وہ یہ بتائیں کہ پنجابی میڈیا نے انہیں پنجاب میں کیوں نہیں جتوایا۔ پہلے اے این پی کو پاکستان پر اعتراض ہے اب پنجاب بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ بلور صاحب ایم این اے بنے ہیں اور انہوں نے اپنے آپ کو ابھی سے وزیر ریلوے سمجھ لیا ہے۔ میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ عزت کو سنبھالنے کی کوشش کریں۔ وہ شکر کریں کہ عمران کی مخالفت میں مولانا فضل الرحمن نے ان کی حمایت کی ہے عام انتخابات میں وہ ان کے خلاف تھے۔ جو زبان عمران خان استعمال کرتا ہے۔ وہ زبان بلور صاحب استعمال کریں گے تو اپنا استحصال کریں گے۔ میں نے کئی بار لکھا ہے
سن وے بلوری اکھ والیا
سندھ میں فنکشنل لیگ کی چھوڑی ہوئی سیٹ پر پیپلز پارٹی کی شازیہ مری جیت گئی ہے۔ اگر یہ دھاندلی ہے تو عام انتخابات میں دھاندلی نہیں ہوئی تھی کہ فنکشنل لیگ جیت گئی۔ سیاستدانوں کو سوچ سمجھ کر بات کرنا چاہئے۔ صرف بیان دینے کے لئے بیان نہیں دینا چاہئے۔ میانوالی میرا حلقہ ہے وہاں ن لیگ کے عبیداللہ خان شادی خیل کی جیت عمران کی شکست بلکہ ہزیمت ہے۔ اس پر میں الگ سے ایک کالم لکھوں گا۔