نجم سیٹھی کی ”پاکستان سُپر مسُلِم لِیگ“

کالم نگار  |  اثر چوہان
نجم سیٹھی کی ”پاکستان سُپر مسُلِم لِیگ“

خبر ہے کہ ”سابق نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب اور سابق چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ کے جناب نجم سیٹھی نے ”Pakistan Super League “ کی نیلام کمیٹی کا چیئرمین بننے سے معذرت کرلی ہے۔”انہوں نے کہا کہ مَیں سُپر لیگ کے ٹھیکوں میں دِلچسپی نہیں رکھتا“۔ سیٹھی صاحب نے نہیں بتایا کہ ان کی ٹھیکا / ٹھیکے سے مراد ”ذمہ داری یا اجارہ داری “ ہے یا گانے کے ساتھ لمبے یا ڈھولک کو خاص طریقے سے بجانے والا۔ ”ٹھیکا؟“ اور ”پاکستان سُپر لیگ“ کِس قِسم کے ٹھیکے لگواتی یا بجواتی ہے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستان سُپر لیگ اپنے کِس قِسم کے اثاثوں کو نیلام کرانا چاہتی ہے کیونکہ جناب نجم سیٹھی کی آواز میں۔” نیلام گھروالے“۔ جناب طارق عزیز کی آواز سی گھن گرج نہیں۔ سیٹھی صاحب تو جو”آپس کی بات“ کرتے ہیں لیکن وہ غیروں تک پہنچ جاتی ہے ۔جنابِ اشرف دہلوی نے بہت پہلے خبردار کردِیا تھا کہ
”اشرف کرو نہ مشورہ¿ عِشق دِل سے بھی
آپس کی بات چِیت کا ¾ کیا ذِکر غیر سے؟“
اِس سے پہلے حکومت کی طرف سے اپنے قرضے اتارنے کے لئے پنجاب کے گورنر ہاﺅس کو نیلام کرنے کی خبریں بھی آرہی ہیں۔ علّامہ اقبالؒ نے تو صِرف”کشمیر“ کو موضوع بنا کر کہا تھا کہ”قومے فروختند وچہ ارزاں فروختند“۔ بولیاں بول کر کسی چٍیز کو بیچنے کو ”نیلام“کہتے ہیں۔ حضرتِ داغ دہلوی نے کہا تھا۔
”حُورانِ خُلد بولتی ہیں¾ بڑھ کے بولِیاں
نیلام ہو رہا ہے ¾ تمہارے شہید کا“
کیا پاکستان سُپر لیگ اپنا دِل نیلام کرنا چاہتی ہے؟۔ پاکستان کا ہر چھوٹا بڑا مسلم لیگ کے حوالے سے”لیگ“ (League) کے معنیٰ جانتا ہے اور مارکیٹ کے حوالے سے ”سُپر مارکیٹ “ کے بھی لیکن ”سُپرلیگ“ کا بھی پتہ چل ہی جائے گا لیکن اس کے اثاثوں کے نیلام کی نوبت (نقارہ) بجنے کی ضرورت کیوں ہے۔مَیں نے لِکھا تھا کہ نجم سیٹھی بے شک نگران ہی سہی لیکن جناب حنیف رامے کے بعد وہ جناب پنجاب کے دوسرے صاحبِ قلم ¾ دانشور اور پبلشر وزیرِ اعلیٰ پنجاب رہے ہیں۔ مئی 2013 ءکے عام انتخابات کے بعد عمران خان اور اُن کی پاکستان تحریکِ انصاف نے جنابِ نجم سیٹھی کو انتخابات کے”Puncturist “ (پنکچر لگانے والے) کے نام سے یاد کِیا
