دشمن کی پردہ داری کیوں ؟

صحافی  |  رفیق ڈوگر

خوف ہے کس کا؟ جو بھی کوئی بیرونی دشمن پاکستان میں سرگرم دہشت گردوں کو اسلحہ اور سرمایہ فراہم کر رہا ہے ہم اس کا نام کیوں نہیں لیتے؟ صدر آصف علی زرداری نے سنڈے ٹائمز کو دئیے انٹرویو میں بتایا تھا کہ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن میں سرگرم دہشت گردوں کو 60 ڈالر فی دہشت گرد یومیہ معاوضہ مل رہا ہے۔ وزیر داخلہ رحمان ملک نے چند روز پہلے بتایا تھا کہ وطن عزیز کے اس باغِ جنت کو برباد کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد چار ہزار کے قریب ہے ان چار ہزار دہشت گردوں کو ماہانہ تقریباً 72 لاکھ ڈالر یا لگ بھگ 58 کروڑ روپے تو ہمارے بیرونی دشمن تنخواہوں میں دے رہے ہیں ان علاقوں کا دورہ کرنے والے صحافی بھی اور فوج والے بھی بتاتے ہیں کہ ان دہشت گردوں کے پاس جدید ترین کمیونیکیشن سسٹم اور ہتھیار ہیں ان علاقوں میں مخصوص جنگ کی بعض ضروریات ایسی ہیں جو ہماری مسلح افواج کے پاس بھی نہیں اسی وجہ سے فوج کی کامیابی کی راہ میں بہت زیادہ دشواریاں ہیں ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار ایک ٹی وی پروگرام میں ایک روز بتا رہے تھے کہ ایک بینک نے کراچی سے ان علاقوں میں اپنی ایک شاخ کو پچاس کروڑ روپے بھیجے تھے وہ پچاس کروڑ آئے کہاں سے تھے یہ تو انہوں نے نہیں بتایا تھا مگر یہ کہا تھا کہ بھیجے وہ ان علاقوں میں سرگرم دہشت گردوں کو ہی گئے تھے۔ خود وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ کچھ عناصر غیر ملکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ آپریشن کے بارے میں قومی اسمبلی میں بیان میں بھی انہوں نے کہا تھا کہ ’’شدت پسند غیر ملکی ایجنڈے پر ملک فتح کرنا چاہتے ہیں ملکی بقا دائو پر لگی تھی اس لئے آپریشن کے سوا چارہ نہیں تھا۔‘‘ چیف آف دی آرمی سٹاف نے قومی اسمبلی میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں کے رہنمائوں کو جو بریفنگ دی تھی اس میں بھی دہشت گردوں کی باہر والے دشمنوں کی طرف سے سرپرستی اور امداد کا ذکر ہوا تھا۔ آل پارٹیز کانفرنس کے شرکا کو بھی اس بارے میں بھی بتایا جانا چاہئے تھا اگر بتایا گیا ہوتا تو وہ لازماً اس کی بھی کھل کر مذمت کرتے اس سے قوم کو اس بیرونی دشمن اور ا س کے ایجنٹوں کے خلاف متحد کرنا بھی آسان ہو جاتا قومی اسمبلی کے ارکان نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا تھا کہ اس بیرونی دشمن کے بارے میں قوم کو بتایا جائے جس کے ایجنڈے پر دہشت گرد کام کر رہے ہیں لیکن نہ تو حکومت کی طرف سے اسمبلی کے ارکان کو بتایا گیا تھا کہ کون سی بیرونی طاقت ان دہشت گردوں کو اتنا زیادہ سرمایہ اور ایسا تباہ کن اسلحہ فراہم کر رہی ہے اور نہ ہی عوام کو کچھ بتایا جا رہا ہے۔ آخر خوف کیا ہے اور کس کا ہے؟ جس بینک نے کراچی سے ان علاقوں میں پچاس کروڑ روپے بھیجے تھے وہ بینک بھی بتا سکتا ہے کہ پچاس کروڑ آئے کہاں سے تھے اور کس نے بھیجے تھے۔ صدر آصف علی زرداری نے سنڈے ٹائمز کو دئیے اسی انٹرویو میں کہا تھا کہ بعض غیرملکی طاقتیں سوات کے عسکریت پسندوں کو سرمایہ فراہم کر رہی ہیں۔ بین الاقوامی برادری کو اس کی چھان بین کرنا چاہئے اور اس معاملے کا نوٹس لینا چاہئے۔ سوال یہ ہے کہ خود تو آپ ان غیر ملکی طاقتوں کے بارے میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان کا نام تک نہیں لیتے نہ ارکان اسمبلی کو ان کے نام بتاتے ہیں نہ قوم کو اس کے ایسے دشمنوں سے آگاہ کرتے ہیں جو اس کی آزادی اور وجود کے خلاف ملک کے اندر اتنی تباہ کن جنگ لڑ رہے ہیں اور لڑتے آئے ہیں بین الاقوامی برادری کیوں نوٹس لے گی اور کس کے خلاف چھان بین کرے گی؟ ممبئی حملوں کی تحقیق شروع کرنے سے بھی پہلے بھارت نے سارا الزام ہم پر لگا دیا تھا اور اس کی ساری قیادت اور چیف آف دی آرمی سٹاف تک نے ہمارے خلاف ہر قسم کی کارروائی اور حملہ تک کی دھمکیاں عام کر دی تھیں۔ بھارتی فضائیہ متحرک ہو گئی تھی اور ہماری فضائی حدود کے اندر تک اس کے طیارے آنے لگے تھے۔ ہمارے ملک کے اندر اتنے عرصہ سے ان بیرونی طاقتوں کے زرخرید عناصر تباہی اور بربادی پھیلا رہے ہیں اور ہم ان میں سے کسی کا نام تک لیتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ کی ہے ہماری حکومت نے ہمارے ان دشمنوں کو بے نقاب کرنے کی کوئی سفارتی مہم شروع؟ اور نہیں تو پاکستان کے دوست اور ہمدرد ممالک میں سے کسی کو ان غیر ممالک کے بارے میں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا؟ اور کوئی نہیں تو ایسے دوست اور ہمدرد ممالک تو اس مداخلت اور امداد کو رکوانے میں اپنا کردار جیسا بھی ہو ادا کر ہی سکتے ہیں۔ کیوں نہیں بلائی گئی ابھی تک او آئی سی کی کوئی میٹنگ اس سلسلے میں؟ آخر ڈر اور خوف کس کا ہے اور کس سے ہے؟ صدر مکرم اپنی بی بی جی کے قاتلوں کو جانتے ہیں مگر بتاتے کسی کو نہیں نہ اس کے بچوں کو نہ اس کی پارٹی کو وہ اس ملک اور قوم کے وجود کے دشمنوں کو جانتے ہیں مگر بتاتے کسی کو نہیں نہ اس کی منتخب پارلیمنٹ کو نہ اس کی سیاسی قیادت کو وہ دہشت گردوں کے خلاف اس جنگ کو بارک حسین اوباما ‘ گورڈن برائون اور حامد کرزئی کے ساتھ مل کر جیتنے کا پروگرام تو بنا چکے ہیں لیکن کیا انہوں نے بارک حسین اوباما اور گورڈن برائون کو بتایا تھا کہ اس جنگ میں ان کے خلاف لڑنے والوں کو سرمایہ اور اسلحہ کون فراہم کر ر ہا ہے اور کن راستوں اور ذرائع سے فراہم کرتا آیا ہے؟ اگر انہوں نے بتایا ہوتا تو اوباما اور گورڈن برائون ہی شاید اس کا نوٹس لیتے۔ ان غیر ملکی طاقتوں کے خلاف بھی صدر مکرم کی کوئی مدد کرتے کہ وہ اس جنگ کو جیتنا چاہتے ہیں اور ان دہشت گردوں کو اپنا دشمن بتاتے آئے ہیں صدر مکرم باقی تو سب معاملات میں اوباما اور اس کی انتظامیہ سے ہر بات شیئر کرتے ہیں کیا انہوں نے ایک اخبار کے ذریعے بین الاقوامی برادری سے چھان بین کی اپیل کرنے سے پہلے اس برادری کے ان لیڈروں سے بھی کوئی ایسی اپیل کی تھی؟ کی تھی تو کیا جواب تھا اوباما کا۔ اس کی انتظامیہ کا اور گورڈن برائون کا؟ کچھ تو بتائیں صدرمکرم اس قوم کو کہ آخر یہ ماجرا ہے کیا؟ کون ہیں وہ غیر ملکی طاقتیں جو سوات سے بلوچستان تک پھیلے ہمارے دشمن دہشت گردوں کو اتنے وافر وسائل فراہم کر رہی ہیں؟ اگر وہ اتنی طاقتور ہیں کہ ان کا نام تک نہیں بتایا جا سکتا تو کیسے جیتیں گے ان کی خلاف جنگ‘ صدر مکرم؟