بے بس نظر آتی حکومت

کالم نگار  |  نصرت جاوید
بے بس نظر آتی حکومت

پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری دنوں کے حوالے سے بہت مشہورہوئے آغاناصر مرحوم سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ تعلق ان سے نظر بظاہر میرا واجبی ہی رہا۔”استادی/شاگردی“ والی صورت بھی نہیں تھی۔ ہماری عمروں کے مابین بہت فرق تھا۔

چند برسوں کے لئے میں نے اپنی نوجوانی کے دنوں میں جب ڈرامے لکھے تو وہ ان دنوں PTVکے بہت بڑے افسرہوا کرتے تھے۔ اس ادارے کے ہیڈکوارٹر میں تعینات تھے۔ نگاہ ان کی مگر ہر شے پر ہوتی تھی۔ ”کام“ کی کوئی شے ٹی وی سکرین پر دیکھتے تو تڑپ اُٹھتے۔ ان کی خواہش ہوتی کہ اس چیز کے خالق کو مزید کام کے لئے اُکسایا جائے۔ میری خوش بختی کہ مجھ ایسے بے ہنر میں بھی انہوں نے ”تخلیقی جراثیم“ دریافت کرلیے تھے۔
ان کی وفات کے بعد لکھے ایک کالم میں یاد کیا تھا کہ 2007کے اوائل میں جانے کیوں آغا صاحب کے ذہن میں یہ دھن سمائی کہ مرزا غالب کے آخری ایام کے بارے میں ایک ڈرامہ تیار کیا جائے۔ ڈراموں کی پروڈکشن وہ کئی برسوں سے چھوڑ چکے تھے مگر ان کا وعدہ تھا کہ ان کی خواہش کے مطابق سکرپٹ تیار ہوگیا تو وہ اسے خودپروڈیوس کریں گے۔
منّوں بھائی ان کے پسندیدہ لکھاریوں میں سرفہرست تھے۔ ان سے ذکر ہوا تو موصوف نے بڑھتی عمر کے ساتھ نازل ہوئی بے دلی اور کاہلی کے جواز گھڑنا شروع کردئیے۔ لاہور کی ایک محفل میں ان دونوں کے مابین اس ضمن میں بحث چل رہی تھی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اچانک آغا صاحب کی نگاہ مجھ پرپڑی تو اعلان کردیا کہ :”آپ یہ ڈرامہ لکھیں گے“۔منّوں بھائی نے بہت مسرت اور خلوص کے ساتھ ان کے اس فیصلے کی پُرجوش تائید کردی۔ میں شرمندہ ہوا ہوں ہاں سے کام چلاتا رہا۔ یہ سوچتے ہوئے دل کو تسلی دی کہ ”رات گئی بات گئی“ ہوجائے گی۔
ہمارے اسلام آباد لوٹنے کے ایک ہفتے بعد مگر آغا ناصر جو باقاعدگی سے لمبی واک کیا کرتے تھے میرے گھر کے قریب سے گزرے تو گھنٹی بجاکر مجھے باہر بلایا۔ اپنی واک کے معمول میں تبدیلی انہیں پسند نہیں تھی۔ کھڑے کھڑے بس اتنا پوچھا کہ میرے پاس غالب کے خطوط ہیں یا نہیں۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے پاس ان خطوط کی دوجلدیں موجود ہیں۔ ان کا مگر اصرار تھا کہ غالب کے خطوط کا سب سے مستند اور بہترین مجموعہ مولانا غلام رسول مہر نے مرتب کیا ہے۔ وہ مجموعہ میری ساس کی لائبریری میں موجود تھا۔ میں نے آغا صاحب کو بتایا تو انہوں نے حکم دیا کہ میں اسے اُٹھاکر بستر کے پاس رکھ لوں اور جب بھی وقت ملے اس کتاب کو کھول کر پڑھنا شروع کردوں۔ ”ہماری خواہش ہے کہ آپ 1857کے حالات کو غالب کی نظر سے دیکھنا شروع کردیں۔“یہ کہنے کے بعد اپنی واک کی طرف لوٹ گئے۔