 سیٹھی صاحب سے میری بہت کم ملاقاتیں رہی ہیں لیکن مَیں انہیں پسند کرتا ہوں۔ وہ نگران وزیرِ اعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے”Puncturist “ نہیں بلکہ انہوں نے ایک ”Acupuncturist“ (چینی طریقے سے کھال یا رگوں میں سُوئیاں چبھو کر علاج کرنے والے ) ماہرڈاکٹر کی حیثیت سے اپنا فرض نبھایا ہے۔ جنابِ حنیف رامے وزیرِ اعلیٰ پنجاب تھے تو قومی اور پنجاب اسمبلیوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جاگیردار اور بڑے زمیندار وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو سے مطالبہ کِیا کرتے تھے کہ ”جنابِ والا! ”پنجاب میں ہمیں ”زمیندار وزیرِ اعلیٰ“ چاہیے“۔غریبوں کے حق میں ”انقلاب“ لانے کے علمبردار وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے وزیرِ اعلیٰ رامے سے استعفیٰ لے کر انہیں سینیٹ کا رُکن مُنتخب کرادِیا اور اُن کی جگہ ملتان کے نواب صادق حسین قریشی کو وزیرِاعلیٰ بنوادِیا۔ صادق قریشی جنہوں نے صدر ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک کے دوران جنابِ بھٹو اور اُن کے قافلہ¿ جمہوریت پر حملہ کرایا تھا۔ 5 جولائی 1977 ءسے لے کر آج تک پاکستان پیپلز پارٹی کو پنجاب میں اپنا وزیرِ اعلیٰ مُنتخب کرانا نصیب نہیں ہُوا۔
 جناب حنیف رامے نے جنابِ بھٹو کی پاکستان پیپلز پارٹی چھوڑ کر اپنی پارٹی ( پاکستان مساوات پارٹی) بنا لی تھی۔ اُنہیں ایک دوست نے مشورہ دِیا تھا کہ اگر آپ پارٹی بنانا ہی ہے تو اُس کا نام ”مسلم لیگ“ رکھ لیں“ رامے صاحب نے پوچھا کہ” وہ کیوں؟“تو دوست نے کہا کہ ” جب بھی مقتدر قوّتیں مسلم لیگ کے سارے دھڑوں کو ایک مسلم لیگ کی لڑی میں پرو دیں گی تو ممکن ہے وہ آپ کو ہی وزیرِ اعظم بنادیں“ ۔ رامے صاحب راضی نہیں ہُوئے پھر وہ جنابِ غلام مصطفی جتوئی کی چیئرمین شِپ میں بنائی جانے والی پاکستان نیشنل پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل بن گئے اور اُس کے بعد پِیر صاحب پگاڑا دوم مرحوم( سیّد علی مردان شاہ) کی صدارت میں منظم ہونے والی مسلم لیگ کے چیف آرگنائزر۔ بعد ازاں جناب حنیف رامے ¾ محترمہ بے نظیر بھٹو کی پیپلز پارٹی میں شامل ہو کر پنجاب اسمبلی کے سپیکر بھی مُنتخب ہُوئے۔ ایک دِن مَیں نے جناب حنیف رامے سے پُوچھا کہ آپ نے بار بار پارٹی کیوں بدلی؟ تو انہوں نے اپنے چہرے پر خوبصورت مُسکراہٹ بکھیرتے ہُوئے کہا کہ
”منم محوِ خیالِ اُو ¾ نمی دانم کُجا رفتم“
یعنی ” مجھے نہیں معلوم کہ مَیں اُس (اپنے محبوب) کے خیال میں¾ کہاں جارہا ہُوں؟“۔ ”مُسکراہٹ تو ہر وقت جناب نجم سیٹھی کے چہرے پر بھی کھلتی رہتی ہے لیکن سیاست میں کامیابی کے لئے محض مُسکراہٹ کافی نہیں ہوتی۔ ساحر لدھیانوی نے اپنی محبوبہ کی مُسکراہٹ پر شک اور پھر تذبذب کا اظہارکرتے ہُوئے کہا تھا
”مَیں جسے پیار کا انداز¾ سمجھ بیٹھا ہُوں!
