نہ احتساب نہ سزا

کالم نگار  |  جاوید صدیق
نہ احتساب نہ سزا

یہ 1992ء کے آخر کا قصہ ہے۔ ان دنوں نوازشریف کی پہلی حکومت کے خلاف بے نظیر بھٹو اور دوسرے اپوزیشن لیڈر لانگ مارچ کی تیاری کر رہے تھے۔ اس لانگ مارچ میں پنجاب اور صوبہ سرحد اب خیبر پی کے کی حکومتیں بھی شامل ہو گئی تھیں دارالحکومت کے اہم علاقوں کے اردگرد خاردار تاریں لگا کر ان علاقوں تک رسائی کو مشکل بنا دیا گیا تھا۔ بلیو ایریا سے پارلیمنٹ ہاؤس جانے والی سڑک پر جہاں ایک زمانے میں 23 مارچ کی پریڈ ہوا کرتی تھی رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں تاکہ لانگ مارچ کرنے والے پارلیمنٹ ہاؤس تک نہ جا سکیں۔ یہ سارا علاقہ اب بھی پولیس نے سیل کررکھا ہے۔ 1992ء کے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے پارلیمنٹ ہاؤس تک جانے والے راستے پر لگائی جانے والی خاردار تاروں میں صبح ہی صبح ایک امریکی سفارت کار جو سائیکلنگ کر رہا تھا الجھ کر زخمی ہو گیا تھا۔ اس سفارتکار کو علاج کے لئے سنگاپور منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سفارت کار سے راقم کی اکثر ملاقاتیں ہوتی تھیں وہ امریکی سفارت خانہ میں پریس اتاشی تھا۔ مذکورہ سفارت کار نے راقم کو ایک محفل میں خبردار کیا تھا کہ اگر پاکستان نے منشیات کی سمگلنگ اور نقل و حرکت کو نہ روکا تو پاکستان کولمبیا بن سکتا ہے اس زمانے میں امریکہ اور مغربی ملکوں کو پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں سے ہیروئن یورپ اور امریکہ کو سمگل کرنے پر سخت تشویش تھی۔ ہزاروں پاکستانیوں جن میں بعض اہم شخصیات شامل تھی پر الزام لگتا تھا کہ وہ منشیات کی سمگلنگ سے بھاری پیسہ بنا رہی ہیں۔