مولانا غلام رسول مہر والا مجموعہ ان کے جانے کے بعد میں نے ا پنے بستر کے پاس رکھ لیا۔ آج بھی وہیں پڑا ہے۔ جب بھی موقعہ ملتا ہے،اسے اٹھاکر پڑھنا شروع ہوجاتا ہوں۔ ”غالب والی نظر“ مگر ابھی تک نصیب نہیں ہوپائی۔
2007ہی میں ایک سیمینار کے سلسلے میں دلّی جانے کا اتفاق ہوا تو آغا ناصر بھی ہمارے ساتھ تھے۔ وہاں قیام کے دوران ایک صبح پاﺅں میں واک کرنے والے جوتے پہن کر مجھے جامع مسجد لے گئے۔ وہاں ہرے بھرے پیر کے مزار سے ہم غالب کے کوچہ بلی ماراں والے گھر گئے جسے اب ایک میوزیم بنادیا گیا ہے۔ وہاں سے فراغت کے بعد تاریخی دلّی کے ہر اس کوچے میں جانا پڑا جو کسی نہ کسی طرح غالب یا 1857کے حوالے سے اہم گردانا جانا جاتا ہے۔
آغا صاحب کا بچپن دہلی اور میرٹھ کے درمیان واقع ایک قصبے فرید نگر میں گزرا تھا۔ ان کے دو بھائی دہلی میں سرکاری نوکر تھے۔ ان کی خالہ بھی اس شہر میں رہائش پذیر تھیں۔ یہ معلومات مجھے اس سفر کے دوران نہیں”آغا سے آغاناصر تک“ والی کتاب پڑھتے ہوئے ملی ہیں۔ آغا صاحب کی اہلیہ اور ان کے تخلیقی سفر کی کئی حوالوں سے ”سہولت کار“ محترمہ صفیہ ناصر نے اس کتاب کو چھپوایا ہے۔ بنیادی طورپر یہ کتاب ان نوٹس پر مشتمل ہے جو آغا صاحب اپنی سوانح عمری مرتب کرنے کے لئے وقتاََ فوقتاََ لکھا کرتے تھے۔ یہ کتاب لکھنے کو ان کا دل ہرگز مائل نہیں ہورہا تھا ۔ چاہنے والوں کے اصرار پر یادوں کو فرصت کے لمحات میں لکھتے رہتے۔ افسوس ان یادوںکو کتابی صورت ان کے انتقال کے بعد ہی میسرہوپائی ہے۔
”آغا سے آغا ناصر تک“ ایک فرد نہیں اس عہد کی داستان ہے جو قیامِ پاکستان سے چند برس قبل شروع ہوتا ہے۔ اس عہد میں بھرپور توانائی امید کے اس موسم میں نمایاں ہوتی نظر آتی ہے جب قیامِ پاکستان کے فوری بعد جوان ہوتی نسل نے بے پناہ جذبے کے ساتھ اس ملک کو سنوارنے اور اسے ابلاغ کے جدید ترین ادارے فراہم کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کو بھرپور انداز میں استعمال کیا تھا۔
ایسی ہی توانائی اور گرم جوشی ہمیں قرة العین حیدر کی ”کارجہاں دراز ہے“ کے ان برسوں میں بھی بہت شدت کے ساتھ اُچھلتی نظر آتی ہے جب ”عینی“ پاکستان میں تھیں۔وزارتِ اطلاعات سے منسلک ہوکر دُنیا کو نئے ملک سے متعارف کروانے کے لئے دستاویزی فلمیں اور پبلسٹی بروشرز تیار کررہی تھیں۔ ”عینی“مگر ایک روز لندن روانہ ہوگئیں اور وہاں سے بھارت واپس۔قرة العین کی بھارت واپسی میری دانست میں امید کی شکست تھی۔ آغا صاحب نے امید کا دامن مگر کبھی نہیں چھوڑا۔بہت دھیمے لہجے میں مہذب گفتگو کرنے والے آغا ناصر کو ہمیشہ یہ اُمید رہی کہ پاکستان کے لکھاری اور تخلیق کار اپنی صلاحیتوں کو اس ملک پر نازل ہوئی آفتوں کے مقابلے کے لئے استعمال کریں گے۔
