پنجاب پیپلز پارٹی کے دو صوبے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
پنجاب پیپلز پارٹی کے دو صوبے

جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر مخدوم سید احمد محمود نے صحافیوں سے ملاقات کی جس کا اہتمام برادرم عبدالقادر شاہین نے کیا تھا۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ پیپلز پارٹی پنجاب کم از کم دو صوبوں کی حامی ہے۔ حامی تو نااہل ”وزیراعظم“ گیلانی بھی تھے جب وہ وزیراعظم تھے۔ ان کے بیٹے 2013ءکے الیکشن میں ہار گئے تھے۔ جنوبی پنجاب سے وزیراعظم رہے، صدر بھی رہے، وزیر شذیر تو بہت سے تھے۔ گورنر پنجاب تھے مگر کسی نے جنوبی پنجاب کی طرف کوئی توجہ نہ دی۔ اب پہلی بار سنٹرل پنجاب پیپلز پارٹی اور جنوبی (ساﺅتھ) پنجاب کو جماعتی طور پر الگ الگ کر دیا گیا ہے۔ مخدوم صاحب سے امید ہے کہ اب وہ کچھ کر دکھائیں جو گورنر اور وزیراعلیٰ نہیں کر سکے۔ مخدوم سید احمد محمود کو گورنر پنجاب بنایا گیا تھا تو سب سے زیادہ خوشی برادرم عبدالقادر شاہین کو ہوئی تھی۔ وہ ”صدر“ زرداری سے دور دور تھے۔ میں نے ان سے پوچھا تھا تو انہوں نے کہا کہ میں تو گورنر پنجاب مخدوم سید احمد محمود کے ساتھ ہوں اور وہ ان کے ساتھ ساتھ رہے۔ یہ بھی دوستی نبھانے والی بات ہے۔ ”صدر“ زرداری بھی ”دوستی“ نبھانے کے ”ماہر“ ہیں۔ شاہین بھائی سے بڑی پرانی دوستی ہے اور وہ واقعی دوست ہیں۔ میرے غریب خانے پر کئی بار آ چکے ہیں۔ جب وہ کسی نہ کسی عہدے پر ہوتے تھے تو بھی اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے آتے تھے۔ ان کی گاڑی میرے دس مرلے کے کوارٹر کے سامنے رک جاتی۔ ڈرائیور کی سیٹ سے خود عبدالقادر شاہین اترتے۔ ہم کئی بار کوٹ لکھپت جیل میں زرداری صاحب کو ملنے بھی گئے۔ ہمارے ساتھ برادرم منور انجم بھی ہوتے تھے۔ شاہین اور منور شہید بی بی کے بڑے جانثاروں میں تھے۔
چونکہ صحافی شاہین صاحب کے بہت دوست ہیں۔ مخدوم احمد محمود کو بھی یہ سہولیات فراہم ہو جاتی ہے۔ شاید پورے پنجاب سے واحد ممبر قومی اسمبلی جنوبی پنجاب سے مخدوم صاحب کا بیٹا ہے۔ ایک ممبر پنجاب اسمبلی بھی مخدوم صاحب کا بیٹا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ”صدر“ زرداری جتنی کوشش کر لیں پنجاب سے ایک آدھ ممبر اسمبلی ضرور منتخب ہو جائے گا۔ وہ تو پنجاب کو بھٹو کی پیپلز پارٹی سے فارغ کر چکے ہیں جبکہ ایک زمانے پنجاب اور لاہور پیپلز پارٹی کا گڑھ تھا۔ ”صدر“ زرداری کے لئے صرف گڑھی خدا بخش رہ گیا ہے اور سندھ میں ”صدر“ زرداری کی حکومت ہے جب وہ ایوان صدر میں تھے تو بھی پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت تھی۔ آج بھی ہے۔ جبکہ ایوان صدر میں نواز شریف کا ممنون صدر بیٹھا ہوا ہے۔ ”صدر“ زرداری نے اپنے طور پر مفاہمت کی سیاست کے حوالے سے اقتدار کی یہ بندر بانٹ کر لی ہے۔ شیر کے ساتھ بندر بانٹ ”صدر“ زرداری کی مفاہمتی سیاست کی ”جیت“ ہے۔