جس طرح آج کل امریکہ اور یورپ کا سب سے بڑا درد سر دہشت گردی اور انتہا پسندی ہے اس دور میں ان کے لئے منشیات کی سمگلنگ دردسر تھا۔ امریکی سفارت کار نے مجھے بتایا کہ جب وہ کولمبیا میں بطور سفارتکار متعین تھا تو اس نے دیکھا کہ اس کی تعیناتی کے دوران ہی کولمبیا میں ڈرگ سمگلروں کا راج قائم ہو گیا تھا۔ کولمبیا میں منشیات کا دھندا کرنے والے پہلے ہی سرحدوں پر متعین سیکیورٹی اور کسٹمز والوں کو ڈالر دے کر ان کو رام کر لیتے تھے اگر کوئی سکیورٹی آفیسر یا کسٹمز والا ان کے راستے میں رکاوٹ بنتا تھا تو اسے گولی مار دی جاتی تھی۔ امریکی سفارت کار کا کہنا تھا کہ اس کی تین یا چار سالہ تعیناتی کے دوران کولمبیا میں سمگلنگ کے خلاف خبریں چھاپنے والے صحافیوں‘ سمگلروں کو سز ا دینے والے ججوں اور دوسرے اہلکاروں کو یا تو منشیات کے پیسے سے خرید لیا جاتا تھا یا انہیں گولی مار دی جاتی تھی۔ پورا کولمبیا ڈرگ مافیا کے قبضے میں چلا گیا تھا۔ امریکی سفارت کار خبردار کر رہا تھا کہ پاکستان کو منشیات کی روک تھام کے لئے سخت محنت کرنا ہوگی تاکہ وہ دوسرا کولمبیا نہ بنے۔
وطن عزیز ماضی میں مختلف بحرانوں کا شکار ہوتا چلا آرہا ہے 80 اور 90 نوے کی دہائی میں مغربی طاقتیں پاکستان کو دنیا میں منشیات پیدا کرنے اور سمگل کرنے والے ملکوں میں شمار کرتی تھیں پھر یہ دور ختم ہوا تو پاکستان پر دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ملک کا لیبل لگایا گیا ہے ابھی تک یہ لیبل ہمارے ملک سے نہیں اتارا گیا۔ داخلی سطح پر ہمیں سیاسی اور معاشی استحکام کبھی نصیب نہیں ہوا۔ فوجی مداخلتیں ختم ہوئیں تو سیاسی استحکام کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو رہا۔ جس دور سے ہم گزر رہے ہیں اس دور میں ملک کا سب سے بڑا مسئلہ بدعنوانی اور کرپشن ہے سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف پانامہ کیس سامنے آیا تو انہوں نے خود اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کیا اور کہا کہ انہوں نے کوئی بے ضابطگی نہیں کی۔ ان کے پاس اپنے کاروبار اور جائیدادوں کے سارے ثبوت موجود ہیں۔ جب مقدمہ سپریم کورٹ میں چلا تو یہ بات سامنے آئی کہ ان کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں۔ سپریم کورٹ نے انہیں نااہل قراردیا اور نیب عدالتوں میں ان کے‘ ان کی بیٹی‘ داماد اور بیٹوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم بھی سپریم کورٹ نے دیا۔ لیکن سابق وزیراعظم اور ان کا خاندان یہ فیصلہ ماننے کے لئے تیار نہیں اور اب فیصلے کے خلاف ایک عوامی مہم چلانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے جن لیڈروں پر بدعنوانی کے سنگین الزامات ہیں وہ بھی ان الزامات کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے لیڈر آصف علی زرداری جن پر لوٹ مار اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے کئی مقدمات احتساب عدالتوں میں چلتے رہے ہیں وہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ایک دیانتدار آدمی ہیں انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک صوبائی وزیر شرجیل میمن کو جب نیب نے رشوت کے الزام میں گرفتار کیا اور اب ان پر کیس چل رہا ہے تو وہ ہاتھوں کی انگلیوں سے وکٹری کا نشانہ بناتے ہوئے نیب عدالت میں آتے ہیں اور عدالت سے جاتے ہوئے بھی وکٹری کا نشان بناتے ہیں وہ بھی کہتے ہیں کہ انہیں انتقام کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ آصف زرداری کے ایک اور معتمد ساتھی ڈاکٹر عاصم بھی کھربوں روپے کی کرپشن کے الزامات میں مقدمات کا سامنا کر رہ ہیں لیکن وہ بھی یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ انہوں نے گڑ بڑ کی ہے۔ کئی دوسرے بااثر افراد جنہیںکرپشن کے الزام میں پکڑا گیا اور ان سے اربوں روپے ریکورکئے گئے ہیں وہ بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ وہ بے گناہ ہیں کئی سرکاری افسر اور اہل کار جو کروڑوں اربوں کی لوٹ مار میں پکڑے گئے ہیں۔ وہ سیانے نکلے ہیں انہوں نے یہ پلی بارگین کے تحت کچھ رقم نیب کو ادا کرکے جان چھڑا لی ہے۔ سیاسی اثرورسوخ کو استعمال کرکے کھربوں روپے کی سرکاری رقم پر ہاتھ صاف کرنے والے کسی طور پر نہیں مانتے کہ انہوں نے کوئی بے قاعدگی کی ہے۔ اب تو عدالتوں کے فیصلوں کو نہ صرف قانونی طور پر چیلنج کیا جانے لگا ہے بلکہ نیب اور دوسری عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف سیاسی جلسے جلوس ہونے لگے ہیں۔ اگر یہ چلن جاری رہا تو پھر یہاں کسی کا نہ تو احتساب ہوسکے گا نہ کسی کو سزا ہوسکے گی اس صورت حال میں مجھے سابق امریکی سفارت کار کا یہ جملہ یاد آرہا ہے کہ پاکستان کو کولمبیا بننے سے بچائیں کولمبیا میں منشیات والوں کا راج قائم ہوا تھا یہاں خدانخواستہ قومی خزانے پر ہاتھ صاف کرنے والوں کا راج قائم ہو سکتا ہے‘ احتساب اور سزا کا نظام اگر بے اثر ہو گیا تو پھر اﷲ ہی حافظ ہے۔