رمضان المبارک کے لئے ایک مبارک پیکج…؟

کالم نگار  |  بشری رحمن

اہل وطن کو برکتوں اور رحمتوں والا مہینہ مبارک ہو!
ہمارے بچپن میں لوگ رمضان کا چاند دیکھتے ہی ماہ صیام کی مبارک دینا شروع کر دیتے تھے۔ روزوں کی بھی اور سحر و افطار کی بھی مبارک دیتے تھے۔ گویا ماہ صیام کا ہر لمحہ اور ہر گھڑی مبارک ہوتی ہے۔ رحمت ہوتی ہے اور برکت ہوتی ہے۔
مگر پاکستان کے صوبہ سرحد میں پہنچتے ہی رمضان کا چاند متنازع ہو جاتا ہے۔ حالانکہ چاند کا تعلق کسی بھی سیاسی دھڑے سے نہیں ہوتا۔ مگر نہ جانے اسے کیا سوجھتی ہے۔ ہمارے دلارے صوبے میں ایک رات پہلے ایک دو جھلکیاں دکھا دیتا ہے… اور باقی سارا پاکستان پہلی جھلکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ یوں یہ روایت عرصہ سے قائم ہے کہ پاکستان میں دو چاند نظر آئیں گے اور دو عیدیں ہونگی۔ اب تو خیر سے بکرا عیدیں اور شب براتیں بھی دو دو ہونے لگی ہیں۔ کیا یہ ممکن نہ ہو گا کہ رویت ہلال کمیٹی میں چاروں صوبوں کے علماء کو نمائندگی دی جائے۔ بطور خاص صوبہ سرحد کے تمام علماء کو رمضان المبارک اور عید کا چاند دیکھنے کے لئے باقاعدہ دعوت دی جائے۔ پھر ساری کمیٹی ان کے ہمراہ خیبر سے لیکر کراچی تک چاند ڈھونڈتی پھرے… کبھی تو وہ رات آئے جب تمام پاکستان کو ایک ہی رات چاند نظر آئے۔ سب اپنا اپنا چاند نہ دیکھیں۔ کبھی تو اہل وطن کی یہ مراد بر آئے…
چلیئے چاند تو متنازع ہوا‘ دو عیدوں کے لئے بھی تیاری کر چھوڑیئے… جنہوں نے پیشگی روزہ رکھ لیا‘ ان کو بھی مبارک۔
واویلا مچا ہوا ہے مہنگائی کا… دہائی اٹھ رہی ہے لوڈشیڈنگ کی… حکومت کا ارادہ کیا ہے اور پیکج کیا ہے۔ ہم تو نہیں جانتے‘ مگر ہم عوام کی سہولت کے لئے ایک رمضان پیکج کی تفصیل شائع کر رہے ہیں۔ اس پیکج سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے بلکہ صلائے عام ہے۔
پکوڑا+ سموسہ پیکج:۔ ماہ رمضان میں عام طور پر عوام الناس اور خواص الناس پکوڑے‘ سموسے یا فروٹ چاٹ سے روزہ کھولتے ہیں۔ بازاوں کے تھڑوں پر اور گلیوں میں کڑاھیاں چڑھی نظر آتی ہیں اور مجھے‘ مجھے کا رش بھی۔ اس لئے ان دکانداروں سے گزارش ہے کہ بیسن میں کسی اور چیز کی ملاوٹ کر لیں۔ کچھ اور نہ ملے تو سیمنٹ ہی کی ملاوٹ کر لیں۔ سرخ مرچوں میں سرخ کنکریاں پیس کر ملا لیں‘ گھی کی جگہ موبل آئل یا کسی مشین کا تیل ملا لیں۔ سموسے کے اندر گلی ہوئی سبزیاں اور آلو ڈال دیں۔ قیمتیں دگنی کر دیں۔ سب کچھ بک جائے گا۔
