حکمرانو! سنبھل جاو!

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

رکے کیسے کرپشن انتہا کی
مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی
مٹے یہ گندگی کیسے‘ کسی نے
صفائی کی نہ گھر سے ابتدا کی
ملی طاقت اسے ہر حکمراں سے
سبھی نے پرورش کی اس بلا کی
خدارا‘ نسل نو کو تو بچالو
نہ آئے زد میں وہ اب اس وبا کی
بہت پچھتائیں گے قبروں میں جاکر
نہ ہم نے ذمہ داری گر ادا کی
نظام عدل کو مضبوط کر لو
روایت کرکے مستحکم سزا کی
سبھی دکھ درد مٹ سکتے ہیں اپنے
جو نیت ٹھیک ہو درد آشنا کی
خدا کو بھولنے والے سمجھ لیں
کہ بے آواز لاٹھی ہے خدا کی
اٹھایا بے وضو جب حلف سب نے
نماز فرض بھی سب نے قضا کی
تھے وعدے جھوٹے اور کچے ارادے
بھلا دی رسم بھی ہم نے وفا کی
عوامی غیض لے ڈوبے مذہب کو
کروڑوں ان ہزاروں سے ہیں شاکی
جو بھوکوں پر حکومت کے ہیں بھوکے
نہ وردی ان کو راس آئے گی ”خاکی“
ہے بیٹھا تاڑ میں چالاک دشمن
ہم آپس میں لڑیں سازش ہے ”را“ کی