فوجی عدالتوں کے اصل مجرم

فوجی عدالتوں کے اصل مجرم

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس خیال کی بے حد پذیرائی ہو گی۔ یہ نوائے وقت کی مقبولیت کا بھی ایک بین ثبوت ہے کہ امریکہ کے قارئین سونے سے پیشیتر اخبار پڑھتے ہیںاور اس پر اپنی رائے بھی دیتے ہیں۔فیس بک پرہیوسٹن سے خواجہ خورشید انور نے لکھا ہے کہ میں نے آپ کو چار روز پیشتر کہا تھا کہ نیب کے تمام مقدمات اٹھا کر فوجی عدالتوں کے حوالے کر دیئے جائیں مگر آپ نے میری بات کو وزن نہیں دیا اور ننکانہ شریف کے سعید پڈھیارکی تجویز پر طویل مضمون باندھ دیا۔پشاور سے اسلم مروت کا تبصرہ تو نوائے وقت کی ویب سائٹ پر موجود ہے کہ انشااللہ مالیاتی دہشت گرد بھی فوجی عدالتوں کے شکنجے میں آئیں گے ۔حماد محی الدین نے تو شاید طنز کیا ہے کہ پٹرول کی دہشت گردی کے لئے فوجی پٹرول پمپ ضروری ہیں۔دل بہلاوے کے لئے بہت کچھ کہا جا سکتا ہے مگر جو لوگ ملک کے لئے سنجیدہ ہیں اور فکر مند بھی، انہوںنے فون پر بھی میرے خیالات کی تائید کی ہے، اکثر کا کہنا ہے کہ طالبانی دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ مالیاتی دہشت گردوں کو بھی فوجی عدالتوں سے سمری ٹرائل کے بعد سزائیں ملنی چاہیئں اور کڑی سزائیں ملنی چاہیئں ، یہ لوگ کسی رو رعائت کے مستحق نہیں۔ یہ عام آدمی کے منہ سے نوالہ چھین لیتے ہیں،اس کے جسم سے کپڑے بھی نوچ لینا چاہتے ہیں، نعرہ تو ان کا خوشنماہے کہ روٹی ، کپڑا اور مکان ، مگر عملی طور پر اس نعرے پر کسی نے عمل نہیںکیا اور کیا بھی تو بالکل الٹ ، سندھ میں یہ نعرہ لگانے والی پارٹی کا چیف منسٹر اس قدر بے حسی کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ تھر میںروز بچے مرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ سب میڈیا کا شور ہے، ورنہ بچے تو ہمیشہ سے مرتے چلے آئے ہیں ، ان کی انتظامیہ ان سے بھی دو ہاتھ آگے ہے ، ایک سال قبل پاکستانی عوام نے پیٹ کاٹ کر تھر کے مصیبت زدگان کے لئے امداد بھجوائی ، اس میں سے قیمتی اشیا تو بازار میں بک گئیں اور پانی کی بوتلیں اسٹوروں میں پڑی پڑی سڑ گئیں۔اس پارٹی نے لوٹ کھسوٹ کا آغاز پتن اور تھا کوٹ کے زلزلے سے کیا تھا، میں جنوری کے منجمد موسم میں وہاں پہنچا تو لوگوں کی ایک ہی شکائت تھی کہ بیرونی دنیا نے جتنے گرم کمبل بھیجے ہیں، وہ سب دکانوں کی زینت بن گئے ہیں۔پیپلز پارٹی کے حالیہ دور میں اگرچہ عدلیہ بہت سرگرم تھی اور رشوت ستانی کے ملزموں کو روز عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جاتا تھا مگر اسلام آباد کی اندرونی خبر رکھنے والوں کا کہنا تھا کہ کوئی وزیر جب تک روزانہ دو اڑھائی کروڑ ڈالر کی دیہاڑی نہ لگا لے اور اسے ہنڈی کے ذریعے دوبئی منتقل نہ کر لے، اسے رات کی نیند نہیں آتی۔میںنے یہاں پہلے بھی لکھا تھا کہ نوائے وقت کے ایک سابق کالم نگار توفیق بٹ نے اس حقیقت سے پردہ اٹھایا تھا کہ زرداری کے دست راست ڈاکٹر قیوم سومرو نوٹو ں کے لفافے لے کر ان کے پاس پہنچے، میں خود اس امر کا شاہدہوں کہ وہ لاہور کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل مٰیں قسط وار ضیافتٰیں سجاتے تھے، کسی میں رپورٹر، کسی میں کالم نگار، کسی میں اینکر ، حتی کہ فوٹوگرافر تک پیٹ پوجا کے لئے مدعو کئے جاتے ، یہ باتیں عام ہیں کہ آئی بی سے دو ارب روپیہ میڈیا کے نام پر نکلوایا گیا، شاید اس میں سے کچھ تقسیم ہوا ہو، باقی کا حساب ڈاکٹر سومرو سے لینا چاہئے، اب تو وہ سینٹ میں بیٹھ کر پئوتر ہو گئے ہیں اورذرا سی تنقید سے ان کا استحقاق مجروح ہو سکتا ہے، خد اکرے کہ وہ سینیٹ کے اگلے الیکشن میں ٹکٹ حاصل نہ کر سکیںتو پھر میڈیا ان کا ٹھیک ٹھیک احتساب کرے گا یا پھرکوئی فوجی عدالت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے گی، ویسے ان کے قریبی حلقوں کا دعوی ہے کہ وہ ٹکٹ لیں گے اور ڈپٹی چیئرمین بنیں گے، یہ عہدہ پیپلز پارٹی کے لئے ریزرو کر دیا گیا ہے۔
