دفاعی کمیٹی کا نیا روپ اور وزیر اطلاعات کاموقف

کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا نیا روپ سنگھار کر کے اسے کابینہ کی قومی سلامتی کمیٹی کا نام دے دیا گیا ہے۔ اسے کہتے ہیں ، کان دائیں طرف سے نہ پکڑیں، بائیں طرف سے پکڑلیں۔
دفاعی کمیٹی نے کہا اور سب اخبارات نے جلی سرخیوں میں شائع کیا کہ شدت پسند ہتھیار ڈال دیں تو مذاکرات ہوں گے ورنہ طاقت کا استعمال کیا جائے گا۔مگر وزیر اطلاعات نے ایک اخبار میں الگ خبر چھپوائی ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔یہ تردید یا وضاحت ایک بھاری بھر کم نام کے ساتھ شائع ہوئی ہے مگر یہ حضرت اپنے ہی اخبار کی سپر لیڈ کے الفاظ تبدیل نہیں کرو اسکے۔وزیر اطلاعات کا یہ بھی کہنا ہے کہ مختلف چینلز نے غلط اطلاع پھیلا دی، میری خواہش ہے کہ اب چینلز اور اخبارات فیصلہ کریں کہ گوئبلز کون ہے۔
ہمارے ہاں دفاعی امور پر بوکھلاہٹ کا سماں دیکھنے میں آتا ہے۔ ہمیں نیشنل سیکورٹی کونسل کے نظرئے سے سخت چڑ ہے، نوازشریف نے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو اس کونسل کی تشکیل کا مشورہ دینے پر گھر بھیج دیا تھا۔جنرل ضیا الحق نے اس کونسل کو متعارف کرایا تھا اور جمہوری اور سیاسی حلقوں نے اعتراض کیا تھا کہ قومی امور جرنیلوں کے ہاتھ میں دے دئے گئے ہیں۔ جنرل مشرف نے اس کونسل کے احیا کے لئے ایڈیٹروں کو بریفنگ دی تو ہر شریک محفل کا اعتراض یہی تھا کہ جب ڈھیر سارے فوجی ایک ادارے میں جمع ہوں گے اور ان کے اوپر جنرل مشرف خود براجمان ہوں گے تو سویلین کی کون سنے گا اور تما م فوجی ارکان صدر کی ہاں میں ہاںملائیں گے، اس پر جنرل مشرف نے کہا کہ باقی مسلح افواج کے سربراہ ان کے لیلے تو نہیں کہ ان کی اپنی کوئی رائے نہ ہو تو میں نے جنرل مشرف کو بھری بزم میں ٹوکا تھا کہ آپ اپنی زبان کو کنٹرول کریں، فوجی سربراہوں کو لیلا کیوں کہہ دیا۔ان کی بھی وہی عزت ہے جو آپ کی بطور آرمی چیف ہے۔جنرل نے اپنے الفاظ واپس لئے اور گفتگو آگے بڑھی، مشرف کی دلیل تھی کہ اس کونسل کے ہوتے ہوئے مارشل لا نہیں لگ سکتا۔مگر جب انہوںنے ایمر جنسی پلس لگائی جو نئے مارشل لا ہی کے مترادف تھی تو ان کی پیش کردہ دلیل از خود، رد ہو گئی، یہ کونسل اس بہروپئے مارشل لا کاراستہ نہ روک سکی۔
محترمہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے میثاق لندن میں لکھا کہ وہ قومی سلامتی کونسل کو ختم کریں گے اور اس کی جگہ کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو فعال بنائیں گے، زرداری کے دور میںقومی سلامتی کونسل کی تشکیل نو نہ کی گئی، اس کے بجائے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کو متحرک کیا گیا مگر پانچ برسوں میں اس کے صرف بارہ اجلاس ہو سکے حالانکہ ملک سنگین خطرات میں گھرا رہا۔ یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالنے کے آٹھویںمہینے میں اس کمیٹی کا پہلااجلاس بلایا ۔نواز شریف کی حکومت کے پہلے تین ماہ میں گزشتہ روز اس کا پہلا اجلاس طلب کیا جا سکا جس میں اس کا حلیہ بدل دیا گیا اور اس میں جو ایک بات ہوئی ، اس کی تردید بھی وزیر اطلاعات نے جاری فرما دی۔ یہ ہے کابینہ کی دفاعی کمیٹی کی پہلی کاروائی کا بھرم اور وقار۔آئندہ بھی کمیٹی میں فیصلے ہوا کریں گے اور وزیر اطلاعات ان کی تردید فرمایا کریں گے۔
قومی سلامتی کونسل کانام اور نظریہ کتنا ہی نا پسندیدہ ہو، اس کا ڈھانچہ زیادہ وسیع اور جمہوری تھا۔ دفاع کا محکمہ ضرور وفاق کی تحویل میں ہے لیکن قومی سلامتی کا تعلق وفاق کی تما م اکائیوں سے ہے، اسی لئے قومی سلامتی کونسل میں چاروں وزرائے اعلی کو بھی رکنیت دی گئی تھی جبکہ اس وقت تمام صوبوں کی سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں مگر کابینہ کی نئی سلامتی کمیٹی میں ان کی کوئی آواز نہیں ، خیبر پختون خواہ، بلوچستان اور سندھ دہشت گردی کی آگ میں جل رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کی کنٹرول لائن بھی دہک رہی ہے، اس خطے کی لگام ایک ادنی درجے کے وفاقی اہل کار کے ہاتھ میں ہے اور اسے بھی سلامتی کمیٹی میں نہیں بٹھایا گیا۔بھلے قومی سلامتی کونسل کا مردہ قبر میں دفن کردیں اور اس کی جگہ کابینہ کی سلامتی کمیٹی کا بت تراش لیں لیکن اس بت میں جان تو ہونی چاہئے، اس کی آنکھیں، کان، ناک ، زبان اور ذہن تو ہونا چاہئے۔اس وقت وزیر اعظم خود وزیرخارجہ اور وزیر دفاع ہیں ، اس طرح کمیٹی میں تین ووٹ تو ایک فرد کی جیب میں ہیں۔اس کمیٹی کا کوئی سیکرٹریٹ بھی ہونا چاہئے اور اس کا ایک سیکرٹری جنرل بھی، نجانے یہ کمیٹی کب مکمل ہو گی اور کب حرکت میں آ سکے گی۔ اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد تو حکومت کے پاس نئی دفاعی اور سلامتی پالیسی بنانے میں تاخیر کا کوئی بہانہ نہیں رہا۔آل پارٹیز کانفرنس کی پخ خواہ مخواہ لگا دی گئی ہے، پہلے حکومت کوئی فیصلے تو کرے، اپنا ذہن واضح کرے، اس پر اگر کوئی اختلاف سامنے آئے تو بسم اللہ، درجنوں آل پارٹیز کانفرنسیں بلا لے مگر ربع صدی کا حکومتی تجربہ رکھنے والی قیادت خود تو کوئی انشی ایٹو لے۔
ویسے اس کمیٹی نے اپنے نیک ارادے مخفی نہیں رہنے دیئے، اس کے پہلے اجلاس کو بھارت نے تین شہیدوں کی لاشوں سے سلامی پیش کی ہے اور کمیٹی نے بھارت کی محبت میں اس سانحے کو در خور اعتنا نہیں سمجھا اور بھارت کی طرف محبت کے زمزمے بہا دیئے ہیں۔
میں کسی کو حکم عدولی یا بغاوت پر نہیں اکسانا چاہتا مگر بھارت ہی کے ایک جھگڑے کی مثال پیش کرنا چاہتا ہوں ، ان دنوں وہاں کی عدلیہ میں یہ بحث چل رہی ہے کہ اگر وزیر داخلہ مرا رجی ڈیسائی کے حکم پر ممبئی کا ایک تھانیدار ایک مشتبہ شخص کو نہ چھوڑتا تو چند روز بعدگاندھی کے قتل کی نوبت نہ آتی، بھارتی جج صاحبان کا موقف ہے کہ قانون پر عمل کرنا متعلقہ محکمے کا کام ہے ، اس میں حکومتی وزیر مشیر مداخلت نہیں کر سکتا۔ڈی آئی خان جیل ٹوٹنے میں متعلقہ ڈی سی او کا اختیار تھا کہ وہ فوج کی مدد طلب کرتا ،اسے اوپر سے احکامات کا انتظار نہیں کرنا چاہئے تھا، لائن آف کنٹرول پر اگر ہر روز پاکستانی فوجیوں کی لاشیں گر رہی ہوں تو کوئی وزیر دفاع یہ حکم جاری کرنے کا مجاز نہیں کہ صبر کرو اور رو ز جنازے اٹھاﺅ۔
دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے روز تین فوجیوں کے جنازے اٹھے۔وزیر اعظم اس روز ایک تعزیت پر گئے اور وہ تھی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ، شاید ہی دفاعی کمیٹی کا کوئی نمائندہ تین شہید فوجیوںکے لواحقین کے ساتھ تعزیت کے لئے گیا ہو۔وزیر اعظم وہاں چلے جاتے تو من موہن سنگھ سے ملاقات کی حسرت ان کے دل میں ہی رہ جاتی۔
 دو متضاد کام ایک وقت میں نہیں کئے جا سکتے، وزیر اعظم اتنے سیانے تو ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کی اتنی ہی اہمیت ہے تو انہیں کابینہ کی دفاعی کمیٹی کا رکن تو بنایا جائے،کتنے ہی آئینی کام ایسے ہیں جو اپوزیشن لیڈرکے مشورے کے بغیر نہیں کئے جا سکتے تو قومی سلامتی اور دفاع کا فریضہ اس کی مشاورت کے بغیر کیسے ممکن ہے۔