یہ تبسّم ¾ یہ تکلّم ¾ تری عادت ہی نہ ہو؟“
پاکستان کی سیاست پر ابھی تک جاگیرداروں اور بڑے زمینداروں کا قبضہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی دَور میں بھی زرعی آمدن پر اِس لئے ٹیکس وصول نہیں کِیا جا سکا کہ انتہائی چالاکی سے¾ زرعی آمدن پر ٹیکس کو صوبائی مسئلہ قرار دے دِیا گیا ہے۔ جب بھی کسی صوبائی اسمبلی میں زرعی آمدن پر پُورا ٹیکس وصول کرنے کا مطالبہ کِیا جاتا ہے تو اپنا اپنا ”سیاسی مسلک“ چھوڑ کر سارے زمیندار
”مَیں تے ماہی اِنج مِل گئے ¾ جیویں ٹِچ بٹناں دی جوڑی“
 کی پوزیشن اختیار کر کے اپنے ”حق کے لئے“ خُوب لڑتے ہیں۔اگر کوئی صنعتکار اور تاجر ارب پتی بھی ہو تو جاگیر دار / زمیندار ¾ حکمران اور سیاستدان اُسے ”کمّی“ سے زیادہ درجہ نہیں دیتے۔ قلم کار اور دانشورتو کسی کھاتے میں ہی نہیں ہیں۔صدرفیلڈ مارشل محمد ایوب خان کے دور میں ”سہگل ٹیکسٹائل ملز “ کے میاں رفیق سہگل کنونشن مسلم لیگ میں تھے۔ انہوں نے قومی اسمبلی کی نشست کے لئے ٹکٹ کی درخواست دی تو (اُس وقت ) گورنر مغربی پاکستان ملک امیر محمد خان نے اپنے درباریوں سے کہا کہ ”او ہ یار !ہُن لائل پور دے جولاہے رفیق سہگل نوں وی ٹکٹ دینا پَوے گا؟“۔
پاکستان میں جاگیرداری کے خاتمے کی راہ میں دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ ”فیڈرل شریعت کورٹ“ اور ”اسلامی نظریاتی کونسل“ فیڈرل شریعت کورٹ تو فیصلہ دے چکی ہے کہ ”جاگیرداری“۔ اسلام میں جائز ہے“۔ اب صدر ایوب خان کے نظریہ¿ ضرورت کی پیداوار اسلامی نظریاتی کونسل “ کو کیا ضرورت؟ کہ وہ انگریزوں اور سِکھوں سے حاصل کردہ جاگیروں کی آمدن کے بارے میں حلال یا حرام کا فتویٰ دینے میں وقت ضائع کرے؟۔ اُس کے لئے تو نکاح ¾ طلاق اور دوسری ¾ تیسری اور چوتھی شادی کے مسائل ہی سب سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ مَیں حیران ہُوں کہ جن ”رجسٹرڈ نکاح خوانوں“ نے بعض جاگیرداروں / زمینداروں کی بہنوں اور بیٹیوں کے نکاح قُرآن پاک کے ساتھ پڑھائے ہیں ¾ اُن کو ہماری ”اسلامی نظریاتی کونسل“ کی طرف ”اصحابِ ثوابِ دارین“ کے سرٹیفکیٹس کیوں نہیں دیئے گئے؟اور اُن کے سَروں پر”دستار ہائے فضیلت“ کیوں نہیں باندھی گئیں؟۔
حنیف رامے (مرحوم) ہوں یا نجم سیٹھی یا کوئی اور قلم کار اور دانشور؟ اُس کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اپنی پارٹی ”مسلم لیگ“ کے نام سے بنائے اور اُس وقت کا انتظار کرے کہ جب کوئی نیا آنے والا” قوم کے وسیع تر مفاد میں“ فیلڈ مارشل ایوب خان ¾ جنرل ضیاءاُلحق اور جنرل پرویز مشرف کی باقیات (مسلم لیگوں) کو مسلم لیگیوں کے کئی ” قوالب اور یک جان“ کردے کہ فوجی آمروں کے لئے قائدِ اعظمؒ کی دو ہی یاد گاریں پسندیدہ رہی ہیں۔ ایک مسلم لیگ اور دوسری سٹیٹ بنک آف پاکستان کا جاری کردہ ہر کرنسی نوٹ ¾ جِس پر قائدِ اعظمؒ کی تصویر چھپی ہوتی ہے۔ میرا جناب نجم سیٹھی کو ”مُفت مشورہ“ یہ ہے کہ وہ کرکٹ ¾ اُس کی ”پاکستان سُپر لیگ“ اور کھیل کھلاڑیوں کے چکروں سے باہر نکلیں اور ”Pakistan Super Muslim League “ بنا کر خُود کو اس کے چیئرمین / صدر منتخب کرلیں۔ مَیں خُود اپنے لاکھوں ساتھیوں سمیت اِس لیگ میں شامل ہو جاﺅں گا۔ کم از کم نگران وزیرِ اعظم بننے کی صلاحیت تو موجود ہے ۔ علّامہ طاہراُلقادری نے اپنے” اِنقلاب“ کے بعد 10 لاکھ لوگوں کو اقتدار میں شامل کرنے کا وعدہ کِیا تھا۔وزیرِاعظم بننے کے بعد اگر آپ میرے 5 لاکھ ساتھیوں کو اقتدار میں شامل کرلیں تو ”مَیں راضی تے میرا رَب راضی“۔