دھرنے کے دنوںمیں یہ افواہ عام تھی یا پھر یار لوگوں کی خواہش تھی کہ اگلے دو برس کے لئے خصوصی انتظام آئے گا، ٹکٹکیاں لگیں گی، پھانسیوں کا سلسلہ شروع ہو گا اور کوئی بیس ہزار لوگ اس احتساب کی زد میں آئیں گے، اس وقت ذرا اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہو گا تو کس طرح ، کیونکہ سول قانون کے تحت اور موجودہ سیاستدانوں کے ہوتے ہوئے تو احتساب ایک نعرہ ہی بنا رہے گا، آپ ذرا میثاق جمہوریت اٹھا کر پڑھیں ، اس میں پاکستان کی دونوں بڑی پارٹیوں کے درمیان یہ مک مکا ہو گیا ہے کہ وہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف نہ محاذ آرائی کریں گی ، نہ مقدمے قائم کریں گی۔لوگوں نے اس مک مکا پر عمل ہوتے دیکھ لیا، زرداری کے پانچ برسوں میں حکمران پارٹی نے ن لیگ کو چھیڑا تک نہیں ، شہباز میاںنے محض شوقیہ طور پر نعرہ لگایا کہ وہ زرداریء کو سڑکوں پر گھسیٹیں گے اور چوک میں پھانسی دیں گے مگر دو سال ہونے کو آئے، ن لیگ نے اپنی حریف پارٹی سے کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کی، حتی کہ یہ تک نہیں پوچھا کہ کراچی میں روزانہ ٹارگٹ کلنگ کیوں ہوتی ہے،اور تھر میں بچے کیوں مرتے ہیں۔ن لیگ نے بڑے دل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک انصاف کے خلاف بھی کوئی ایکشن نہیں لیا، عمران نے کئی ماہ تک دھرنا دیا مگر اس پر دفعہ ایک سو چوالیس کا بھی کوئی مقدمہ شاید ہی بنا ہو، تحریک انصاف کے دور میں ایک جیل ٹوٹی ، خطر ناک قیدی بھاگ گئے مگر وفاقی وزیر داخلہ یاصوبائی گورنر نے پشاور کی حکومت کو ایک انتباہی چٹھی بھی نہیں لکھی، اب پشاور کے ایک اسکول میں ڈیڑھ سو کے قریب بچے شہید ہو گئے، صوبائی حکومت کو وارننگ بھی مل چکی تھی مگر حضرت پرویز خٹک کی کسی نے گوشمالی کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھی، عام آدمی اس طرز عمل سے یہی نتیجہ ا خذ کرتا ہے کہ سیاستدانوں کا آپس میں ایکا ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ امریکہ سے ایک وزیر اعظم معین قریشی نازل ہوئے۔ انہوں نے کڑے احتساب کا نعرہ لگایا، مگر وہ جلد ہی چوکڑی بھول گئے، اب یہ بات تو کسی کو یاد بھی نہیں رہی ہو گی کہ جنرل ضیاالحق کے انتخابات ملتوی کرنے کے لئیے یہ نعرہ سیاستدانوں ہی نے لگایا تھا کہ پہلے احتساب ، پھر انتخاب۔ درویش منش ملک معراج خالد نگران وزیر اعلی بنے تو ان کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ، احتساب اور صرف احتساب۔ مگرلوگوں نے یہ بھی دیکھا کہ جن لوگوں کا سب سے پہلے احتساب ہونا چاہیئے تھا، وہی ملک صاحب کے ارد گرد منڈلاتے رہتے تھے۔اور جنرل مشرف کا مارشل لاا ٓیا تو انہیں بھی احتساب ہی کا شوق چرایاتھا، ان کے وزیر داخلہ جنرل معین الدین حیدر ہر وقت یہی گردان کرتے تھے کہ مگر مچھوں کو نہیں چھوڑیں گے، مگر ہو اکیا، نیشنل بنک نے دس ہزار کے زرعی قرضداروں کو کچہریوں میں بند کر دیا اور سمال بزنس فنانس کارپوریشن نے بھی چند ہزار کے ڈیفالٹروں کو حوالاتوں میں ڈال دیا، ان میں فریش ایم بی اے نوجوان تھے، اعلی سرکاری ملاز م بھی جنہوں نے ضمانتیں دے رکھی تھیں۔پیلی ٹیکسی والے کسی کے قابو نہ آئے کیونکہ ان کے شناختی کارڈ ہی جعلی تھے۔
خدا کرے اب احتساب ہو ، کڑا احتساب ہو، بے لاگ احتساب ہو،طالبانی دہشت گرد پھانسی پائیں تو مالیاتی دہشت گرد بھی کٹہرے میں کھڑے کئے جائیں۔آج ملک غیر معمولی صورت حال میں ہے، بجلی ہے ، نہ گیس، پٹرول بھی نایاب جنس بن گیا۔ہسپتالوںمیں علاج نہیں، تھانے کچہری میں شنوائی نہیں، اگر چند افراد پر خود کش دھماکے کرنے والوں کو فوجی عدالتوںمیں جانا ہے تو پھر بیس کروڑ عوام کا ہر لمحے، ہر جگہ خون چوسنے والوں کو بھی فوری انصاف کے عمل سے گزارا جائے، گر یہ نہیں تو بابا! باقی کہانیاں ہیں۔کیا چین میں انصاف نہیں، ترکی میں انصاف نہیں ، برطانیہ میں انصاف نہیں، امریکہ میں انصاف نہیں، سعودی عرب میں انصاف نہیں۔سب جگہ ہے تو پاکستان میںکیوںنہیں۔بیرونی بنکوں میں پڑا پیسہ اور لاکروںمیں پڑا زیور پاکستان کے خزانے میں واپس آنا چاہئے۔