پاکستان کو مصر نہیں بننے دیں گے....!

مصر کے حالات میں داخلی وجوہات سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن حالات کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ بیرونی طاقتوں کی سازشیں ہیں۔ بیرونی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ اخوان المسلمین کو کسی طرح کی حمایت حاصل ہو جائے اور وہ ایک ملک میں حکومت کر کے دیگر اسلامی ممالک کے لئے مثال بن جائے۔ اپنے ہی ملک کے عوام کا اس طرح سے موت کے گھاٹ اتار دیا جانا اور اس وحشیانہ تحریک کو کچھ مسلم ممالک کی تائید حاصل ہونا، بیرونی سازشوں کے لئے تقویت کا باعث ہے۔ بیرونی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ مصر میں جمہوری حکومت قائم ہو بالخصوص اخوان المسلمین کی حکومت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بیرونی طاقتیں پاکستان کو بھی مصر کے حالات میں دھکیلنا چاہتی ہیں۔ پاکستان میں حقیقی جمہوری حکومت باہر والوں کو کسی صورت برداشت نہیں۔ پاکستان میں جو گزشتہ پانچ سالہ نام نہاد جمہوریت دیکھی گئی، اس کی باگ ڈور بھی باہر والوں کے ہاتھ میں تھی۔ پاکستان میں بھی صدارتی نظام قائم تھا مگر اس ملک کا صدر باہر والوں کا ”پپٹ“ تھا۔ جنرل پرویز مشرف نے باہر والوں کو ویلکم کیا اور آصف علی زرداری نے ان سے ہر طرح کا تعاون کیا۔ چودہ سالہ عبرتناک دور نے آخرکار سوئے ہوئے پاکستانیوںکو بیدارکر دیا اور انہوں نے اپنے ووٹ کا حق ادا کرتے ہوئے مسلم لیگ کو ملک کی تقدیر سونپ دی۔ چودہ سال بامشقت قید کاٹنے کے بعد اس کٹے پھٹے ملک کی باگ ڈور نواز شریف کو ملی تو انہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی دو ماہ بعد ایک رسمی خطاب کر دیا۔ خطاب ہومیو پیتھک کی دوائی کی مانند ہے، نہ نقصان نہ فائدہ لیکن مخالفین کے پیٹ میں نہ جانے کیوں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔
ملک میںبرسوں سے ٹائر جلائے جا رہے تھے، مظاہرے ہو رہے تھے، بجلی کے بغیر ایک قیامت کا سماں تھا،جب ٹی وی سیٹ آن کرو جلاﺅ گھیراﺅ کے علاوہ کچھ دکھائی نہیں دیتا تھا لیکن رمضان المبارک کے بعد اب تک نہ کوئی ٹائر جلتا دکھایا گیا، نہ جلاﺅ گھیراﺅ کے مناظر دکھائے جاتے ہیں، نہ کوئی مظاہرہ اور نہ کوئی احتجاج، تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ لوڈشیڈنگ پر کافی حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔ میڈیاکو چونکہ منفی تصویر کشی کی عادت ہو گئی ہے لہٰذاجب یہ مناظر دکھائی نہ دیں تو بیرون ملک ناظرین سمجھ جاتے ہیں کہ ملک کو ”افاقہ“ہے۔ حکومت کی ہومیوپیتھک دوائی کام کر رہی ہے۔ ہمیں کسی جماعت سے دلچسپی نہیں مگر پاکستان کو مصر نہیں بننے دیں گے۔ جہاں حکومت کمزور دکھائی دے گی، اس کو مضبوط کریں گے اور جہاں غلطیاں نظر آئیں گی ،تنقید برائے اصلاح کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ پاکستان کے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے عوام نے ایک تجربہ کار اور تحمل مزاج لیڈر کا انتخاب کیا جبکہ سموسے اور پکوڑے سب کے جلسوں میں کھائے۔ اب جبکہ عوامی جمہوری حکومت کا نفاذ ہو گیا ہے تو اس کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں۔ بیرونی سازشوں کو اندرونی لڑائیاں مضبوط کر رہی ہیں۔اگر انتشار کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہا تو سازشی گروپس اس ملک کو یرغمال بنا لیں گے۔ ملک کی کچھ جماعتیں نواز حکومت کا تختہ الٹانے پر بضد ہیں۔ خدا انہیں انا پرستی سے نجات دے۔ بیرون ملک مقیم وہ پاکستانی جن کا مفاد صرف پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے، وہ کسی ایک جماعت یا قائد کے ذہنی غلام نہیں ہو سکتے۔ سیاست اور صحافت میں کچھ لو کچھ دو کے معاملات نے پاکستان کو اس نہج تک پہنچا دیا ہے جہاں وفا داری اور حب الوطنی رخصت ہو جاتی ہے۔ کچھ کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کا رویہ بتاتاہے کہ جو حکومت میں ہو اس کی خوشامد اور قصیدہ گوئی میں انتہا پسندہو جاتے ہیں لیکن جب لوگ حکومت سے باہر ہوجاتے ہیں تو ان کے خلاف وہ کچھ لکھا اور بولا جاتا ہے جیسے”جانتے نہیں، پہچانتے نہیں“۔ پاکستان کے کچھ کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کی تحریروں اور تبصروں سے ذاتی بغض اورخوشامد کی بد بُو آتی ہے ۔ قارئین کی کثیر تعداد ان کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کے حوالے دیتے ہوئے اپنی آراءدیتی رہتی ہے اور یقیناً ان کالم نگاروں اور تجزیہ نگاروں کو براہ راست بھی پیغامات ملتے ہوں گے۔ ملکی فلاح و بقاءکے معاملات اور مسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر جانبداری سے حقائق پر بات کی جائے تو عوام کی رہنمائی ہو تی ہے اور میڈیا کی ساکھ بھی بہتر رہتی ہے۔ قلم، کیمرہ اور ہتھیار کا استعمال غیر جانبدارنہ اور موقع محل کے مطابق کیا جائے تو حکمت و دانائی ہو گی ورنہ انتشار، فساد اور نفرتوں کا باعث بنتا ہے اور بیرونی سازشیں اپنا کام دکھا جاتی ہیں۔کچھ اینکرحضرات اور کالم نگاروں کا پرابلم یہ ہے کہ جو انہیں اہمیت دے، ان کے مفادات پورے کرے، اس کے لئے واہ.... واہ.... واہ.... اور جو نظرانداز کر نے کی گستاخی کر دے یا ان کی توقعات پر پورا نہ اترے، اس کے خلاف ہائے.... ہائے.... ہائے....!
کرائے کی صحافت و سیاست اپنا کاروبار جاری رکھے اور اللہ تعالیٰ اپنا فضل جاری رکھیں گے۔ اللہ کا کرم ساتھ رہا توہم پاکستان کو مصر نہیں بننے دیں گے۔