پیپلز پارٹی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کی راہ میں تیسری بار حائل

پیپلز پارٹی نئی حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی ترمیم کی راہ میں تیسری بار حائل

بدھ کو ایوان بالا کے اجلاس میں مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کی نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے آئینی ترمیم کا بل 2017 دو تہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے تیسری بار پیش نہ ہو سکا، ایوان بالا میں اپوزیشن کے سینیٹرز کی اکثریت ہے بدھ کو اپوزیشن بالخصوص پیپلز پارٹی کے سینیٹرز کی اکثریت ایوان سے غیر حاضر رہی پیپلز پارٹی نے آئینی ترمیم کا راستہ روک رکھا ہے پیپلز پارٹی کی تضاد پر مبنی پالیسی آئینی ترمیم کو منظور نہیں ہونے دے رہی پیپلز پارٹی نے پہلے اس ترمیم کی راہ قومی اسمبلی میں رکاوٹ ڈالی جب حکومت نے اس کے مطالبات تسلیم کر لئے اور معاملہ مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں لے گئی وہاں پر مردم شماری کی مشروط طور پر عبوری منظوری دے دی دوبارہ آئینی ترمیم قومی اسمبلی میں آئی پیپلز پارٹی نے حمایت کر دی لیکن پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی میں بل کی حمایت کر دی لیکن سینیٹ میں بل کو روکنے کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی جوں ہی آئینی ترمیمی بل ایوان بالا میں آیا تو پیپلز پارٹی کی اکثریت غائب ہو گئی ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے آئینی ترمیم میں کیڑے نکالنے شروع کر دئیے ، چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا کہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف آئینی ترمیم کو جلد منظور کرانے اور اس پر اتفاق رائے کیلئے کردار ادا کریں۔ بدھ کو ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت 32منٹ تاخیر سے شروع ہوا جب کہ سینیٹ کا اجلاس بروقت منعقد ہوتا ہے صرف آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے اجلاس نصف گھنٹہ کی تاخیر سے شروع کیا گیا لیکن اجلاس میں ایوان میں حکومت اور اپوزیشن سینیٹرز کی غیر حاضری کی وجہ سے نئی حلقہ بندیوں کے حوالے سے دستور(ترمیمی)بل 2017 پیش نہ ہو سکا۔ بہرحال سینٹ کا اجلاس جمعہ کو طلب کر لیا گیا ہے، سر دست جمعہ کو بھی آئینی ترمیم منظور ہونے امکان نہیں بدھ کو سینٹ میں 68ارکان نے حاضری لگائی جس کا مقصد تنخواہ لینا تھا، لیکن بیشتر ارکان ایوان سے اٹھ کر چلے گئے پیپلز پارٹی کے 11ارکان ایوان سے غائب سے رہے جب کہ مسلم لیگ (ن) کے5 ارکان غیر حاضر رہے مشاہد اللہ، محمداسحق ڈار اور ذوالفقار کھوسہ ایوان میں نہیں آئے۔ محمد اسحق ڈار لندن میں زیر علاج ہیں ایسا دکھائی دیتا ہے پیپلز پارٹی کے ارکان آصف علی زرداری کی طرف دیکھ رہے ہیں جب کہ آصف علی زرداری کہیں اور دیکھ رہے ہیں اس لئے جب تک آصف علی زرداری راضی نہیں ہو تے ایوان بالا سے آئینی ترمیم منظور نہیں ہو گی آئینی ترمیم منظور نہ ہونے سے 2018ء میں مقررہ وقت پر عام انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں اگر عام انتخابات التوا کا شکار ہو گئے تو پیپلز پارٹی اس کی ذمہ دار ہو گی۔