ملک کو پڑھے لکھے سیاستدانوں کی ضرورت ہے

کالم نگار  |  ڈاکٹر محمد اجمل نیازی
ملک کو پڑھے لکھے سیاستدانوں کی ضرورت ہے

ملک کو پڑھے لکھے سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔ یہ بہت زبردست جملہ گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے پنجاب یونیورسٹی کے 126 ویں جلسہ¿ عطائے اسناد میں کہا۔ وہ خود ایک سیاستدان ہیں اور پڑھے لکھے آدمی ہیں۔ ہماری اسمبلیاں ایسے لوگوں سے بھری پڑی ہیں جو پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ انتخاب کے دوران پڑھا لکھا ہونا بھی کوئی کوالیفکیشن نہیں ہے۔ وغیرہ وغیرہ بھی ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں۔

کہا گیا کہ وزیر تعلیم کے لئے زیر تعلیم شخص کے ساتھ (و) ووٹ والی لگتی ہے تو وہ وزیر تعلیم بن جاتا ہے۔ ایک اور جملہ گورنر صاحب نے خوب کہا کہ علم اور تعلیم میں فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان عوامل پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے جس سے ہماری جامعات کی رینکنگ میں اضافہ ہو۔
رجوانہ صاحب کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کی عالمی رینکنگ کو بہتر بنانے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ نے مختلف اقدامات کرتے ہوئے تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ اس بار چانسلر اور وائس چانسلر نے ایک سکالر کی طرح بات کی جو بہت سراہی گئی۔
گورنر پنجاب رجوانہ صاحب نے کہا کہ اظہار رائے کا ہر کسی کا حق ہے تاہم اپنے اس حق کے استعمال میں دوسروں کے حقوق مجروح نہ کئے جائیں۔ میں آپ کو اس امتحان میں کامیابی کے لئے مبارکباد دیتا ہوں مگر آپ کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔
رفیق رجوانہ صاحب خود ایک مخلص اور سچے سیاستدان ہیں۔ انہوں نے سیاستدانوں کو بھی پڑھے لکھے ہونے کی تلقین کی۔ اس تلقین کی ضرورت ہمارے حکمرانوں کو بھی ہے۔ سیاستدان ہی حکمران بنتے ہیں۔ جن طالب علموں کو گورنر صاحب نے ڈگریاں عطا کیں‘ ان میں سے ہی کچھ سیاست اور حکومت میں آئیں گے اور انہیں یہ بات اچھی طرح یاد رہے گی کہ اچھا سیاستدان ہونا پاکستان کے لئے کتنا ضروری ہے۔
اکثر ہمارے سیاستدان زیادہ پڑھے لکھے نہیں ہوتے بلکہ پڑھے لکھے ہی نہیں ہوتے۔ وہ جس طرح بیانات دیتے ہیں۔ انہیں پڑھ کر آدمی سوچ میں پڑ جاتا ہے۔ اکثر ممبران اور سیاستدان تو بیان دیتے ہی نہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک ممبر اسمبلی نے پوری مدت میں ایوان کے اندر کوئی بات نہ کی۔ صرف حاضری کے لئے دستخط کئے یا لیڈر کی جی حضوری کے لئے سلام کیا۔ مگر ملک کو باشعور لوگوں کی ضرورت ہے۔ معیار تعلیم میں بہتری سے پاکستان کی یونیورسٹیوں کا نام روشن ہو گا اور اس سے ملک کا نام بھی روشن ہو گا۔
اس طرح ہماری ڈگریوں کی عزت بڑھے گی۔ پڑھے لکھے افراد سیاست میں بھی آئیں گے حکومتیں گرانا پاکستان کی خدمت نہیں۔ ملک کو سنوارنا ملک کی خدمت کرنا ہمارا فرض ہے۔ موجودہ دور تحقیق، ٹیکنالوجی اور سپیشلائزیشن کا دور ہے پاکستان کی خدمت کر کے یہ ثابت کریں کہ آپ ہی پاکستان کا مستقبل ہیں۔ آپ اس اعزاز کو محسوس کریں کہ آپ پاکستان کی بہترین یونیورسٹی سے ڈگری لے کے جا رہے ہیں۔ انہوں نے طالبات کو بھی ہدایت کی کہ آپ کو ڈگریاں حاصل کرکے گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ عملی میدان میں آنا چاہئے۔ اب خواتین ہر شعبے میں آگے آ رہی ہیں۔
انتظامیہ نے فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کو بحال اور فعال کیا ہے۔ اس قلیل عرصے میں تو قومی اور بین الاقوامی کانفرنسیں 6 ، قومی ورکشاپیں، اکیس سیمینار اور متعدد سمپوزیم بھی منعقد کئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی میں پُرامن ماحول کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا گیا ہے۔
اب یونیورسٹی کا ماحول خوشگوار ہے یہاں بہت بڑے صحافی نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم نے اپنے بڑے بھائی اور بانی نوائے وقت کے نام سے حمید نظامی چیئر کی ہدایت کی۔ حمید نظامی چیئربن گئی۔ مجید نظامی کی ہدایت پر مجھے اس چیئر کے انچارج کے طور پر نامزد کیا گیا۔ ہم نے اب تک دو کتابیں اس حوالے سے شائع کی ہیں۔ تیسری کتاب زیر طبع ہے وہ وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر معین کی ہدایت کے مطابق شائع ہوجائے گی۔ وہ اس سلسلے میں ہماری پوری معاونت کرتے ہیں۔ اس کے لئے ڈائریکٹر شعبہ ڈاکٹر نوشینہ بھی تعاون کرتی ہیں۔ شعبے کے اندر ایک ہال ہے اور اس کا نام بھی حمید نظامی ہال ہے۔ حمید نظامی نوائے وقت کے بانی تھے اور اولیں ممتاز صحافیوں میں سے ایک تھے۔ انہوں قائداعظم کی ہدایت کے مطابق نوائے وقت جاری کیا تھا۔ مجید نظامی کے انتقال کے بعدنوائے وقت کی ادارت اور نوائے وقت گروپ کی قیادت ان کی ہونہار صاحبزادی رمیزہ مجید نظامی نے سنبھالی جو خوش اسلوبی اور پورے اعتماد کے ساتھ یہ ذمہ داری نبھا رہی ہیں۔
آخر میں پھر گورنر پنجاب رفیق رجوانہ کا یہ جملہ حاضر خدمت ہے ملک کو پڑھے لکھے سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔
٭٭٭٭٭