آٹا پیکج:۔ کہہ تو دیا ہے حکومت نے کہ پنجاب میں خاص طور پر آٹا دو سو روپے فی توڑا بکے گا۔ مگر کہاں کس مقام پر یہ نہیں بتایا۔ اگر یہ مقامات آہ و فغاں آپ کو مل بھی گئے تو ضرورت مندوں کی ہاہا کار کون سنے گا۔ پولیس کے ڈنڈے کون کھائے گا۔ سفید پوش شدید گرمی میں کتنی دیر تک اس قطار میں لگے رہیں گے اور اگر آٹا مل بھی گیا تو گھر جا کر پتہ لگے گا۔ یہ آٹا ہرگز نہیں ہے۔ یہ تو چارہ بنانے والے سارے اجناس پیسے گئے ہیں۔ اگر روٹی توے پر ڈالتے ہی کالی ہو جائے تو سمجھنا کہ کالے تولے کی کالی کرتوتوں کا اثر ہے۔ اس روٹی کو کھا لینا۔ بڑا ثواب ہو گا۔ چینی اول تو سستی نہیں ہو گی اور ایک دو روپے کم ہو گئے تو فائدہ نہ ہو گا اس میں ماربل کا پاؤڈر ملا دیا جائے گا۔ دو کی جگہ دس چمچ چائے میں ڈالیں تو ذائقہ ملے گا۔ اف نہ کرنا۔ پی لینا۔ یہی ثواب ہے۔
گھی اور تیل پیکج:۔ ملوں سے درخواست ہے نمبرط گھی اور تیل فراہم کریں کیونکہ ہمارے ہاں بننے والے تیل اور گھی میں یوں بھی غذائیت نہیں ہوتی۔ پھر غریب کو غذائیت سے کیا سرکار اسے تو بس پیٹ بھرنا ہوتا ہے۔ چکنا چکنا کچھ بھی بیچ دیجئے۔
پھل اور کھجور پیکج:۔ پھل اتنا مہنگا کر دیں کہ غریب تو غریب امیر کے بھی نفس کا امتحان درپیش ہو ویسے بھی اگر پاکستان جیسے ملک میں بارہ مہینے ہر قسم کا پھل اگتا ہے تو اسے کھانے کی کیا ضرورت ہے۔ یہ تو بس دیکھنے کے لئے ہونا چاہئے۔ ہاتھ لگائیں اور چھوڑ دیں۔ کھجور ایک ایسی شے ہے جس سے ہر امیر اور غریب روزہ کھولتا ہے۔ دکانداروں اور ریڑھے والوں سے درخواست ہے ہر روز اس پر مضر صحت تیل لگا کر چکنا کر دیں اور ہر روزے کے ساتھ اس کی قیمت بڑھائیں۔
ملبوسات پیکج:۔ ملبوسات بنانے والی کمپنیاں سارا سال رمضان المبارک کا انتظار کرتی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس مقدس مہینے میں ناقص ترین چیز بھی بک جاتی ہے۔ اس لئے جس قدر ممکن ہو کنڈم لباس باہر نکالیں اور من چاہی قیمت پر فروخت کریں۔ یہی ایک عید پاکستان کے اندر ہر غریب اور امیر مناتا ہے۔ کپڑے اور جوتے خریدنا اس کی مجبوری ہے۔ مجبوری سے فائدہ اٹھائیں۔
مشروبات پیکج:۔ مشروبات کی تو بات ہی کیا ہے۔ چینی عنقا اوپر سے شدید گرمی۔ روزے کی پیاس تو بجھانا ہو گی۔ ویسے بھی مشروبات کمپنیاں جتنے دلآویز اور اشتہا بڑھانے والے اشتہار ٹی وی پر چلاتی ہیں۔ انہیں دیکھ کر ہی پیاس بجھ جانی چاہئے۔ ویسے اگر یہ کمپنیاں جتنے سرمائے کے اشتہار چلاتی ہیں اس سے آدھا سرمایہ خرچ کر کے اگر پاکستان کے سارے غریبوں کے گھر اپنی اپنی کمپنی کے مشروبات بھجوا دیں تو شاید سارا سال زیادہ منافع کما سکیں۔
