اپوزیشن نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا بل منظور کرانے میں ناکام

اپوزیشن نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کا بل منظور کرانے میں ناکام

بالآخر سینیٹ سے منظور کردہ اپوزیشن کی انتخابی اصلاحات کا ترمیمی بل پیش کرنے کی تحریک قومی اسمبلی میں اپنی موت آپ مر گئی ہے نااہل شخص کو کسی بھی سیاسی جماعت کی سربراہی سے روکنے کے لیے پیش کردہ بل کو حکومتی جماعت کی اکثریت نے مسترد کردیا منگل کو حکومت اور اپوزیشن اور پوری تیاری کرکے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آئیں اپوزیشن کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ حکومتی اتحاد کے متعدد ارکان اپوزیشن کے بل کی حمایت کریں گے لیکن یہ تاثر اس وقت زائل ہو گیا جب حکومتی اتحاد نے پوری قوت سے اپوزیشن کے بل کو مسترد کر دیا اپوزیشن نے بل مسترد کرنے والے ارکان کی گنتی کرا کر جہاں حکومت کو ایکسپوز کرنے کی کوشش کی وہاں خود اپوزیشن بھی ایکسپوز ہو گئی حکومتی اتحاد کو ایوان میں 213ارکان کی حمایت حاصل ہے جب کہ اسے 163ووٹ ملے اسی طرح اپوزیشن کی باسکٹ میں 116ارکان تھے جن مے سے 22ووٹ دینے کے لئے نہیں مسلم لیگ (ن) کے4ورزاء سمیت22ارکان ووٹ ڈالنے نہیں آئے ان میں 10ا رکان کی وفاداری کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کیا جا رہا ہے تاہم باقی پارٹی نے نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے ایس ارکان بھی ایوان میں بل کے خلاف ووٹ ڈالنے آئے جو زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں انہوں بل کے خلاف ووٹ ڈال کر دراصل میاں نواز شریف کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کیا انہوں نے میاں نواز شریف کو سیاسی منظر سے ہٹانے کے لئے کوشاں قوتوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ انہیں سیاسی منظر سے نہیں ہٹا سکتے اور وہ پوری قوت کے ساتھ ان کے ساتھ کھڑے ہیں دراصل قومی اسمبلی کے اجلاس میں آج اس بات کا فیصلہ ہو گیا ہے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی قوت میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے قومی اسمبلی میں بل پیش کیا جس کا متن تھا کہ نااہل شخص سیاسی جماعت کا سربراہ نہیں بن سکتا۔انھوں نے کہا کہ اگر یہ بل آج یہاں سے مسترد ہوتا ہے تو اس کے دوسرے مراحل ہیں وہاں پر بھی حکومت کو اپنی عددی برتری ثابت کرنا ہوگی۔ فرد واحد کے لئے قانون سازی سے نظام درہم برہم ہوجاتا ہے ،چہ میگوئیاں ہورہی ہیں کہ شاید یہ یا اس کے بعد ہونے والا اجلاس اس اسمبلی کا آخری اجلاس ہو ۔ وفاقی وزیرقانون زاہد حامد اور وفاقی وزیر ریلویز خواجہ سعد رفیق نے اپوزیشن کو آڑے ہاتھوں لیا اپوزیشن کی جانب سے شازیہ مری نے جاندار تقریر کی لیکن زاہد حامد نے بل کے حوالے سے اپوزیشن کا پول کھو دیا اور ان ارکان کے نام لئے جنہوں نے نا اہل قرار دئیے شخص کو پارٹی کا عہدیدار بننے کے لئے پارلیمانی کمیٹی میں بل کی شق کی حمایت کی ۔شاہ محمود قریشی نے استفسار کیا کہ ’’کیا آپ اپنے بھائی پر یا چوہدری نثار علی خان پر اعتماد نہیں کرسکتے؟پی پی رہنما عذرا فضل پیچوہونے کہا کہ آج صرف ایک شخص کی خاطر یہ ایوان بھرا ہوا نظر آرہا ہے ،زاہد حامد نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو ذوالفقار بھٹو نے 1975 ایوب خان کے کالے قانون کو ختم کیا پرویز مشرف نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف کو پارٹی کی سربراہی سے دور رکھنے کے لئے پابندی لگائی 17 نومبر 2014 میں اس قانون کے حوالے سے پارلیمنٹ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں اسی قانون کو پیش کیا گیا تھا اس وقت پاناما پیپرز نہیں آئے تھے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ آئین میں تجاوزات کھڑی کی گئیںلیکن ہم چند لوگوں کا فیصلہ نہیں مانیں گے اور انہیں 21 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کا حق نہیں دیں گے۔الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر قومی اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری کے بعد سپیکر سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا،حکمراں جماعت کے پاس اتحادیوں کو ملا کر قومی اسمبلی میں 213 ارکان کی عددی حیثیت حاصل ہے، جس میں مسلم لیگ(ن)کے 188، جمعیت علمائے اسلام(ف)کے 13، مسلم لیگ فنکشنل کے 5، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 3، نیشنل پیپلز پارٹی کے 2، مسلم لیگ ضیا اور نیشنل پارٹی کا ایک ایک رکن شامل ہے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں کے پاس مجموعی 116 ووٹ ہیں، ایوان میں پیپلز پارٹی کے ارکان کی تعداد 47، تحریک انصاف 33، متحدہ قومی موومنٹ 24، جماعت اسلامی 4، عوامی نیشنل پارٹی 2، مسلم لیگ(ق) 2، بلوستان نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، آل پاکستان مسلم لیگ اور عوامی جمہوری اتحاد پاکستان کے ایک ایک ارکان ہیں۔