اک زرداری سب پر بھاری
اب یہ نعرہ اس طرح لگایا گیا جبکہ پرویز رشید کا ”مقابلہ“ جاری و ساری ہے۔
شیریں مزاری سب پر بھاری
”صدر“ زرداری کو یہ بھی سمجھ آ گئی ہے کہ ہمیں کچھ مل سکتا ہے تو وہ جنوبی پنجاب سے مل سکتا ہے۔ ان کے خیال میں جنوبی پنجاب سندھ کا پنجاب ہے۔ انہوں نے پھر کامیاب سیاست کا ثبوت دیا ہے کہ جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی کا صدر مخدوم احمد محمود کو بنایا ہے۔ انہوں نے پہلے بھی اپنی کامیاب سیاست کا ثبوت دیا تھا کہ مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بنا دیا تھا۔ وہ شاید پیپلز پارٹی کے سب سے بہتر گورنر تھے۔ ایسے حالات میں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی حکومت نہ تھی۔ سلمان تاثیر نے اپنی کامیابی کا خواب دیکھا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی ناکام کوشش کی۔ وہ گورنر راج میں بھی ”وزیراعلیٰ“ نہ بن سکے۔ اور اس زور شور میں قتل ہو گئے۔ ان کی بدقسمتی یہ بھی تھی کہ بے نظیر بھٹو شہید ہو چکی تھیں۔ صدر زرداری کی کامیاب سیاست دیکھیں کہ سلمان تاثیر کو یہ بھی یاد نہ تھا کہ توہین رسالت کے نامراد مجرم راج پال کو قتل کر کے شہادت پانے والے غازی علم الدین شہید کے جسد خاکی کو چارپائی ان کے والد پروفیسر ایم ڈی تاثیر نے پیش کی تھی۔
نواز شریف نے اچھا کیا کہ چودھری سرور کو گورنر پنجاب بنایا۔ زرداری نے اچھا کیا تھا کہ مخدوم احمد محمود کو گورنر پنجاب بنایا تھا۔ صحافیوں کے ساتھ ملاقات میں جہانگیر بدر کے علاوہ سنٹرل پنجاب سے کوئی قابل ذکر سیاستدان نہ تھا۔ صرف فائزہ ملک تھی۔ صدر پنجاب پیپلز پارٹی منظور وٹو نے نہ آ کے ثابت کر دیا کہ اب وہ صرف سنٹرل پنجاب پیپلز پارٹی کے صدر ہیں۔ منظور وٹو کی طرح بظاہر پیپلز پارٹی کے مخدوم صاحب بھی نہیں ہیں مگر فرق یہ ہے کہ صدر جنوبی پنجاب پیپلز پارٹی بن کر مخدوم صاحب پورے کے پورے پیپلز پارٹی کے لگتے ہیں اور منظور وٹو اب بھی نہیں لگتے۔ مخدوم صاحب نے کہا کہ میں اپنے لوگوں یعنی اپنے ووٹرز کے ساتھ زمین پر بیٹھ جاتا ہوں۔ ان کے ساتھ دھکے بھی کھاتا رہتا ہوں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ان کے گھرانے سے وہ ممبر اسمبلی ہیں۔ دونوں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن میں کھڑے ہوئے تھے جبکہ منظور وٹو اور ان کی قابل احترام اور بہت لائق بیٹی آزاد ممبر اسمبلی منتخب ہوئی مگر وہ پیپلز پارٹی میں اس کے بعد شامل ہوئے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن نہیں لڑیں گے۔ جبکہ مخدوم صاحب کو لوگ ووٹ دیتے ہیں جیسے یہ ان کی امانت ہوں۔ مخدم صاحب داتا دربار میں حاضر ہوئے۔ اس کے علاوہ وہ گڑھی خدا بخش بھی جا رہے ہیں۔ گورنر پنجاب بن کے بھی وہ
 شہید بی بی کے پاس گئے تھے کہ ان کی قبر جیالوں کے لئے پیپلز پارٹی کی سب سے بڑی ضمانت ہے۔