شرط ہے خلوص کی

صحافی  |  رفیق ڈوگر

جب بھی کوئی بندہ ہوس کا بندہ بشر بن جائے اپنی ذات اور ذاتی مفاد کو اصول بنائے اور بتانے میں جت جائے تو اس کی نیت معاملہ سلجھانے کی نہیں لٹکانے کی ہی ہوتی ہے اور جہاں معاملہ ایک ملک ایک ریاست کا ہو اور کوئی بندہ بشر اسے سلجھانے کی بجائے الجھانے کے لئے اپنی اور اپنے جتھے والوں کی جان اور آن مار رہا ہو تو اس کے خلوص پر جتھہ بندیوں سے باہر والوں کے لئے یقین کرنا بہت ہی دشوار ہو جاتا ہے۔ ہم سولہ کروڑ اہل پاکستان کے حکمران سیاستدان قائدین کرام ان دنوں سترھویں ترمیم کے خاتمہ آئینی بالادستی صوبائی خود مختاری جیسے بنیادی اہمیت کے معاملہ کے بارے میں شدید قسم کی قومی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس مسئلے کو سلجھانے کی بجائے نئے نئے اور غیرمتعلقہ نقطے اٹھا کر اپنی ہوس کی ڈوری میں نئے نئے اصول پرونے کو ہی ملک اور قوم کی خدمت عالیہ بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ افراد آتے جاتے رہنے والے ہیں ملک اور قومیں اور ان کو بنانے اور چلانے کے لئے اصول و قواعد ہمیشہ کے لئے ہوتے ہیں اور ہم جو مسلمان ہونے کے دعویدار ہیں ہمارے پاس اس بارے میں رہنمائی کا جتنا روشن اور راہ ہدایت پر قائم رکھنے والا سرمایہ ہے کسی بھی اور قوم اور مذہب والوں کے پاس نہیں۔ ریاست میں شامل انتظامی اکائیوں یا صوبوں کی آزادی کی حدود کیا ہیں؟ ملکی اور ملی مفادات کے تحفظ کے لئے مرکز یا وفاق کی طرف سے ان پر پابندیاں یا قیود عمل کیا ہیں؟ اس بارے میں اللہ کے رسولﷺ کے اپنے بنائے اور ریاست مدینہ کی مختلف انتظامی اکائیوں کو دیے حقوق اور آزادیاں ہر وقت اور ہر زمانے میں تنازعات کا تدارک کرنے کو کافی ہیں۔ تفصیل طویل ہے لیکن نیت اور خلوص ہوں تو اتنی بھی طویل نہیں جتنا طویل اہل ہوس نے اس مسئلہ کو بنا دیا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے صحرائوں‘ ویرانوں‘ شہروں اور خلیج فارس سے ملحق علاقوں اور یمن کی مقامی ریاستوں کو اس سے پہلے کبھی بھی کوئی ایک نظم ریاست کے تحت نہیں لا سکا تھا۔ ایرانیوں اور یونانیوں نے بار بار کی ناکامیوں کے بعد ان لوگوں سے قسم قسم کے سمجھوتے اور کمپرومائز کر رکھے تھے اور اللہ کے رسولﷺ نے ان سب علاقوں اور ان کے باسیوں کو نہایت مختصر عرصہ میں ایک ہی مقصد کے لئے زندہ رہنے والی قوم مسلم میں تبدیل کر دیا تھا۔ کیسے؟ آپؐ کے پالیسی اصول کیا تھے؟ وہ الگ موضوع ہے۔ ان سب علاقوں کو ایک ہی ریاست کے نظم کے تحت لانے کے بعد اللہ کے رسولؐ نے جو انتظامی اکائیاں قائم فرمائی تھیں ان کی آزادی کے حدود اس طرح ہیں۔ وفاق یا مرکز کے پاس پانچ شعبے تھے (1)تعلیم (2)محصولات (3)دفاع (4)امور خارجہ (5)عدل و انصاف باقی سب امور انتظامی اکائیاں انجام دیا کر تی تھیں اور گورنر یا عامل صرف نگران ہوتے تھے کہ کوئی انتظامی اکائی ریاست مدینہ کی پالیسیوں پر عمل کرانے میں ناکام تو نہیں جا رہی۔ امن و امان کا قیام مقامی یا صوبائی حکومت کی ذمہ داری تھی لیکن اگر کسی طرف سے کوئی بیرونی خطرہ ہوتا تو اس کا مقابلہ اکثر صورتوں میں عاملوں یا گورنروں کی ذمہ داری ہوتی تھی اور مقامی لوگ اس میں مدد اور تعاون اور احکام کی تعمیل کے پابند ہوتے تھے۔ مدینہ یا مرکز سے مدد اس وقت بھیجی جاتی تھی جب گورنر یا عامل مقامی قوت سے حالات درست نہ کر سکے۔ تعلیم کا شعبہ بھی گورنر کی نگرانی میں ہوتا تھا۔ نصاب تعلیم اور مقاصد تعلیم کا مقصد سب اہل ایمان کو امت واحد کا جسم و جان بنانا تھا۔ کوئی اکائی اس کے خلاف کوئی کام نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی کسی قبائلی یا علاقائی تعصب کو فروغ دے سکتی تھی۔ ایسا تعصب گناہ قرار دے دیا گیا تھا۔ محصول کیا وصول کرنا ہے‘ کس جنس اور مال پر کتنا اور کس شرح سے وصول کیا جانا ہے اور کونسی آمدنی کن شعبوں پر خرچ کی جائے گی یہ تو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مقرر فرما دیا اس پر عمل ریاست مدینہ اور گورنر یا عامل کراتے تھے اور مقامی ضروریات سے جو بچ جائے وہ مدینہ بھیج دیا جاتا تھا۔ مقامی پیداوار مقامی اکائیوں کی ضرورت سے زائد ہو تو وہ دوسرے حصوں کو بھیج اور بیچ دی جاتی تھی۔ امور خارجہ کے بنیادی اصول وہی تھے جو دستور مدینہ میں اللہ کے رسولؐ نے ریاست مدینہ کے قیام کے ساتھ ہی نافذ فرما دئیے تھے۔ عدل و انصاف کی نگرانی عاملوں کے ذمہ تھی۔ وہ قاضیوں کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں بھی سنتے تھے اور جن مقدمات کا فیصلہ پھر بھی تسلیم نہ کیا جائے وہ اپیل اللہ کے رسولؐ کے پاس مدینہ بھیج دی جاتی تھی۔ کاروبار‘ کھیتی باڑی‘ تجارت‘ انتظام‘ امن و امان اور مقامی حکمرانی کے اندرونی امور میں سب اکائیاں اور قبائل آزاد تھے اور ہر عمل کی بنیاد توحید کی ایمانی روحانی اور اخلاقی قدریں تھیں۔ اللہ کے رسولؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ اور حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو عامل مقرر کیا تو ہدایت فرمائی ’’نرمی سے کام لینا‘ سختی نہ کرنا لوگوں کو خوش رکھنے کی کوشش کرنا انہیں ناراض نہ کرنا اور ایک دوسرے سے تعاون کرنا۔‘‘ حضرت عمرو بن حزمؓ کو نجران کا عامل مقرر کرتے وقت آپؐ نے جو طویل فرمان لکھوایا تھا اس میں یہ بھی تھا ’’ظلم اور سختی نہ کرنا۔ اخلاق اور نرمی سے سمجھائیں قبائلی تعصب کو سختی سے دبا کر لوگوں کو توحید کی بنیاد پر ایک جماعت بنائیں۔‘‘ اس نظم کے چلانے والوں کے انتخاب کے اور دیگر پالیسیوں‘ دفاعی خارجی پالیسیوں عدل و انصاف‘ تعلیم مشاورت اقلیتوں کے حقوق کی تفصیل طویل ہے جو ہم نے الامینﷺ کی چوتھی جلد میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ماضی‘ حال اور حالات و واقعات کو دیکھا جائے تو آپؐ نے اس وقت جو نظم ریاست قائم فرمایا تھا وہ Unity in Diversity کا لاثانی نمونہ ہے جس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی اور اگر ہم افراد گروہوں اور خاندانوں کے مفادات سے بلند ہو کر اپنے ملک اور قوم کو درپیش ایسے بنیادی مسائل سے نجات حاصل کرنے کیلئے اللہ کے رسولﷺ سے رہنمائی حاصل کرنے کا عزم کر لیں تو ہمیں کسی دانش سرکاری و درباری کی کسی بھی قسم کی محتاجی کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ ہمارے لئے اللہ اور اس کا رسولؐ ہی کافی ہیں۔ شرط ہے خلوص کی۔