اس کے علاوہ ایوان میں 10 آزاد امیدوار بھی ہیں۔یہ بل ایوان بالا سینیٹ میںکثرت رائے سے پہلے ہی منظور ہوچکا ہے۔ اس بل کو ناکام بنانے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں 167 ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی۔ اجلاس میں سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار بھی شریک ہوئے۔ دوسری جانب قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیر صدارت پیپلزپارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا بھی اجلاس ہوا جس میں بل کی منظوری کی حکمت عملی طے کرلی گئیالیکشن بل2017کی شق203میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے مسترد ہونے کے بعد اب پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا جس میں بھی حکومتی جماعت مسلم لیگ (ن)کو واضح اکثریت حاصل ہے،قومی اسمبلی کے اجلاس میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی ایک دوسرے کیخلاف شدید نعرے بازی، حکومتی ارکان کی جانب سے ''میاں تیرے جانثار بے شمار بے شمار ''کے نعرے،جبکہ اپوزیشن کی جانب سے حکومت مخالف نعرے لگائے گئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان ، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی ، مسلم لیگ ضیاء الحق کے سربراہ اعجاز الحق، رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی ، فاٹا ارکان سمیت دیگر نے اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ، سپیکر کی اجازت کے بغیر بولنے پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے شاہ محمود قریشی کو کہا کہ یہ کسی مزار کی گدی نہیں جس پر آپ قبضہ کر کے بیٹھ جائیں جس پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میں صرف اپنی بات کرنا چاہتا ہوں حکومتی وزیر ماحول خراب نہ کریں اور بات سننے کا حوصلہ پیدا کریں ۔ قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی نے نا اہل شخص کو پارٹی صدارت سے نا اہل قرار دینے کا بل پیش کر کے مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا موقع فراہم کر دیا اس میں مسلم لیگ (ن) نے متحدہ اپوزیشن کی نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کوششوں کو ناکام بنا دیا بلکہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی قائدانہ صلاحیتیں بھی ایک مرتبہ پھر ابھر کر سامنے آگئیں،وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ نے پارٹی ڈسپلن کی پابندی کی، حتیٰ کہ پارٹی کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان نے بھی تمام افواہوں اور قیاس آرائیاں کو غلط ثابت کر تے ہوئے انہوں نے بھی نواز شریف سے اپنی وفاداری نبھائی ہے۔تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف نے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹانے کی حکمت عملی بنائی، تاہم اپوزیشن کے 128 ارکان میں سے صرف 97 ارکان ایوان میں موجود تھے اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان حسب معمول ایوان میں نہیں آئے، اسی طرح قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ارکان کی تعداد 212ہے مگر ایوان میں 163ارکان موجود تھے، جنہوں نے اپوزیشن کے بل کو ناکام بنایا، اس بل کو ناکام بنانے کیلئے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے علاوہ وفاقی وزراء خواجہ سعد رفیق، شیخ آفتاب احمد و دیگر نے بھی ارکان کو ایوان میں لانے کیلئے اہم کردار ادا کیا قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نوازشریف کو پارٹی قیادت سے علیحدہ کرنے کے حوالے سے پیش کئے گئے انتخابات( ترمیمی) بل 2017کی مخالفت میں ووٹ ڈالنے کیلئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز نے بنھی شرکت کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے واحد رکن سابق وزیراعظم میر ظفر اللہ جمالی نے پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے پیش کئے گئے میاں نوازشریف کو پارٹی قیادت سے ہٹانے کے حوالے سے انتخابات( ترمیمی) بل 2017کی حمایت میں اور حکومت کی مخالفت میں ووٹ دیا ۔مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 167 سے زائد ارکان قومی اسمبلی نے شرکت کی، مسلم لیگ (ن) کے ممبر قومی اسمبلی چوہدری خادم حسین شدید علالت کے باوجود لاٹھی کے سہارے پارلیمنٹ پہنچے، چوہدری نثار علی خان نے بھی اجلاس میں شرکت کی جب وہ پارٹی کے اجلاس میں آئے تو ارکان نے ڈیسک بجا کر ان کا خیر مقدم کیا جبکہ کئی مسلم لیگی ارکان قومی اسمبلی راستے میں ہونے کے باعث پارلیمانی پارٹی اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی میں اجلاس کے دوران شور شرابہ ہوتا رہا تاہم بد مزگی نہ ہوئی ۔