مشرف کا استقبال اور پتھر کا زمانہ

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی

پرویز مشرف کے زمانے میں امریکہ کی طرف سے پتھر کے زمانے میں دھکیلے جانے کی دھمکی ملی تھی، آج یہ دھماکہ ہوگیا ہے۔ امریکہ نے اپنے مطلب کے لئے پرویز مشرف سے اپنا یہ وعدہ نبھایا اس کے بعد ہم پتھر کے زمانے میں دھنستے چلے جا رہے ہیں، اس حال میں بھی حکمرانوں کو اپنے ”ہیرے جواہرات“ کی پڑی ہوئی ہے۔ پتھر کے زمانے میں لوگوں کے ہاتھ میں پتھر ہوں گے تو ان کا نشانہ کون ہو گا۔ ابھی تو وزیراعظم گیلانی کی ٹائی اور سوٹ کا رنگ ڈھنگ نہیں بدلا۔ اس نے بیمار اور باغی لیڈر جاوید ہاشمی کے پاس بیٹھ کر بات کی پرویز مشرف پاکستان آیا تو چیف جسٹس پاکستان اس کا استقبال کریں گے۔ چیف جسٹس کی جرات انکار نے کوٹ لکھپت جیل سے گیلانی صاحب کو وزیراعظم ہاوس میں پہنچایا مگر اسے جرات اقرار بھی نہ آئی۔ اقرار کرنے کی بھی ایک مستی ہے ہم اس سے بھی محروم ہیں۔ اسی پرویز مشرف سے وزیراعظم گیلانی نے حلف لیا تھا تب وہ جرنیل اور صدر تھا اسے وزیراعظم زرداری صاحب نے بنایا جب وہ صدر بھی نہ تھے۔ گیلانی صاحب کو یاد نہیں رہا کہ تب جاوید ہاشمی نے جرات انکار کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر جنرل پرویز مشرف سے حلف نہ لیا گیلانی صاحب نے ”اپنے“ صدر کے لئے طنزیہ انداز اختیار کیا یہ بھی اس کی بے اختیاریوں کا ایک اظہار ہے۔ یہ انداز وہ صدر زرداری کے لئے بھی کبھی کبھی اختیار کرتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کا سینئر وزیر، وزیراعظم گیلانی کی ”کابینہ“ میں اپوزیشن لیڈر بن گیا اس کا نقصان نوازشریف کو ہوا اور وزیراعظم گیلانی کو بھی ہوا۔ اگر قربانیوں کی کہانیوں کا ایک بڑا کردار جاوید ہاشمی اپوزیشن لیڈر ہوتا تو نوازشریف کو کبھی فرینڈلی اپوزیشن کا طعنہ نہ سننا پڑتا۔ حکومتی تبدیلی کے لئے موزوں ترین آدمی چودھری نثار ہے اور امریکی جمہوریت کی بقاءکے لئے بھی بڑا ضروری ہے۔ چودھری نثارنے ہی نوازشریف سے جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنوایا تھا۔ اس کے بعد کی جمہوری کہانی میں اس کا کیا کردار ہے یہ سب کچھ نوازشریف کو پتہ ہو گا کہ وہ آج بھی اس کے دل کے قریب ہیں۔ البتہ جنرل کیانی سے شہبازشریف اورچودھری نثارکی ملاقات پر نوازشریف کو غصہ تھا۔ دوسری ملاقات پر نہ تھا کہ وہ ان کی اجازت سے ہوئی تھی ۔ میری گزارش نوازشریف اور گیلانی صاحب سے ہے کہ پرویز مشرف کا استقبال چودھری نثارکرے، سب کی نمائندگی ہو جائے گی اور امریکہ بھی سب پر خوش ہوجائے گا۔
ہمارے سب حکمران امریکی پالیسیوں کے تسلسل کے حامی ہیں سب لوگ امریکہ کی مہربانی سے آئے اور اس کی مرضی سے گئے، حتیٰ کہ بھٹو صاحب بھی امریکہ کی حکمت عملی سے آئے ۔ پھر انہیں نافرمانی کی سزا ملی۔ یہ سزا لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک چلی جو بچ گئے وہ اتنے نافرمان نہ تھے تو پھر ایک ”جنرل“ مشرف ہی قصوروار کیوں؟ جن کی حکومت جنرل ضیاءنے توڑی۔ وہ اس کے خلاف ہیں جن کی حکومت جنرل مشرف نے توڑی وہ اس کے خلاف ہیں، نوازشریف اور مسلم لیگ نواز جنرل ضیاءکی حمایت اب نہیں کرتی تو مخالف بھی نہیں کرتی۔ جرنیل اپنے اپنے جمہوریت اپنی اپنی میڈیا کو اپوزیشن بنا کے رکھ دیا گیا ہے اور اب کہتے ہیں کہ تم بھی فرینڈلی اپوزیشن بن جاو۔ یہ سب ٹی وی چینل ”صدر جنرل“ پرویزمشرف کے زمانے کے ہیں۔ یہ بھی کہا جائے گا کہ یہ بھی ہمیں ورثے میں ملے ہیں۔ حکومت بھی تو ورثے میں ملی ہے البتہ موروثی حکومت تو سیاستدانوں کا جمہوری ورثہ ہے۔
میڈیا پر چار گھنٹے کے لئے پرویزمشرف نے سیلاب زدگان کےلئے پروگرام کیا۔ 20 کروڑ روپے سے زیادہ فنڈز جمع ہوئے اس نے نوازشریف کی طرف سے ایک کروڑ کے اعلان کے بعد ایک کروڑ کا اعلان کر دیا۔ اب سی این این پر پروگرام ہو گا جس میں انجلینا جولی اور ہنری کسنجر بھی شامل ہوں گے کیا یہ بھی جمہوریت پر حملہ ہے۔ میں جنرل پرویز مشرف کا بڑا نقاد ہوں جب سیاستدان جلاوطنی کے مزے لوٹ رہے تھے تو ہم لوگ ہموطنی کے عذاب سہہ رہے تھے۔ جنرل مشرف کے گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول نے مجھے ملازمت سے برطرف کیا۔ کہتے تھے کہ تم حکومت کے ملازم ہو کر حکومت کے خلاف نہیں لکھ سکتے میں کہتا تھا کہ میں ریاست پاکستان کا ملازم ہوں۔ ریاست اور حکومت کی گڈ مڈ کرنے والے حکومت اور جمہوریت کو بھی گڈ مڈ کر رہے ہیں۔ ہمیں نہ سچی جمہوریت ملی اور نہ حقیقی آمریت۔ ہمارے جرنیلوں نے سیاستدان بننے کی کوشش کی اور سیاستدانوں نے جرنیل بننے کی خواہش کی۔ دونوں ناکام ہوئے ہمارے مقدر میں آمرانہ جمہوریت آئی اور جمہوری آمریت ۔ ڈاکٹر شیرافگن جنرل ضیاءکے خلاف تھا اور آج بھی خلاف ہے۔ وہ جنرل مشرف کا حامی تھا اور اب بھی ہے۔ یہ استقامت تو ہے
مرے بت خانے میں تو کعبے میں گاڑو برہمن کو
وہ جو جنرل مشرف کے خلاف ہیں تو کیا وہ جنرل ضیاءکے اتنے ہی حامی ہیں کون سیاستدان ہے جو جرنیلوں کا جونیئربن کے نہیں رہا۔ جرنیلوں کے بیٹے گوہر ایوب، اعجاز الحق اور ہمایوں اختر کس کی کابینہ میں شامل تھے۔ گوہر ایوب سیاستدان ہوا تو اس کا بیٹا عمر ایوب بھی وزیر بن گیا۔ پرویز مشرف ریٹائر ہونے کے بعد ملک میں کیوں واپس نہیں آ سکتا۔ بناو اس پر مقدمے جو لوگ اس کے خلاف قرارداد نہ لا سکے وہ اسے قرار واقعی سزا دلوائیں گے؟ ہم نے تو سیاستدانوں کی واپسی کے لئے لکھا تھا۔ میں آمروں کے خلاف ہوں مگر آمریت اور جمہوریت میں فرق کیوں ختم ہو جاتا ہے ہمیں آمریت میں جمہوریت یاد آتی ہے مگر جمہوریت میں کیوں آمریت یاد آتی ہے کیوں لوگ اب پرویز مشرف کا اتنظار کرنے لگے ہیں صبر، انتظار اور دعا کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں مگر یہ چیزیں بھی اب ان کے پاس نہیں ہیں سب کچھ ان سے چھین لیا گیا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ مشرف واپس نہیں آئے گا مگر واپس جائے گا کون۔ سیاستدانوں نے واپس آ کے دیکھ لیا ہے اگر مشرف اس حال میں واپس آ گیا اورلوگوں نے اس کا والہانہ استقبال کیا تو پھر وزیراعظم گیلانی اس ہجوم میں کہاں ہو گا۔