”آغا سے آغا ناصر تک“ میں شاید اسی لئے بہت مہارت سے سمجھایا گیا ہے کہ 1970کی دہائی کے ابتدائی سالوں میں ”سقوط ڈھاکہ“ ہوجانے کے بعد بھی پاکستانیوں نے ہمت نہیں ہاری تھی۔ قوم کو 1973میں دستور ملا۔ لاہور میں اسلامی کانفرنس ہوئی۔پاکستان ٹیلی وژن کو دنیا بھر کے ماہرینِ ابلاغ نے ایشیاءکا سب سے مو¿ثر اور جاندار نیٹ ورک تسلیم کیا۔ ان سب نے مل کر ثابت کیا کہ پاکستانی ہرگز ایک پست ہمت قوم نہیں ہے۔ بدترین حالات سے نبردآزما ہونے کی صلاحیتوں سے مالا مال ہے۔ ضرورت اسے صرف قائدانہ صلاحیتوں سے مالا مال حکمرانوں اور ان سے کہیں زیادہ ایسے لکھاریوں اور تخلیق کاروں کی ہے جو انتشار اور خلفشار کی کیفیتوں کو بروقت دیکھ کر ان کا مقابلہ کرنے کی ٹھان لیں۔
غالب کو 1857کی ہیجانی کیفیتوں میں گرفتار ہوا دکھاتے ہوئے آغا ناصر شاید ہمیں ان دنوں کے پاکستان کےلئے تیار کرنا چاہ رہے تھے۔ 1857کا اہم ترین کردار ہے بہادر شاہ ظفر۔ قانونی اور اخلاقی اعتبار سے ”بادشاہ“ مگر انتشار کی طرف لے جاتی قوتوں کے سامنے قطعاََ بے بس۔ بنگال وبہار پر اپنا جبر مسلط کرنے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اودھ اور یوپی پر قبضہ جماچکی تھی اور پھر دہلی پر متوازی اور مو¿ثر حکومت کی صورت مسلط ہوچکی تھی۔
اس کی راہ روکنے کے لئے بغاوت ہوتی ہے۔ انگریز اسے غدر کہتا ہے۔ اس غدر یا بغاوت کو مذہبی جواز فراہم کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں تو ہندو مسلم تقسیم ہوجاتی ہے۔دلّی ”تلنگوں“ کی نازل کردہ افراتفری کا نشانہ بن جاتا ہے۔ غالب جیسے حساس اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالا مال افراد اپنے گھروں میں حواس باختہ ہوئے محصور ہوجاتے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کا ان دنوں کچھ ویسا ہی حال ہے۔ بظاہر ”ووٹ کی قوت“ سے قائم ہوئی حکومت کئی حوالوں سے بے بس نظر آرہی ہے۔لکھنے والوں میں سچ بیان کرنے کی ہمت ہی نہیں رہی۔ “مذاکرات“ ہوئے چلے جارہے ہیں اور آئندہ ماہ کی 3تاریخ کو امریکی وزیردفاع نے ایک دن کے لئے پاکستان آنا ہے۔ ہماری ریاست وحکومت کو واضح الفاظ میں یہ بتانے کہ افغانستان میں سپر طاقت کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کرنے والے ”حقانی نیٹ ورک“ پر قابو پایا جائے۔ورنہ....کاش میں نے آغا ناصر کی رہ نمائی میں غالب کو 1857کے تناظر میں رکھ کر کچھ سمجھ لیا ہوتا۔
٭٭٭٭٭