سفر محبت

صحافی  |  طیبہ ضیاءچیمہ
سفر محبت

نیو یارک واپسی پر دوران پرواز ساتھ نشست پر بیٹھا سیاہ فام امریکی باشندہ ہیڈ فون پر موسیقی سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔ کچھ دیر کے لئے ہیڈ فون اتار کرایک طرف رکھ دیا ہے اور موسیقی کو مسلسل انجوائے کر رہا ہے۔ "عشق ہواہی ہوا۔۔۔۔۔۔شاید کسی انڈین فلم کا گانا ہے۔ لیکن اسے کیا سمجھ آرہی ہے جو آنکھیں موندے جھوم رہا ہے۔ سفر طویل اور تھکا دینے والا ہے۔ اس مرتبہ پاکستان میں لمبی چھٹی گزار کر امریکہ واپس جا رہی ہوں۔ گھر سے گھر کا سفر دیس سے پردیس کا سفر ہے۔ایک دوست نے میرے ہاتھ کی لکیریں دیکھ کر درست کہا تھا کہ میرا وجود کہیں بھی مکمل نہیں۔ جسم جہاں ہوتا ہے روح اور دماغ ساتھ نہیں ہوتے ۔۔۔حقیقت میں انسان مکمل ہی تب ہوتا ہے جب روح اور بدن ایک ہو جائیں۔ بدن یہاں تو دماغ کہیں اور روح یہاں تو دل کہیں اور۔ بکھری ہوئی شخصیت، بکھرا وجود ،بکھری سوچیں۔۔۔۔زندگی کا زیادہ حصہ ہوائی اڈوں پر پروازیں بدلتے گزر گیا لیکن اس پرواز کا انتظار ہے جو سفر کی آخری منزل تک پہنچا دے۔ زندگی مختصر ہے لیکن سفر طویل ہے۔ یہ کہانی عشق و محبت کی کہانی ہے۔۔میاں محمد بخش فرماتے ہیں کہ دل کی زندگی محبت سے ہے‘ جس دل میں محبت نہیں وہ دل مردہ ہے۔ ایمان محض محبت ہے اور محبت ایمان سے ہوتی ہے۔
جس دل اندر عشق نہ رچیاکتے اس تِھیں چنگے
مالک دے در راکھی کر دے صابر بھوکے ننگے۔
لاہور شدید گرمی کی لپیٹ میں تھا۔ دوستوں نے حسرت سے کہا کہ امریکہ کے خوشگوار موسم میں جارہی ہو۔ دل اداس ہو گیا۔ رات اچانک تیز آندھی آئی ، ہلکی بونداباندی ہوئی اور لاہور کا موسم خوشگوار ہو گیا۔ نصف شب لاہور کے علامہ اقبال ائیر پورٹ کی جانب روانہ تھے، اطراف حسین اور دلکش پھولوں کو ہوا کے سنگ جھومتے دیکھ کر وطن پر بڑا پیار آیا۔ نئیں ریساں میرے دیس دیاں۔ احباب سے کہا کہ اب گلہ نہ کرناموسم کا۔دلفریب موسم چھوڑ کر جا رہی ہوں۔امریکہ اٹھارہ بیس گھنٹے کا مسلسل سفر مت مار دیتا ہے۔ امریکہ بہت دور ہے یا شاید پاکستان دور ہے۔ بندہ جب خطوں اور حالات میں تقسیم ہو جاتا ہے تو خود کو جمع کرنے کی سعی میں ہر قسم کی تفریق سے آزادی چاہتا ہے۔رنگ نسل مذہب حیثیت زبان کے حساب کتاب سے نکل جانا چاہتا ہے۔ نیو یارک بستے ہوئے دس برس ہو گئے ہیں۔ اس سے پہلے چھ ریاستوں میں رہ چکے ہےں لیکن نیویارک شفٹ ہونے کا مقصد دیسی کلچر کی کشش ہے۔مادری زبان اور ثقافت کا ہم پرغلبہ ہے۔ پردیس میں دیس کا ماحول بنا رکھا ہے لیکن پردیس نے ایک صدمہ ایسا دےدیا کہ نہ اس شہر سے نہ دور رہ سکتی ہوں اور نہ ہی اس شہر میں زیادہ عرصہ دل لگتا ہے۔ لخت جگر کا اس شہر میں حادثہ ہوااور یہ شہر اس کی آخری آرام گاہ بن گیا۔چار دناں دا پیار ہو ربا