گوشت‘ قیمہ‘ مرغا پیکج:۔ اگرچہ عیدالفطر ہے مگر گوشت کے دام بڑھ چکے ہیں۔ اب اس مہینے اتنے دام بڑھا دیں کہ پہلے تو عام آدمی گوشت کی د کان پر نظر ڈال کر گزر جاتا تھا۔ اب اس ماہ میں وہ گوشت کی دکان پر نظر اٹھانے کی جرات بھی نہ کر سکے… عجیب بات ہے پہلے بڑا گوشت سستا تھا۔ بڑے آدمی نہیں کھاتے تھے۔ اب بڑا بھی چھوٹے کی صف میں آگیا ہے۔ کم از کم یہاں تو مساوات قائم ہے۔ یہی مہینہ ہے بکرے سمگل کر دیں۔ دام کھرے ملیں گے۔ مگر عوام کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ جب سے چرغہ کا فیشن آیا ہے مرغ کی گردن اکڑی ہوئی ہے۔ اس سے تو ہمارا دیسی مرغا ہی اچھا تھا کم از کم اذان تو دیتا تھا۔ عوام مرغے سے پرہیز کریں۔
اتوار بازار پکیج:۔ ایک عرصہ سے اتوار بازار میں سارے ہفتے کی ناقص‘ سڑی ہوئی‘ راندی ہوئی سبزیاں اور پھل بک رہا ہے۔ اوپر قیمتوں کے ٹیگ لگے ہوئے ہیں‘ مگر پھر بھی دکاندار تلخ مزاجی کے ساتھ من مانی قیمت مانگتے ہیں۔ اشیائے خوردنی و اجناس سے لیکر کپڑے تک‘ ہر شے کی قیمت بڑھا دینا اس مہینے میں جائز ہے اور کار ثواب ہے۔
ہر دکاندار کے لئے پیکج:۔ پہلے تو ہر دکاندار اپنی دکان کے اوپر خواہ چھوٹی ہو یا بڑی آیات مبارکہ اور حدیث مبارکہ لکھ کر لٹکا دیں جن کے اندر نصیحت کی گئی ہے کہ تول میں جھوک نہ دیں‘ جھوٹ نہ بولیں‘ جھوٹی قسم کھا کر سودا نہ بیچیں اور باٹ صحیح رکھیں۔ اس کے بعد ان کو پوری پوری اجازت ہے کہ جھوٹے باٹ بنوا لیں‘ کئی د کاندار تو اینٹوں کے ٹکڑے استعمال کر لیتے ہیں اور سکیل کی مشین پر بھی جھوک دیتے ہیں۔ جھوٹی قسم کھا کر سودا بیچیں‘ مزاج کڑوا رکھیں‘ ذخیرہ اندوزی کریں۔ دکاندار بھی تو آخر بال بچوں والے ہوتے ہیں‘ ان کے بچوں نے بھی عید منانی ہوتی ہے… یہ کوئی دنیا میں صرف نیکیاں کمانے نہیں آتے… اور پھر دکاندار تو بڑی آسانی سے سارا عذر کارخانہ داروں پر ڈال دیتے ہیں اور کارخانہ دار حکومت کے ماتھے تھوپ دیتے ہیں اور حکومت اپنا ماتھا پکڑ کر بیٹھ جاتی ہے۔ سب کی اپنی اپنی مجبوری…!
اللہ تبارک تعالیٰ کہتا ہے کہ رمضان المبارک میں ایک نیکی کا دس گنا… یا اس سے زیادہ اجر ملے گا۔ تاجروں کو بھی اس مہینے میں ستر گنا منافع کمانا چاہئے۔ ابلیس کو قید کر دیا جاتا ہے مگر اس کے چیلے کھلے چھوڑ دئیے جاتے ہیں… ان سے استفادہ کریں۔
بعض اسلامی ملکوں کے بارے میں سنا ہے اور دیکھا بھی ہے… کہ مال دار لوگوں کے علاوہ عام لوگ اور عام دکاندار روزہ کھلوانے والے کار خیر میں‘ اشیاء سستی کرنے والے کار خیر میں‘ زکٰوۃ دینے والے کار خیر میں اپنا اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔ قیدیوں کو رہا کرواتے ہیں‘ قرض داروں کے قرض ادا کرتے ہیں‘ مسکینوں کے گھروں میں اجناس بھیجتے ہیں‘ چپکے چپکے‘ چوری چوری…… اور بھی بہت کچھ کرتے ہیں۔ مگر پاکستانی کاروباری حلقے میں اگر کچھ حلقے ان باتوں پر یقین نہیں رکھتے تو وہ ہمارے مذکورہ بالا پیکج پر عمل کر کے ثواب دارین کما سکتے ہیں۔ نیز……
یوٹیلٹی سٹورز کو کھلی چھٹی ہے کہ وہ چور دروازے استعمال کریں اور ناقص اشیاء فراہم کرتے رہیں۔