نواز شریف اور’’مائنس ون‘‘ فارمولہ

کالم نگار  |  نوازرضا۔۔۔ںوٹ بک
نواز شریف اور’’مائنس ون‘‘ فارمولہ

وفاقی وزیر بین الصوبائی رابطہ میاں ریاض پیر زادہ نے نیشنل پریس کلب کے ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام میں مسلم لیگ(ن) کی اعلیٰ قیادت کو ’’مائنس ون‘‘ کا فارمولہ دے دیا ہے انہوں نے یہ بات کسی سوال کے جواب میں کہی اور نہ ہی انہیں اچانک مسلم لیگی قیادت تبدیل کرنے کا مشورہ دینے کی سوجھی بلکہ انہوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق میاں نواز شریف کو ’’سائیڈ لائن‘‘ ہونے اور میاں شہباز شریف کو پارٹی ’’ٹیک اوور‘‘ کرنے کا مشور دیا ہے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کو ’’طوفان‘‘ سے ڈرانے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ ’’طوفان آیا ہوا ہے اس سے لڑنے کی بجائے مصلحت پر مبنی سیاست کی جائے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ ’’سائیڈلائن‘‘ ہو کر ’’طوفان‘‘ کے گذرنے کا انتظار کریں۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ پارلیمنٹیرینز کو آئندہ سیاسی لائحہ عمل کے بارے میں اپنے ضمیر کے مطابق فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے انہوں نے اس بات پر بھی اصرار کیا ہے کہ ’’وہ کسی کے ایجنٹ ہیں اور نہ ہی کسی کا ایجنڈا لے کر سامنے آئے ہیں‘‘ میری ذاتی معلومات کے مطابق میاں ریاض پیرزادہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کی خواہش کا اظہار کیا تو پریس کلب کی انتظامیہ نے ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام کا اہتمام کر کے ان کی عزت افزائی کی۔ جب سے میاں ریاض پیر زادہ نے پارلیمانی سیاست میں قدم رکھا ہے ان سے یاد اللہ ہے وہ ایک ’’کھلے ڈلے‘‘ سیاست دان ہیں وہ پچھلے دو عشروں کے دوران اپنی سیاسی ضروریات کو پیش نظر تین چا ر بار ’’سیاسی ٹھکانے‘‘ تبدیل کر چکے ہیں ان کی کسی سیاسی جماعت سے ’’غیر مشروط‘‘ وابستگی نہیں بلکہ وہ زمینی حقائق کو پیش نظر رکھ کر اپنے سیاسی مستقبل کے بارے میں فیصلے کرتے ہیں یہی وجہ ہے بیشتر مسلم لیگی انہیں ’’نو مسلم لیگی‘‘ ہی تصور کرتے ہیں۔ ’’سیاسی کھڑاک‘‘ ان کی سیاست کا طرہ امتیاز ہے ان کی اجازت کے بغیر پاکستان سپورٹس بورڈ کے سربراہ اختر گنجیرہ جیسے اچھی شہرت کے مالک افسر کو معطل کیا گیا تو انہوں نے ’’طوفان‘‘ کھڑا کر دیا جس کے بعد وفاقی حکومت اختر گنجیرہ کو معطل کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑا اسی طرح جب 37 حکومتی ارکان پارلیمنٹ کے دہشت گرد تنظیموں سے رابطوں کے بارے میں آئی بی کی نگرانی کا شوشہ چھوڑا گیا تو یہ ریاض پیرزادہ ہی تھے جنہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو پارلیمنٹ میں حکومتی پوزیشن کی وضاحت کرنے پر مجبور کر دیا میاں ریاض پیر زادہ نے’’ میٹ دی پریس‘‘ پروگرام میں میاں نواز شریف کو جو مشورہ دیا ہے وہ شاید ہی کسی اور مسلم لیگی لیڈر کو دینے کا حوصلہ ہو۔ ممکن ہے کچھ او رمسلم لیگی لیڈر بھی ان ہی خطوط پر سوچتے ہوں لیکن کسی کو اس طرح بات کرنے کی جرات نہیں ابھی تک معلوم نہیں ہو سکا کہ انہیں کسی لیڈر نے اکسایا ہے یا یہ ان کی اپنی سوچ ہے لیکن ایک بات واضح ہے انہوں نے پنجاب ہائوس اسلام آباد میں چیدہ چیدہ مسلم لیگی رہنمائوں کے ’’غیر معمولی‘‘ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کیا جو وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی ترکی کے دورے پرروانگی سے قبل منعقد ہوا اس اجلاس کی اہم بات یہ ہے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف اور وفاقی وزراء سینیٹر محمد اسحق ڈار، احسن اقبال اورخواجہ سعد رفیق نے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے ساتھ پارٹی کو موجودہ بحران سے نکالنے کے بارے میں مشاورت کی اس اجلاس کے انعقاد کے بارے میں کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی یہ اجلاس بلانے کا مقصد پارٹی اور حکومت کے اسٹیبلشمنٹ سے بہتر تعلقات کار قائم کرنے کے لئے آئندہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا اس اجلاس میں غیر محسوس انداز میں مسلم لیگی قیادت کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے ’’مائنس ون‘‘ فارمولہ پر عمل کر کے ہی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان بہتر تعلقات کار قائم ہو سکتے ہیں اب سوال یہ ہے کہ میاں نواز شریف کو کون ’’سٹیپ ڈائون‘‘ ہونے کا مشورہ دینے کی جرات کرے گویا بلی کے گلے میں گھنٹی ڈالنے کا ناخوشگوار فریضہ میاں ریاض پیرزادہ نے ادا کیا سب مسلم لیگی میاں نواز شریف کا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ جانتے ہیں میاں نواز شریف نے 10 سال کی جلاوطنی تو قبول کر لی لیکن اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ نہیں ملا یا انہیں تیسری بار کس طرح اقتدار سے نکالا گیا ہے پاکستان کا سیاسی سوچ رکھنے والا ہر شخص جانتا ہے ہے کرپشن تو ایک الزام تھا ان کو اقتدار سے الگ کرنے کے پیچھے ایک پوری کہانی ہے جس میں ’’کپتان‘‘ سمیت کچھ دیگر ’’سیاسی مہرے‘‘ آلہ کا ر بنے میاں نواز شریف کو اقتدار سے دیس نکالا دینے والے انہیں لوگوں کے دلوں سے نکالنے میں بے بس نظر آتے ہیں این اے 120 کا انتخابی نتیجہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے میاں نواز شریف انتخابی اصلاحات ایکٹ 2017ء میں شق 203 شامل کر وا کر نہ صرف دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے صدر منتخب ہو گئے ہیں بلکہ انہیں ملکی سیاست سے نکال باہر کرنے والے منہ دیکھتے رہ گئے۔ اب مسلم لیگی حلقوں میں یہ بات برملا کہی جا رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کے لئے میاں نواز شریف کو ’’رضاکارانہ‘‘ طور کچھ عرصہ کے لئے ’’سائیڈلائن‘‘ ہو جانا چاہیے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف، چوہدری نثار علی خان، سینیٹر محمد اسحقٰ ڈار اور خواجہ سعد رفیق فوج اور عدلیہ سے محاذ آرائی کے خلاف ہیں وہ کچھ جونیئر رہنمائوں جو میاں نواز شریف کو تصادم کی پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں کا پارٹی میں رول کم کرنا چاہتے ہیں۔ سر دست صورت حال یہ ہے ہارڈ لائن اختیار کرنے والوں نے میاں نواز شریف کے گرد گھیرا ڈال رکھا ہے میاں نواز شریف بھی ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو انہیں ان کے مزاج کے مطابق مشورے دیتے ہیں۔ سیاست ایک ظالمانہ کھیل ہے برصغیر پاک و ہند کے نامور صحافی آغا شورش کا شمیری کہا کرتے تھے کہ ’’سیاسی قبیلہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہاتھ میں رحم کی لکیر نہیں ہوا کرتی وہ بھائی کو بھی اقتدار کی قربان گاہ پر چڑھا دیتے ہیں ایک طرف ’’زخم خوردہ‘‘ نواز شریف جو تنہائی میں سوچتا ہے کہ اسے چار سالہ دن رات محنت کا کیا صلہ دیا گیا ہے کو اب پارٹی پر بوجھ سمجھنے والے کچھ مسلم لیگی جہاں ان کے ووٹ بینک کے ذریعے اقتدار تو حاصل کرنا چاہتے ہیں وہاں وہ ان کو کچھ عرصہ تک ’’گوشہ نشین‘‘ ہونے کا مشورہ دے رہے ہیں جب کہ دوسری طرف عمران خان اور شیخ رشید احمد میاں نواز شریف کے خون کے پیاسے تو تھے ہی اب سابق صدر آصف علی زرداری نے اسٹیبلشمنٹ کو خوش کرنے کے لئے میاں نواز شریف جنہوں نے انہیں باوقار طریقے سے ایوان صدرسے رخصت کیا تھاکی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا ہے چوہدری نثار علی خان پچھلے چار سال سے میاں نواز شریف کو یہ باور کرانے کوشش کرتے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کبھی ان کی دوست ثابت نہیں ہو گی جب اسے موقع ملے گا وہ ان کو نقصان پہنچائے گی کئی پیغامات موصول ہونے پر بھی آصف علی زرداری نے میاں نواز شریف سے ملنے سے انکار دیا بلکہ وہ انہیں ’’نشان عبرت‘‘ بنانے کے لئے غیر مشروط طور پراسٹیبلشمنٹکی ’’چھتری‘‘ تلے آنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ میں میاں نواز شریف کو پچھلے تین عشروں سے زائد عرصہ سے جانتا ہوں وہ اسٹیبلشمنٹ کے ’’لاڈلے‘‘ بھی رہے ہیں لیکن جب انہوں نے اپنی مرضی کی سیاست کرنی چاہی تو کبھی ان کی حکومت آئین کے آرٹیکل 58(2) بی کا شکار ہوگئی، کبھی فوجی ڈکٹیٹر نے ان کی حکومت پر شب خون مار دیا اور اب ان کو نا اہل قرار دے کر ’’ناکردہ گناہوں‘‘ کی سزا دے دی گئی۔ ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا لیکن 40 سال گذرنے کے بعد بھی انہیں لوگوں کے دلوں سے نہیں نکالا جا سکا اسی طرح میاں نواز شریف کو بار بار اقتدار سے نکالے جانے اور جلاوطنی کی زندگی بسر کرنے کے باوجود ان کی مقبولیت میں کمی نہیں آئی اگرچہ ان کے سیاسی مخالفین کی ایک بڑی تعدا د ان کا تعاقب کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود وہ اس وقت پاکستان کے مقبول ترین لیڈر ہیں عمران کا شمار ملک کے مقبول ترین لیڈروں میں ہوتا ہے لیکن وہ میاں نواز شریف کی مقبولیت کو دور تک نہیں پہنچ پائے۔ وہ ’’امپائر‘‘ کے کندھوں پر سوار ہوکر وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ میں تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود کے اس نکتہ نظر سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ ’’نواز شریف شہباز شریف ہے اور شہباز شریف نواز شریف ہے‘‘ ان کو ایک دسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کوئی یہ سمجھتا ہے میاں شہباز شریف اور چوہدری نثار علی خان پارٹی میں ’’بغاوت‘‘ کریں گے یہ اس کی خام خیالی ہے۔ راولپنڈی کے ’’جوتشی‘‘ کے اس شوشے میں کو ئی حقیقت نہیں کہ 70،80 مسلم لیگی جوگر پہن کر دوسری پارٹی جائن کرنے کے لئے تیا ر بیٹھے ہیں میں اپنے سیاسی تجربہ کی 

بنیاد پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ نیب کیسز میں شریف خاندان کا شکنجہ کسنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کا شیرازہ بکھرے گا اور نہ ہی ووٹ بینک ٹوٹے گا میاں شہباز شریف نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے ووٹ بینک کو پوری قوت سے مجتمع کر رکھا ہے میاں شہباز شریف میاں نواز شریف کے بھائی ہونے کے علاوہ قابل اعتماد ساتھی بھی ہیں وہ مسلم لیگ (ن) کو’’ بے رحم طوفان‘‘ سے بچا کر لے جا سکتے ہیں لیکن سب کو یہ بات ذہن نشیں رکھنی چاہیے میاں نواز شریف کا چہرہ مسلم لیگ(ن) سے اوجھل نہ ہونے پائے اگر ایسا ہوا تو پھر کچھ نہ بچے گا مسلم لیگ ہوگی اور نہ ہی اس کا نام و نشان ملے گا ۔ اسی مسلم لیگ (ن) کو عوام کی سند قبولیت حاصل ہو گی جس کے قائد میاں نواز شریف ہوں گے۔