بڑی لمبی جدائی۔۔۔۔لمبی جدائی اور زندگی کاسفر سوچوں میں دھکیل دیتا ہے۔ کچھ پیچھے کی یادیں کچھ آگے کی باتیں۔ محبت میں کمزور لوگ ہمیشہ محبت میں ہی آزمائے جاتے ہیں۔نیویارک میں میرے بچے میرا انتظار کر رہے ہیں۔ ماں سے زیادہ عشق کا مفہوم کون سمجھ سکتاہے۔ جس محبت میں ممتا کی حلاوت نہ ہو وہ محبت احساس کے جذبے سے محروم ہوتی ہے۔ خالق نے یہ دنیامحبت میں گوند کر بنائی۔ دنیا بنانے سے پہلے محبت کو پیدا کیا کیوں کہ اپنا حبیب مبعوث فرمانا مقصود تھا۔ حبیب کے لئے دنیا بنائی۔ انسان اپنی زندگی میں سے محبت کا جذبہ خارج کردے یاخود کو محبت اور احساس کے جذبات سے بے دخل کر دے تو وہ انسان نہیں بلکہ ماٹی کا پتلا رہ جاتا ہے جو روح سے پہلے تخلیق کیا گیا تھا۔۔۔ہماری پرواز فضا میں معلق ہے اور نیچے لامحدود سمندر۔ سات سمندر اس پاراترنا ہے۔ خوشی اور اداسی کے ملے جلے جذبات لئے سفر رواں دواں ہے۔ نصف سفر وطن کی یاد میں اداسی میں گزرتا جاتا ہے اور باقی نصف سفر گھر جانے کی خوشی میں گزر رہا ہے۔ وطن جہاں ماں باپ تھے بچپن تھا ماضی سے جڑی یادیں ہیں۔ وقت کٹ نہےں رہا موسیقی لگائی ہے۔سیٹ کے سامنے لگی سکرین کو آن کیا تو "تجھ میں رب دکھتا ہے یارا میں کیا کروں " گیت آن ہوگیا۔ ہر وہ شخص جس کا قلب محبت سے لبریز ہے احساس سے منور ہے چاہنے اور چاہے جانے کا عشق موجود ہے اس میں رب تو دکھے گا۔ جس انسان کی زندگی کا سفر محبت سے اور محبت کے ساتھ گزر جائے اس انسان کے سینے میں دل نہیں بلکہ قلب سلیم دھڑکتا ہے۔ جس شخص کے پاس بیٹھ کر محبت کی تاثیر محسوس ہو ، قلب سے خارج ہونے والی مقناطیسی شعائیں روح میں سرایت کر جائیں اس شخص کو " صاحب قلب " کہا جاتا ہے۔سیاہ فام مسافر عشق عشق ہے عشق عشق سنتے سنتے سفر کی تھکان سے نڈھال ہو کر سو گیا ہے۔ نیو یارک اب قریب آگیا ہے یا شاید ہم شہر کے قریب پہنچ رہے ہےں۔ وطن اور عزیز و اقارب اور دوست سات سمندر بہت دور چھوڑ آئی ہوں۔۔۔۔۔۔ سفر محبت بھی کبھی کبھار تھکا دیتا ہے۔محبت جب مغرور ہو جائے تو اسے بھی کچھ عرصہ کے لیے خود سے دور چھوڑ آنا چاہئے تا کہ اسے بھی جدائی اور بے اعتنائی کی سزا مل سکے۔
درد کو حد سے گزر جانے دو
اسے خوشی سے بچھڑ جانے دو
ابھی عروج پہ ہے زمانہ اس کا
مکرتا ہے عہد سے مکر جانے دو