ابراہام لنکن‘ کینیڈی اور اوباما

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

معروف کالم نگار طیبہ ضیاء دو دن پہلے امریکہ سے پاکستان آئیں میں نے ان سے کہا کہ آپ صدر اوباما کی تقریب حلف برداری دیکھ کر آتیں۔ مگر یہ تقریب پوری دنیا میں دیکھی جائے گی تو طیبہ بی بی نے کہا کہ اگر لوڈشیڈنگ نہ ہوئی تو یہاں دیکھ لیں گے لوگوں نے تو یہ توقع بھی صدر اوباما سے رکھی ہوئی ہے کہ وہ پاکستان سے لوڈشیڈنگ ختم کرائے گا۔ دنیا میں تبدیلی کی امید کی بات ہوئی تو طیبہ ضیاء نے کہا کہ کیا یہ تبدیلی کم ہے کہ ایک کالا صدر وائٹ ہائوس میں داخل ہو گا۔ مزا تو یہ ہے کہ اب وائٹ کی من مانی ختم ہو اور رائٹ کی حکمرانی کا آغاز ہو۔ اگر تبدیلی نہیں ہونا تو ایک کالے کو صدر بنانے کی کیا ضرورت تھی۔
پاکستانی تو صدر اوباما سے وہی امیدیں باندھ رہے ہیں جو وہ اپنے ہر نئے صدر سے باندھ لیتے ہیں۔ مگر دکھوں کی یہ گٹھڑی بہت جلدی کھل جاتی ہے اور سب کچھ راستوں میں بکھر جاتا ہے۔ صدر اوباما کی تقریر میں نہ لکنت آئی نہ کہیں جھول تھا نہ کہیں وہ اٹکا نہ اس کی آواز کہیں لٹکی۔ یہ کیا لوگ ہیں انتخاب لڑتے ہیں اس سے پہلے خواب دیکھتے ہیں اور انقلاب کے لئے بھی سوچتے ہیں۔ اوباما نے اپنے آئیڈیل مارٹن لوتھر کنگ کو یاد کیا۔ اسی نے قتل ہونے سے پہلے خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر صدر اوباما ہے۔ صدر اوباما کی تقریر سے لگتا تھا کہ اس نے سبق یاد کیا ہوا ہے۔
بش سے بڑا احمق کون ہو گا جو ظالمانہ طاقت کے ذریعے دنیا اور دنیا والوں کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ عراق کو خاک و خون کی دلدل بنا دینے والا بش اپنے آخری لمحوں میں جوتوں کا نشانہ بنا۔ دنیا خوش ہوئی امریکی بھی خوش ہوئے پھر اوباما نے کیوں کہا کہ بش نے امریکہ اور دنیا کی خدمت کی۔ یہ اوباما کا پہلا جھوٹ ہے۔ جب امریکیوں نے ابامہ کو صدر منتخب کیا تو میرا غصہ غم میں تبدیل ہو گیا۔ غم طاقت ہے رومانس ہے اور رشتہ ہے۔ صدر اوباما تبدیلی کے پیغام کی طرح ہے تو امریکی تبدیلی کے آرزو کی طرح ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اب بھی امریکہ تباہ نہیں ہو گا مگر تباہی کی گواہی ابھی اس عدالت میں نہیں پہنچی۔ جہاں سے فیصلہ آنے والا ہے۔
کہتے ہیں کہ اوباما کو قتل کر دیا جائے گا اس کے بعد کوئی بھی امریکہ کو بچا نہ سکے گا۔ اوباما کو کالوں نے ووٹ دئیے گوروں نے زیادہ ووٹ دئیے۔ بوڑھوں نے مگر جوانوں نے زیادہ ووٹ دئیے وہاں یہودی لابی مضطرب ہے۔ 20 جنوری سے ایک دن پہلے یہودیوں نے فلسطین کے خلاف جنگ بندی کی ہے۔ انہیں کچھ تو خطرہ صدر اوباما سے ہے جبکہ اپنی تقریر میں صدر ابامہ نے فلسطین کا ذکر نہیں کیا۔ بھارت بھی اپنی مصنوعی جارحیت سے دستبردار ہو چکا ہے صدر اوباما نے اس کا ذکر بھی نہیں کیا ہے۔ اس نے صرف افغانستان کا ذکر کیا ہے۔ اس کے پیچھے مضمرات کیا ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ افغانستان دنیا میں امریکہ کے لئے اہم ترین ملک ہے۔ مجھے اس سے غرض نہیں ہے میں افغانوں کو علامہ اقبالؒ کی بات سنانا چاہتا ہوں۔ ع
او غافل افغان اپنی خودی پہچان
اس سے پہلے دو امریکی صدر خود امریکی قتل کر چکے ہیں اور اس میں یہودی پوری طرح شریک ہیں۔ صدر کینیڈی امریکہ کا خوبصورت انقلابی اور محبوب صدر تھا اور ابراہام لنکن جس نے امریکہ کو یونائیٹڈ سٹیٹس بنایا۔ اس کی یاد میں مجسمہ آزادی موجود ہے۔ اب امریکہ کا قومی نشان مجسمہ آزادی نہیں گوانتانامو بے جیل ہے۔ صدر اوباما کو اس جیل کا دورہ کرنا چاہئے اور غور کرنا چاہئے کہ یہاں سارے قیدی مسلمان کیوں ہیں۔ اوباما نے اپنے جس نام کے ساتھ حلف لیا ہے اس کی معنویت اور تاریخی اہمیت کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔ صدر بارک حسین ابامہ۔ امریکہ نے عالم اسلام میں کربلائیں بچھا دیں مگر وہاں حسینی کردار ادا کرنے والے ہیں۔ اس نے تو اپنی پہلی ولولہ انگیز تقریر میں فلسطینی کربلا کے ظالم یہودیوں کی مذمت کی جرات بھی نہیں کی۔
ایک بات مجھے صدر اوباما کی اچھی لگی کہ اس نے اپنی حریف ہیلری کلنٹن کو اپنی سیکرٹری آف سٹیٹ (وزیر خارجہ) بنا لیا ہے۔ ہمارے لیڈر اپنے جتنا بندہ اپنی پارٹی میں رہنے ہی نہیں دیتے۔ ہیلری کلنٹن نے صدارتی امیدوار کا انتخاب ہار کر اوباما کی مدد کی۔ اس نے اپنے شوہر صدر کلنٹن کو مشکل سے بچایا تھا ہمارے ہاں پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر کو وہ آدمی سپورٹ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتا جس کو ٹکٹ نہیں ملتا۔
بارک حسین ابامہ گوجرانوالہ پاکستان ضرور آئے۔ سیرت رسولؐ اور حیات حسینؓ کا مطالعہ ضرور کرے۔ آخری خطبہ تو اس نے پڑھا ہو گا۔ کسی گورے کو کالے پر اور امیر کو غریب پر فوقیت نہیں مگر تقوے کی وجہ سے‘‘ میرا خیال ہے کہ ہمیں تقوے کا پتہ نہیں۔ امریکیوں کو پتہ ہے۔ صدر اوباما نے بش کے وزیر دفاع کو اپنا وزیر دفاع بنا لیا ہے تو کسی کو اعتراض نہیں نہ بش کی پالیسیوں کے تسلسل کا واویلا ہوا ہے اور وہاں جتنی آسانی اور شادمانی کے ساتھ انتقال اقتدار ہوا ہے اس میں کئی نشانیاں ہمارے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے لئے ہیں۔ صدر اوباما نے بارک حسین اوباما کے نام سے حلف لیا ہے اور کسی نے الزام نہیں دیا کہ یہ تو مسلمان ہے۔ مسلمان ہونے کے الزام کا مطلب دہشت گرد ہوتا ہے۔ کالا۔ مسلمان اور دہشت گرد۔